உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: پلوامہ میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے خلاف پائے گئے پوسٹرز، جانئے اس میں کیا لکھا ہے

    J&K News: پلوامہ میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے خلاف پائے گئے پوسٹرز

    J&K News: پلوامہ میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے خلاف پائے گئے پوسٹرز

    Jammu and Kashmir : جموں و کشمیر کے پلوامہ میں دہشت گردوں اور دہشت گردانہ کاروائیوں کے خلاف پوسٹر چسپاں پائے گئے۔ قصبہ پلوامہ سمیت ضلع کے مختلف علاقوں میں پائے گئے پوسٹروں میں دہشت گردوں کی جانب سے کی گئی عام شہریوں کی ہلاکتوں کی مذمت کی گئی ہے ۔

    • Share this:
    پلوامہ : جموں و کشمیر کے پلوامہ میں دہشت گردوں اور دہشت گردانہ کاروائیوں کے خلاف  پوسٹر چسپاں پائے گئے۔ قصبہ پلوامہ سمیت ضلع کے مختلف علاقوں میں پائے گئے پوسٹروں میں دہشت گردوں کی جانب سے کی گئی عام شہریوں کی ہلاکتوں کی مذمت کی گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق  قصبہ پلوامہ میں جمعرات کی صبح لوگوں نے مختلف مقامات پر دہشت گردی مخالف پوسٹرچسپاں پائے ۔ قصبہ پلوامہ کے مخلتف مقامات پر پائے گئے پوسٹروں میں ٹیچر رجنی بالا اور بینک منیجر کے علاوہ دیگر عام شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کی گئی ہے اور ان دہشت گردانہ کاروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : وادی کے بیشتر علاقوں میں میلہ کھیر بھوانی کی تقریبات رہی پھیکی، جانیے کیوں


    پوسٹروں میں یہ بھی لکھا تھا کہ ہم عام لوگوں کو امن سے رہنے دو ۔ پوسٹروں پر کسی بھی تنظیم یا پھر رضاکار جماعت کا نام نہیں ہے ۔ تاہم اس سے قبل بھی پلوامہ ضلع میں علاحدگی پسندوں اور ملی ٹینٹوں کے خلاف پوسٹر پائے جاچکے ہیں۔ وادی کشمیر میں ٹارگٹ کلنگز کی سیاسی سماجی اور دینی علما کے علاوہ عام لوگوں کی جانب سے مذمت کی گئی ہے اور اب ان دہشت گردانہ واقعات کے خلاف پوسٹر بھی پائے جارہے ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے : ڈی ڈی سی حلقہ لارنو کیلئے تیسری مرتبہ ہوئی ووٹوں کی گنتی، جانئے اب کس کو ملی جیت


    کولگام میں دہشت گردوں کی کاروائی میں جاں بحق ہوئی خاتون ٹیچر رجنی بالا کی یاد میں محکمہ تعلیم کی جانب سے رجنی بالا کی یاد میں تمام تعلیمی اداروں میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ۔

    خیال رہے ٹارگٹ کلنگز میں کشمیری پنڈت راہل بھٹ سے لے کر امرین بٹ اور رجنی بالا کے علاوہ ای ڈی بی کے بینک منیجر کو دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: