ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

سرینگر: کشمیر میں کوؤں میں برڈ فلو کی تصدیق کے بعد پولٹری صنعت متاثر

حیرت کی بات یہ ہے کہ کووڈ 19 جیسی مہلک بیماری کا پھیلاو جب کشمیر میں عروج پر تھا تب لوگوں کی ایک بڑی تعداد ماسک نہیں پہن رہی تھی لیکن اب برڈ فلو جس کے پھیلاو کا امکان کافی کم ہے اس پر اتنی تشویش ہے۔

  • Share this:
سرینگر: کشمیر میں کوؤں میں برڈ فلو کی تصدیق کے بعد پولٹری صنعت متاثر
حیرت کی بات یہ ہے کہ کووڈ 19 جیسی مہلک بیماری کا پھیلاو جب کشمیر میں عروج پر تھا تب لوگوں کی ایک بڑی تعداد ماسک نہیں پہن رہی تھی لیکن اب برڈ فلو جس کے پھیلاو کا امکان کافی کم ہے اس پر اتنی تشویش ہے۔

سرینگر: کشمیر کے پانچ اضلاع میں کوؤں میں برڈ فلو کی تصدیق کے بعد عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہئے ۔ جانچ کے دوران ابھی تک پولٹری کے کسی بھی نمونہ میں برڈ فلو نہیں پایا گیا ہے لیکن سرینگر سمیت کئی اضلاع میں لوگوں نے مُرغ کھانا ہی چھوڑ دیا ہے۔ پولٹری صنعت سے وابستہ ہزاروں لوگ خریدار ی میں کمی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ اربن پولٹری ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر منظور ڈار کا کہنا ہے کہ خریداری میں پچاس فیصد کی کمی آگئی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ عوام میں کم جانکاری کی وجہ سے جب بھی برڈ فلو کا ذکر آتا ہے تو لوگوں کے ذہن میں مرغ آجاتا ہے۔ منظور ڈار کہتے ہیں۔ کہ اگر کوؤں میں برڈ فلو پایا گیا مرغوں کا کیا قصور۔ وہ اس صورتحال کے لئے سرکاری افسروں کو بھی ذمہ دار مانتے ہیں، کیونکہ عوام تک جانکاری نہیں پہنچائی گئی۔

کشمیر میں پولٹری کی صنعت تقریبن 400 کروڑ کی صنعت ہئے اور نوجوانوں نے پچھلے کچھ سال میں کئی فارم کھولے ہیں اور صنعت کو بڑھاوا دینے کے ساتھ ساتھ روزگار پیدا گیا ہے۔ جموں کشمیر کی حکومت نے شروعات میں پولٹری کی درآمد پر پابندی لگادی تھی جو بعد میں واپس لی گئی۔ ڈیوزنل کمشمنر کشمیر پی کے پولے نے بتایا کہ درآمد کی جارہی پولٹری کی مکمل کی جانچ رہی ہئے اور برڈ فلو کے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے گئے ہیں۔ ادھر ماہرین کا کہنا ہئے کہ مرغ پکا کے کھانے میں کوئی

خطرہ نہیں لیکن اس کے باوجود کئی لوگ احتراض کر رہے ہیں۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ کووڈ 19 جیسی مہلک بیماری کا پھیلاو جب کشمیر میں عروج پر تھا تب لوگوں کی ایک بڑی تعداد ماسک نہیں پہن رہی تھی لیکن اب برڈ فلو جس کے پھیلاو کا امکان کافی کم ہے اس پر اتنی تشویش ہے۔

Published by: Sana Naeem
First published: Feb 03, 2021 08:55 PM IST