உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں۔کشمیر میں Power Crisis: عوام پریشان، بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر، جانئے اتنظامیہ نے بجلی کے بحران سے نمٹنے کیلئے کیا اٹھایا قدم؟

    Power crisis in Jammu and Kashmir: عوام کا کہنا ہے کہ وہ پہلی بار بجلی کے اتنے بڑے بحران سے گزرے ہیں۔ ایک طالب علم بھانو نے کہا کہ رواں برس قبل از وقت ہی جموں میں شدید گرمی پڑ رہی ہے اور گزشتہ چند ہفتوں سے بجلی کی کم دستیابی نے ان کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔

    Power crisis in Jammu and Kashmir: عوام کا کہنا ہے کہ وہ پہلی بار بجلی کے اتنے بڑے بحران سے گزرے ہیں۔ ایک طالب علم بھانو نے کہا کہ رواں برس قبل از وقت ہی جموں میں شدید گرمی پڑ رہی ہے اور گزشتہ چند ہفتوں سے بجلی کی کم دستیابی نے ان کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔

    Power crisis in Jammu and Kashmir: عوام کا کہنا ہے کہ وہ پہلی بار بجلی کے اتنے بڑے بحران سے گزرے ہیں۔ ایک طالب علم بھانو نے کہا کہ رواں برس قبل از وقت ہی جموں میں شدید گرمی پڑ رہی ہے اور گزشتہ چند ہفتوں سے بجلی کی کم دستیابی نے ان کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔

    • Share this:
    Power crisis in Jammu and Kashmir: جموں و کشمیر گزشتہ چند ہفتوں سے بجلی کے بحران سے دو چار ہے۔ کشمیر خطے کے ساتھ ساتھ جموں ڈیوژن میں بھی بجلی کی کم دستیابی کے سبب لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ خطے میں موجودہ شدید گرمی کے درمیان بجلی کی بے قاعدگی سے لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ بجلی کی کم دستیابی کی وجہ سے گرمی سے راحت پہنچانے والے آلات جیسے پنکھے استعمال نہیں ہو پارہے ہیں۔ لوگ ماضی میں استعمال کی جانے والی روایتی پنکھیوں کا استعمال کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ نیوز18 اردو نے جموں شہر کے کئی علاقوں میں جاکر بجلی کے بحران سے پیدا شدہ حالات کاجائزہ لینے کے دوران پایا کہ عام لوگ بجلی سپلائی کی موجودہ صورتحال سے گوں ناگوں مصائب میں مبتلا ہوچکے ہیں۔  اپنی رہائش گاہوں میں اندر رہنے پر مجبور طالب علم اور ان کے والدین شدید گرمی اور بجلی کی عدم دستیابی کے باوجود ہاتھ سے چلنے والی پنکھیوں کا استعمال کرتے دیکھے گئے۔ تاہم دیگر لوگ جو گرمی کے دنوں میں اپنے آپ کو زیادہ درجہ حرارت سے بچانے کے لیے کولنگ گیجٹس کا استعمال کرتے ہوئے گھر کے اندر رہتے تھے، خود کو کچھ وقت آنگنوں میں گزارنے کو ترجیح دیتے نظر آئے۔

    جموں ضلع کے ساتھ ساتھ ڈیوژن کے تمام حصوں میں ایسی ہی صورتحال دیکھی کو مل رہی ہے۔ حکام کا کہناہے کہ بجلی کی پیداوار اور مانگ میں تفاوت ہونے کے پیش نظر یہ صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں بجلی کی مانگ 3000 میگاواٹ کے مقابلے میں حکومت تقریباً 1700 میگاواٹ بجلی ہی فراہم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ جموں ڈویژن میں یہ مانگ تقریباً 1300 میگاواٹ ہے تاہم محض 700 میگاواٹ بجلی ہی نہیں مہیا کی جارہی ہے۔عوام کا کہنا ہے کہ وہ پہلی بار بجلی کے اتنے بڑے بحران سے گزرے ہیں۔ ایک طالب علم بھانو نے کہا کہ رواں برس قبل از وقت ہی جموں میں شدید گرمی پڑ رہی ہے اور گزشتہ چند ہفتوں سے بجلی کی کم دستیابی نے ان کی مشکلیں بڑھا دی ہیں۔

    یہ بھی پڑھیں: کچھ کرنے کا جذبہ ہو تو معذوری بھی نہیں بنتی رکاوٹ، بینائی سے محروم لا گریجویٹ بنا سرکاری وکیل، جانئے کیسے

    نیوز18 اردو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "اس سال جموں میں پہلے ہی گرمی کا موسم شروع ہوگیا اور کچھ ہفتوں سے بجلی کی کٹوتی power shortage  بھی بڑھ چکی ہے جس کی وجہ سے ہمیں کافی مشکلیں پیش آرہی ہیں۔ بجلی کی اس کٹوتی کی وجہ سے ہم اپنی پڑھائی ٹھیک سے نہیں کر پا رہے ہیں کیونکہ گرمی کی وجہ سے نیند بھی پوری نہیں ہو پارہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ہماری مشکلیں دور ہوسکیں۔" اسی بستی میں اپنے بچوں کو پڑھائی میں مدد کرنے والی ایک گھریلو خاتون ششما دیوی نے نیوز18 اردو کو بتایا کہ بجلی کی فراہمی میں مسلسل خلل بچوں کی تعلیم کو بری طرح متاثر کررہی ہے۔ انہوں نے کہا، " پچھلے دو سال کے دوران بچے اسکول نہیں جا پانے کی وجہ سے ان کی تعلیم کافی حد تک متاثر ہوگئی اور اب جب بچے اسکول جانے لگے تو سرکار نے بجلی کی لگاتار فراہمی کو بند کردیا جس کی وجہ سے نہ صرف ہمارے بچے بلکہ ہم بھی کافی پریشان ہیں"۔

    عام لوگوں کے ساتھ ساتھ تاجر طبقہ بھی خطے میں بجلی کی زبردست کٹوتی سے متاثر ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ان کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ آئس کریم کا کاروبار کرنے والے چھوٹے تاجر سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ جموں کے ایک مقامی باشندے اشوک کمار نے کہاکہ عام لوگ بجلی کی بگڑی ہوئی صورتحال سے پریشان ہوچکے ہیں۔ نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا،" ہم صبح روزگار کی تلاش میں نکل جاتے ہیں اور روز مرہ کا کام انجام دینے کے بعد شام کو اس امید سے گھر لوٹتے ہیں کہ کھانا کھانے کے بعد پنکھا یا کولر کی ٹھنڈی ہوا ہمیں آرام فراہم کرے گی لیکن گزشتہ دو تین ہفتوں سے بجلی کی کم دستیابی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہوپایا ہے۔رات کے وقت بجلی کی عدم دستیابی کے باعث نیند بھی پوری نہیں ہو پاتی جس کا اثر دن کے کام کاج پر پڑتا ہے" آئس کریم کا کاروبار کرنے والے ایک تاجر نے بتایا کہ بجلی کے بحران کے سبب ان کی آمدنی میں کافی گراوٹ آئی ہے۔ منیش بھردواج نامی تاجر نے اس نمائندےکو بتایا،" ہم آئس کریم بیچنے کا کاروبار کرتے ہیں لہٰذا ہمیں بجلی کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے تاہم پچھلے کچھ ہفتوں سے بجلی سپلائی کی خراب صورتحال سے ہم کافی پریشان ہیں۔

    مزید پڑھئے: جموں و کشمیر میں غیر ملکی دہشت گردوں کی تعداد میں اضافہ باعث تشویش، جانیے کیا کہتے ہیں دفاعی ماہرین

    بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہمیں جنریٹر کا استعمال کرنا پڑرہا ہے۔ جس کے باعث ہماری آمدنی میں بتدریج کمی واقع ہورہی ہے کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ڈیزل اور پٹرول کتنا مہنگا ہورہا ہے" جموں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر ارون گپتا کاکہناہے کہ عام لوگوں کی طرف سے یہ کہا جارہا ہے کہ اگر انتظامیہ صارفین کو بجلی فراہم نہیں کرپاتی ہے تو انہیں صارفین سے فیس بھی وصول نہیں کرنی چاہیے۔

    انہوں نے کہا،" جموں میں بجلی کی فراہمی کافی افسوس ناک ہے بارہ سے چودہ گھنٹے تک بجلی بند رہنا تشویشناک ہے عام لوگ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ بجلی کی لگاتار فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور بجلی کو شیڈول کے مطابق ان کے ساتھ صلاح مشورہ کیاجائے۔تاکہ عام لوگ اسی شیڈول پرعمل کریں"یوٹی انتظامیہ نے کہا کہ بجلی کی بڑھتی ہوئی مانگ م کو پورا کرنے کے لیے، حکومت ہند نے J&K کو 207 میگاواٹ اضافی بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیاہے جس سے UT میں بجلی کی دستیابی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بجلی کا یہ اضافی کوٹہ UT میں بجلی کی صورتحال کو کس حد تک بہتر کرے گا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: