ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

تشدد کی کشمیر میں کوئی جگہ نہیں ، یہ ایک وائرس کی طرح ہے ، جس سے جسم کو ہر حال میں نجات ملنی چاہئے : صدرجمہوریہ

Jammu and Kashmir News : صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے کہا کہ تشدد کی کشمیر میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ (تشدد) ایک وائرس کی طرح ہے ، جس سے جسم کو ہر حال میں نجات ملنی چاہئے۔ انہوں نے کشمیر کو ملک کے لئے امید کی ایک کرن قرار دیتے ہوئے نئی نسل کو اپنی عظیم وراثت سے سبق حاصل کرنے کی تاکید کی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 27, 2021 11:53 PM IST
  • Share this:
تشدد کی کشمیر میں کوئی جگہ نہیں ، یہ ایک وائرس کی طرح ہے ، جس سے جسم کو ہر حال میں نجات ملنی چاہئے : صدرجمہوریہ
تشدد کی کشمیر میں کوئی جگہ نہیں ، یہ ایک وائرس کی طرح ہے ، جس سے جسم کو ہر حال میں نجات ملنی چاہئے : صدرجمہوریہ

سری نگر: صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے کہا کہ تشدد کی کشمیر میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ (تشدد) ایک وائرس کی طرح ہے ، جس سے جسم کو ہر حال میں نجات ملنی چاہئے۔ انہوں نے کشمیر کو ملک کے لئے امید کی ایک کرن قرار دیتے ہوئے نئی نسل کو اپنی عظیم وراثت سے سبق حاصل کرنے کی تاکید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ثقافتی و روحانی اثرات پورے ملک پر مرتسم ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں زمانہ قدیم سے ہی مختلف مذہبوں کے لوگ مل جل کر رہے ہیں ، لیکن بدقسمتی سے یہاں کی اس غیر معمولی مذہبی رواداری کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔


صدر جمہوریہ رامناتھ کووند نے منگل کو شہرہ آفاق ڈل جھیل کے کنارے پر واقع ایس کے آئی سی سی میں کشمیر یونیورسٹی کے 19 ویں سالانہ جلسہ تقسیم اسناد سے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ میں کشمیر کی نئی نسل سے تاکید کرتا ہوں کہ وہ اپنی عظیم وراثت سے سیکھیں، انہیں یہ معلوم ہونا چاہئے کہ کشمیر ہمیشہ باقی ملک کے لئے امید کی ایک کرن رہا ہے اور کشمیر کے ثقافتی و روحانی اثرات باقی ملک پر مرتسم ہوئے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں ہمیشہ سے مختلف مذہبوں کے لوگ مل جل کر رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے اس غیر معمولی مذہبی رواداری کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور تشدد جو کھی کشمیریت کا حصہ نہیں رہا ہے، معمول بن گیا۔


صدر جمہوریہ کووند نے کہا کہ غیروں نے کشمیر پر مسلط ہونے کی کوشش کی ، جس کو ہم ایک عارضی وائرس ہی قرار دے سکتے ہیں جو جسم پر حملہ آور ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں اب نئی شروعات ہوئی ہیں تاکہ اس کی شان رفتہ کو بحال کیا جا سکے۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ جمہوریت میں تمام اختلافات کو ختم کرنے اور بہترین شہری پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔


صدر جمہوریہ نے کہا کہ کشمیر اس کو پہلے ہی سمجھ چکا ہے۔ جمہوریت نے کشمیریوں کی اپنا مستقبل خود بنانے اور ایک پرامن اور خوشحال مستقبل کی تعمیر میں رہنمائی کی ہے۔ اس حوالے سے نوجوانوں، خاص طور پر خواتین کی بڑی ذمہ داریاں ہیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی زندگیوں اور کشمیر کی تعمیر نو کے اس موقع کو گنوائیں گے نہیں ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ کشمیر کے نوجوان مختلف شعبوں میں بلندیوں کو چھو کر اپنا لوہا منوا رہے ہیں۔

اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ کشمیر یونیورسٹی میں اس جلسہ تقسیم اسناد میں ڈگریاں حاصل کرنے والوں میں 70 فیصد خواتین ہیں اور طلائی تمغے حاصل کرنے والوں میں بھی اتنی ہی خواتین ہیں، صدر جمہوریہ نے کہا کہ یہ صرف اطمینان کی بات نہیں بلکہ فخر کی بات ہے کہ ہماری لڑکیاں، لڑکوں کے برابر نہیں بلکہ کہیں کہیں ان سے بھی آگے بڑھ کر کار کارکردگی پیش کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس جذبے کی تمام خواتین میں بیداری ضروری ہے تاکہ ایک نیا ہندوستان تعمیر کیا جا سکے، ایک ایسا ہندوستان جو کومیٹی آف نیشنز میں صف اول میں ہو۔ اور اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انسانی وسائل اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سیڑھی کی حیثیت رکھتی ہے ۔

صدر جمہوریہ نے کہا کہ میں نے کشمیر کو جنت بروئے زمین دیکھنے کا خواب دیکھا ہے جس کے شرمندہ تعبیر ہونے کا انحصار خاص طور پر نوجوانوں اور خواتین پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا یہ خواب دیر سویر ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔ کشمیر کے قدرتی حسن کی تعریف میں موصوف صدر نے کہا کہ یہ ایک ایسا مقام ہے جس کی خوبصورتی بیان سے باہر ہے۔

 
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 27, 2021 11:53 PM IST