உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: اسمبلی اور آر ایس کی نمائندگی کی غیر موجودگی میں جموں و کشمیر سے صدر کے امیدوار 9280 ووٹوں سے محروم

    J&K News: اسمبلی اور آر ایس کی نمائندگی کی غیر موجودگی میں جموں و کشمیر سے صدر کے امیدوار 9280 ووٹوں سے محروم ۔ فائل فوٹو ۔

    J&K News: اسمبلی اور آر ایس کی نمائندگی کی غیر موجودگی میں جموں و کشمیر سے صدر کے امیدوار 9280 ووٹوں سے محروم ۔ فائل فوٹو ۔

    Jammu and Kashmir :۔ 18 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے جنگ کی لکیریں کھینچنے کے ساتھ اپوزیشن کے امیدوار یشونت سنہا کو جموں و کشمیر سے 2100 ووٹ ملنے کا امکان ہے جب کہ ان کی حریف اور بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کی مضبوط امیدوار دروپدی مرمو کو 1400 ووٹ ملنے کا امکان ہے ۔

    • Share this:
    جموں : 18 جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے جنگ کی لکیریں کھینچنے کے ساتھ اپوزیشن کے امیدوار یشونت سنہا کو جموں و کشمیر سے 2100 ووٹ ملنے کا امکان ہے جب کہ ان کی حریف اور بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کی مضبوط امیدوار دروپدی مرمو کو  1400 ووٹ ملنے کا امکان ہے ۔ جموں و کشمیر سے صرف پانچ لوک سبھا ممبران 18 جولائی کو ہونے والے 15ویں صدارتی انتخاب کے لیے اپنا ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ گنتی 21 جولائی کو مقرر ہے جبکہ صدر رام ناتھ کووند 25 جولائی کو اپنی مدت کار پوری کریں گے۔

    پانچ ممبران پارلیمنٹ جو جموں و کشمیر سے صدارتی انتخاب کے لیے ووٹ ڈالیں گے، ان میں وزیر اعظم کے دفتر (PMO) میں مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ اور جگل کشور شرما، دونوں بی جے پی سے ہیں، اور ڈاکٹر فاروق عبداللہ، محمد اکبر لون اور حسنین مسعودی، نیشنل کانفرنس سے ہیں۔ مسعودی نے بتایا کہ یشونت سنہا اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار ہیں اور نیشنل کانفرنس کے ممبران اسمبلی انہیں ووٹ دیں گے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ کے سیاح کی جان بچانے کیلئے کشمیری ٹورسٹ گائیڈ نے دے دی اپنی جان


    ہر ممبر پارلیمنٹ کے ووٹ کی قیمت 700 ہے، جس کا مطلب ہے کہ سنہا کو جموں و کشمیر سے 2100 ووٹ ملیں گے جبکہ مرمو کو 1400 ووٹ ملیں گے۔ جموں و کشمیر بھی 2800 ووٹوں سے محروم رہے گا کیونکہ اسمبلی کی غیر موجودگی میں راجیہ سبھا میں اس کی کوئی نمائندگی نہیں ہے ۔ جموں و کشمیر میں راجیہ سبھا کی چار سیٹیں ہیں اور ہر ایم پی کے پاس 700 ووٹ ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ کسی قانون ساز اسمبلی اور راجیہ سبھا میں کوئی نمائندگی نہ ہونے کے باعث جموں و کشمیر صدارتی انتخاب میں 9280 ووٹ نہیں ڈال سکے گا۔

    جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کی قانون ساز اسمبلی اعلیٰ آئینی عہدے کے انتخاب کی تاریخ میں دوسری مرتبہ صدارتی انتخاب کا حصہ نہیں بنے گی۔ بتادیں کہ ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے تحلیل ہونے کی وجہ سے صدارتی انتخابات کا حصہ نہ بننے کی مثالیں موجود ہیں ۔ اس طرح کی پہلی مثال 1974 میں گجرات کی ہے۔ نیز آسام، ناگالینڈ اور جموں و کشمیر کی اسمبلیاں بھی تحلیل ہونے کی وجہ سے بعد کے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکی تھیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: یاترا کو ہر لحاظ سے محفوظ بنانے کیلئے پہلگام اور بال تل میں ماک ڈرلز


    موجودہ معاملے میں جموں اور کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی تشکیل ابھی باقی ہے جب کہ سابقہ ​​ریاست کو 2019 میں جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ جموں و کشمیر تنظیم نو ایکٹ جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے لیے ایک قانون ساز اسمبلی کا انتظام کرتا ہے، لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر انتخابات کا انعقاد ہونا باقی ہے۔ لداخ کو بغیر مقننہ کے UT بنا دیا گیا ہے۔

    1992 میں جموں و کشمیر اور ناگالینڈ کی قانون ساز اسمبلیاں تحلیل کر دی گئی تھیں اور اس طرح وہ 10ویں صدارتی انتخابات کا حصہ نہیں بن سکی تھی، جس میں شنکر دیال شرما کو اعلیٰ آئینی عہدے پر منتخب کیا تھا ۔ 1992 میں صدارتی انتخابات میں جموں و کشمیر کی نمائندگی نہیں ہوئی تھی کیونکہ 1991 میں شورش کی وجہ سے سابقہ ​​ریاست میں لوک سبھا کا انتخاب بھی نہیں ہو سکا تھا۔

    قابل ذکر ہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے ایم پی کے ووٹ کی value  پہلے 708 تھی، جو جموں و کشمیر میں اسمبلی نہ ہونے کی وجہ سے کم ہو کر 700 رہ گئی ہے۔ صدر کے انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ممبران پارلیمنٹ اور ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ایم ایل ایز شامل ہیں۔  ایم ایل سی کے ساتھ ساتھ نامزد ایم ایل ایز کو صدارتی انتخاب میں ووٹنگ کا حق نہیں ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: