உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا- محبوبہ مفتی کے بیان میں کچھ بھی غلط نہیں

    محبوبہ مفتی کو ملی کانگریس کی حمایت، بی جے پی لیڈران کو دیا سخت جواب

    محبوبہ مفتی کو ملی کانگریس کی حمایت، بی جے پی لیڈران کو دیا سخت جواب

    سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہ بی جے پی کے تین سینئر وزرا سیتا رمن، مختار عباس نقوی اور انوراگ ٹھاکر نے کشمیر سے متعلق محبوبہ مفتی کے بیان کو ٹھکرا کر اپنی بے خبری اور جہالت کا ثبوت دیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      سری نگر: سابق مرکزی وزیر اور کانگریس کے سینئر لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہ بی جے پی کے تین سینئر وزرا نرملا سیتا رمن، مختار عباس نقوی اور انوراگ ٹھاکر نے کشمیر سے متعلق جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے بیان کو ٹھکرا کر اپنی بے خبری اور جہالت کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی نے کشمیر کے جھگڑے کو حل کرنے کے سلسلے میں پاکستان کے رول کا ذکر کیا ہے، جو ایک سچائی ہے۔
      کانگریس لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے یہ کہا ہے کہ کشمیر کا جھگڑا بات چیت سے طے ہو سکتا ہے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے علاوہ پاکستان کے ساتھ بھی بات ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا: 'اس بیان میں کیا غلط ہے؟ کیا ساری دنیا نے پاکستان کو اس جھگڑے کا بنیادی فریق تسلیم نہیں کیا ہے؟ کیا پاکستان کو بحیثیت فریق اقوام متحدہ نے تسلیم نہیں کیا ہے؟'




      پروفیسر سیف الدین سوز نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ محبوبہ مفتی نے یہ کہا ہے کہ کشمیر کا جھگڑا بات چیت سے طے ہو سکتا ہے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے علاوہ پاکستان کے ساتھ بھی بات ہونی چاہئے۔
      پروفیسر سیف الدین سوز نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ محبوبہ مفتی نے یہ کہا ہے کہ کشمیر کا جھگڑا بات چیت سے طے ہو سکتا ہے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے علاوہ پاکستان کے ساتھ بھی بات ہونی چاہئے۔

      سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا کہ بی جے پی کے وزرا نے دراصل اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ وہ واقعات نہیں بلکہ پروپگنڈا پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا: 'کشمیر کا جھگڑا حل کرنے کی صحیح تجویز یہی ہے کہ بات چیت کا دروازہ کھلا جانا چاہئے اور جموں و کشمیر کے لوگوں کے علاوہ پاکستان سے بھی بات ہونی چاہئے۔'

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: