ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

این سی پی سی آر نے جموں وکشمیر پولیس کو ٹویٹرکےخلاف مقدمہ درج کرنےکادیا حکم، کیا ہے وجہ ؟

این سی پی سی آر نے جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباگ سنگھ کو ایک خط میں لکھا ہے ، “کمیشن کو ایک شکایت موصول ہوئی ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ویڈیو میں غیر قانونی دہشت گردی کی سرگرمیوں کی حمایت اور اس کے فروغ کے لئے ایک بچے کا استعمال کرتے دیکھا گیاہے ۔

  • Share this:
این سی پی سی آر نے جموں وکشمیر پولیس کو ٹویٹرکےخلاف مقدمہ درج کرنےکادیا حکم، کیا ہے وجہ ؟
ٹویٹر کا دفتر۔(تصویر:shutterstock)۔

بچوں کے حقوق کے تحفظ کے قومی کمیشن ( NCPCR) نے ٹویٹر انڈیا کے منیجنگ ڈائریکٹر منیش مہیشوری اور پالیسی منیجر شگفتہ کامران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لئے جموں وکشمیر پولیس کو خط لکھا ہے۔ یہ شکایت ایک ٹویٹ کے حوالے سے کی گئی ہے۔جس میں ایک بچہ ہوا میں فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور 4-5 افراد اسے بندوق استعمال کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔


این سی پی سی آر نے جموں و کشمیر کے ڈی جی پی دلباگ سنگھ کو ایک خط میں لکھا ہے ، “کمیشن کو ایک شکایت موصول ہوئی ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ویڈیو میں غیر قانونی دہشت گردی کی سرگرمیوں کی حمایت اور اس کے فروغ کے لئے ایک بچے کا استعمال کرتے دیکھا گیاہے ۔ اتناہی نہیں اس ویڈیو میں جموں و کشمیر اور لداخ کے وسطی علاقوں میں ٹویٹر کا استعمال کرتے ہوئے بھرتی کے کاموں میں دہشت گرد تنظیموں کی مدد کا اشارہ دیاگیاہے۔ ویڈیو دیکھنے کے بعد معلوم ہوا کہ اس میں موجود دیگر افراد بھی دہشت گرد تنظیم سے وابستہ ہیں اور وہ بچے کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کی تربیت دے رہے ہیں۔


ٹویٹر کے ترجمان نے کہا کہ ٹویٹر ہندوستان کے ساتھ گہری وابستگی رکھتا ہے
ٹویٹر کے ترجمان نے کہا کہ ٹویٹر ہندوستان کے ساتھ گہری وابستگی رکھتا ہے


کمیشن کے مطابق ، شکایت کنندہ نے این سی پی سی آر کو لکھا ہے کہ ٹویٹر انصار غزو اہند جیسی دہشت گرد تنظیموں کے حامیوں کو اپنے پلیٹ فارم پر بچوں کے استعمال کے ذریعے ہندوستان کے خلاف دہشت گردوں کی بھرتی کرنے جیسی سرگرمیوں کی ویڈیوزٹویٹ کرنے کی اجازت دے رہاہے۔ این سی پی سی آر نے اپنے خط میں لکھا ، "ویڈیو میں بچوں کے حقوق کی بنیادی خلاف ورزی کے پیش نظر ، کمیشن نے بچوں کے حقوق کے قومی تحفظ قانون 2005 کی دفعہ 13 (1) (جے) کے تحت سنجیدگی اختیار کی ہے۔"

ٹیلی گرام کے خلاف بھی ہو کارروائی

این سی پی سی آر نے ان شکایات کی تحقیقات کرنے اور ویڈیو کرنے والے پہلے یوزر کی شناخت کرنے کے لئے جموں وکشمیر پولیس کو خط لکھا ہے۔اس کا پتہ لگانے پر ، متعلقہ دفعات کے تحت بھی ایف آئی آر درج کی جانی چاہئے۔ خط کے مطابق ، "اگر ویڈیو آپ کے دائرہ اختیار سے باہر کی ہے تو ، اسی دن کمیشن کو آگاہ کریں تاکہ کمیشن اس معاملے میں مناسب کارروائی کر سکے۔"

علامتی تصویر
علامتی تصویر


کمیشن نے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ ایسی پوسٹس اور ویڈیوز عوامی مفاد اور ہندوستان کی خودمختاری کے لئے خطرہ ہیں۔ کمیشن کے خط کے مطابق ، "اس طرح کی پوسٹس اور ویڈیوز کی گردش تشویش کا باعث ہے کیونکہ ٹویٹر کی پالیسی 13 سال سے زیادہ عمر کے بچوں کو اپنا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ یہ ویڈیو ٹیلی گرام گروپ میں بھی شیئر کی گئی تھی۔ ایسے مواد کو پوسٹ کرنے کی اجازت دینے کے لئے ٹویٹر پر سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ ایسی پوسٹوں کی اجازت دے کر ، ٹویٹر نے آئی ٹی ایکٹ 2000 کے سیکشن 79 ، آئی ٹی کے نئے رولز -2021 کی خلاف ورزی کی ہے۔

کمیشن نے کہا کہ جہاں تک یہ معلوم ہے ، ٹویٹر نے ابھی تک آئی ٹی کے نئے قواعد کے تحت کوئی تعمیل افسر ، نوڈل شکایتی افسر مقرر نہیں کیا ہے ، لہذا اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹویٹر کو ہندوستان میں ایک بیچوان کی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ این سی پی سی آر نے اس معاملے میں جموں وکشمیر پولیس کو ٹیلی گرام کے خلاف ضروری کارروائی کرنے اور کارروائی کی رپورٹ 7 روز میں کمیشن کو بھیجنے کی ہدایت دی ہے۔
Published by: Mirzaghani Baig
First published: Jul 06, 2021 08:03 AM IST