உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: کشمیری مائیگرنٹ ملازمین کا گزشتہ تین ماہ سے جموں میں احتجاجی دھرنا جاری

    J&K News: کشمیری مائیگرنٹ ملازمین کا گزشتہ تین ماہ سے جموں میں احتجاجی دھرنا جاری

    J&K News: کشمیری مائیگرنٹ ملازمین کا گزشتہ تین ماہ سے جموں میں احتجاجی دھرنا جاری

    Jammu and Kashmir : وزیر اعظم ایمپلائیمنٹ پیکیج کے تحت وادی کشمیر میں تعینات کشمیری مائیگرنٹ ملازمین گزشتہ تین ماہ سے جموں میں احتجاجی دھرنے پر ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Jammu | Srinagar
    • Share this:
    جموں : وزیر اعظم ایمپلائیمنٹ پیکیج کے تحت وادی کشمیر میں تعینات کشمیری مائیگرنٹ ملازمین گزشتہ تین ماہ سے جموں میں احتجاجی دھرنے پر ہیں۔ تین ماہ قبل وادی میں دہشت گردوں کے ہاتھوں اقلیتی فرقے کے لوگوں خاص کر مائیگرنٹ ملازمین کی لگاتار ہلاکتوں کے بعد سے یہ ملازمین احتجاج پر ہیں۔ تین ماہ گزر جانے کے بعد بھی سرکار ان ملازمین کے بارے میں کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کر پائی ہے اور یہ لوگ اپنے مطالبے کو لے کر دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان ملازمین کا کہنا ہےکہ ایسے حالات میں وادی میں کام کرنا ان کےلئے خطرے سے خالی نہیں ہے، کیونکہ دہشت گرد چُن چُن کر کشمیری پنڈت ملازمین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان ملازمین کا کہنا ہے کہ جہاں دفتروں میں گھس کر دہشت گرد ملازمین کو نشانہ بنا رہے ہوں، وہاں کیسے وہ اپنی ڈیوٹیاں انجام دے سکیں گے۔

    حالانکہ سرکار نے شروع شروع میں ان ملازمین کو یہ یقین دہانی کرانے کی بھی کوشش کی تھی کہ انہیں سیکورٹی مہیا کی جائے گی اور انہیں محفوظ مقامات پر تعینات کیا جائے گا، مگر اس بارے میں کوئی ٹھوس کارروائی نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ ملازمین گزشتہ تین ماہ سے اپنی ڈیوٹیاں واپس جوائین نہہیں کر سکے ہیں۔ یہ ملازمین  وادی میں حالات سازگار ہونے تک انہیں جموں خطے میں تعینات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: راہل بھٹ کے قتل میں ملوث دہشت گرد لطیف راتھر کو مار گرایا گیا


    گزشتہ ماہ ان ملازمین نے نئی دلی کے جنتر منتر پر بھی احتجاجی دھرنے کا اہتمام کرکے یہ کوشش کی تھی کہ ان کی آواز مرکزی سرکار تک پہنچے، مگر ابھی تک مرکزی سرکار بھی اس معاملے پر چُپی سادھے ہوئی ہے۔  احتجاجی ملزمین کا کہنا ہے کہ ان کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لئے سرکار کو کچھ حتمی فیصلہ لینا ہوگا۔ کئی مائیگرنٹ تنظیمیں ان ملازمین کے حق مین آگے آچکی ہیں اور آج پنُن کشمیر بھی ان ملازمین کی حمایت کے لئے آگے آئی ہے۔ پنُن کشمیر کے کنونئیر ڈاکٹر اگنی شیکھر بھی آج ان ملازمین کے ساتھ جموں میں دھرنے پر بیٹھے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: بی جے پی کی ترنگا ریلی کو کاونٹر کرنے کیلئے کانگریس نے کیا پد یاترا کا آغاز


    اس موقع پر نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈت ملازمین کو وادی کشمیر میں یرغمال بنا کر رکھنے کی بجائے سرکار کو چاہئیے کہ جب تک حالات ٹھیک نہ ہوں تب تک ان ملازمین کو جموں خطے میں تعینات کیا جائے۔ انہوں نے سرکار سے سوال کیا کہ جہاں ان ملازمین کی زندگیاں محفوظ نہیں وہاں یہ کیسے اپنی ڈیوٹیاں انجام دے سکیں گے۔ اگنی شیکھر نے سرکار سے اپیل کی کہ وہ جلد سے جلد اس معاملے پر کارروائی کرے اور ان ملازمین کی تشویش کو دور کریں۔

    ڈاکٹر اگنی شیکھر نے کشمیری پنڈتوں کی تمام انجمنوں کو ایک ساتھ آکر سرکار پر یہ باور کرنے کی اپیل کی کہ ان کے بچے ایسے حالات میں وادی میں کام نہیں کرسکتے بلکہ انہیں جموں منتقل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جب حالات سازگار ہوں تو یہ ملازمین دوبارہ وادی میں تعینات کئے جاسکتے ہیں۔ اس موقع پر نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے احتجاجی ملازمین نے پھر ایک بار سرکار سے درخواست کی کہ وہ ان کے ساتھ بات کرکے معاملے کا جلد کوئی حل نکالے تاکہ ان ملازمین کی تشویش دور ہو۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: