உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سرینگر میں دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مارچ، جموں۔کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر نے پاکستان کو دی دھمکی

    سرینگر میں آج دہشت گردی کے خلاف اپنی نوعیت کا پہلا احتجاجی مارچ منعقد کیا گیا ۔ احتجاجی افراد نے حالیہ حملوں کو کشمیریت پر حملے سے تعبیر کیا۔ 

    سرینگر میں آج دہشت گردی کے خلاف اپنی نوعیت کا پہلا احتجاجی مارچ منعقد کیا گیا ۔ احتجاجی افراد نے حالیہ حملوں کو کشمیریت پر حملے سے تعبیر کیا۔ 

    سرینگر میں آج دہشت گردی کے خلاف اپنی نوعیت کا پہلا احتجاجی مارچ منعقد کیا گیا ۔ احتجاجی افراد نے حالیہ حملوں کو کشمیریت پر حملے سے تعبیر کیا۔ 

    • Share this:
    سرینگر: سرینگر میں آج انکلوسیو اینڈ سسٹنیبل ڈیولپمنٹ نامی ایک تنظیم نے دہشت گردی کے خلاف احتجاجی مارچ منعقد کیا۔ ایس کے آئی سی سی سرینگر سے یہ مارچ تقریبن آدھے کلو میٹر تک کیا گیا ۔ اس موقعہ پر احتجاجی افراد نے کالے جھنڈے اٹھا رکھے تھے ۔ مارچ کے منتظم جُنید میر نے کہا کہ یہ احتجاجی مارچ عام شہریوں کے قتل کے خلاف اور ۲۲ اکتوبر 1947 میں پاکستان کے قبائلی حملہ کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے لئے منعقد کیا جارہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اب دہشت گردوں کی طرف سے معصوم افراد کے قتل پر کشمیر کی عوام خاموش نہیں رہ سکتی۔ اس مارچ سے پہلے 1947کے شہیدوں کو خراج پیش کیا گیا۔ اس پروگرام میں جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی شرکت کی۔ اپنی تقریر کے دوران منوج سنہا نے کہا کہ اب کشمیری عوام پر قبائلی حملہ کے دوران ظلم کیا گیا۔ عام شہریوں کے قتل اور خاص طور سے اقلیتی طبقے کے افراد کو گولیوں کا نشانہ بنانے کو لیفٹننٹ گورنر نے کشمیر کی صدیوں پرانے مذہبی بھائی چارے کو توڑنے کی ایک سازش سے تعبیر کیا۔


    انھوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی ان حرکتوں سے باز آنا چاہئیے ورنہ اُنکے مطابق اس کا انجام بُرا ہوگا۔ منوج سنہا نے عوام سے کہا کہ انھیں ایسی حرکتوں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونا چاہئیے اور یک جُٹ ہوکر ان طاقتوں کا مقابلہ کرناچاہئے۔ اس پروگرام میں مختلف علاقوں سے آئے کئی لوگوں نے شرکت کی اور 1947کے شہیدوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: