உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: احتجاجی ملازمین پر اگر دباؤ ڈالا گیا، تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے: کشمیری پنڈتوں کا بڑا بیان

    J&K News: احتجاجی ملازمین پر اگر دباؤ ڈالا گیا، تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے: کشمیری پنڈتوں کا بڑا بیان

    J&K News: احتجاجی ملازمین پر اگر دباؤ ڈالا گیا، تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے: کشمیری پنڈتوں کا بڑا بیان

    Jammu and Kashmir : مٹن اننت ناگ میں پی ایم پیکیج کشمیری پنڈت ملازمین نے منگل کو تیرہویں روز بھی دھرنا دیا۔ اس دوران مٹن کے ٹرانزٹ کیمپ میں مقیم کشمیری پنڈت ملازمین نے بچوں سمیت احتجاجی مظاہرہ کیا اور سرکار مخالف نعرے بلند کئے۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: وزیر اعظم پیکیج کے تحت وادی کشمیر میں تعینات کشمیری پنڈتوں کا احتجاج تیرہویں روز بھی جاری رہا۔ وسطی کشمیر کے بڈگام علاقے میں تعینات پی ایم پیکیج ملازم راہل بٹ کے بندوق برداروں کے ذریعے قتل کے بعد یہ احتجاج شروع ہوا تھا، جو اب بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ حالانکہ گزشتہ روز جموں و کشمیر کے ایل جی منوج سنہا بذات خود بڈگام میں مظاہرین کے ساتھ ملاقات کیلئے گئے تھے، لیکن اس کے باوجود بھی اننت ناگ کے مٹن سمیت کئی علاقوں میں یہ احتجاجی مظاہرے جاری رہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے:  ڈاکٹر نے جس نوزائیدہ کو مردہ قرار دیا وہ قبر میں ملی زندہ


    مٹن اننت ناگ میں پی ایم پیکیج کشمیری پنڈت ملازمین نے منگل کو تیرہویں روز بھی دھرنا دیا۔ اس دوران مٹن کے ٹرانزٹ کیمپ میں مقیم کشمیری پنڈت ملازمین نے بچوں سمیت احتجاجی مظاہرہ کیا اور سرکار مخالف نعرے بلند کئے۔ احتجاجیوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ایل جی اور ملک کے وزیراعظم کو اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ احتجاجی کشمیری پنڈت اپنی اور اپنے بچوں کی جانوں کا تحفظ ممکن بنانے کیلئے کشمیر سے منتقلی چاہتے ہیں۔ جبکہ اس کے علاوہ انہیں سرکار کی کوئی بھی پیشکش قابل قبول نہیں ہوگی۔

     

    یہ بھی پڑھئے: شمالی کشمیر کے پٹن میں سرپنچ کے قتل کا معاملہ حل، تین ملی ٹینٹس گرفتار


    رنجن جوتشی نامی کشمیری پنڈت ملازم کا کہنا ہے کہ سرکار تاحال ان کے مطالبات کو لے کر کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے۔ جبکہ سرکار اب ملازمین کی تبدیلی کےلیے اقدامات اٹھانے کی بات کر رہی ہے جو انہیں قابل قبول نہیں ہے۔ تمام احتجاجی ملازمین کی صرف واحد مانگ یہ ہے کہ انہیں فی الفور وادی سے باہر منتقل کیا جائے۔

    رنجن جوتشی نے کہا کہ اگر احتجاج کے دوران سرکار یا انتظامیہ کے افسران کی جانب سے احتجاجی ملازمین پر دباؤ بنایا گیا تو اس کے سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: