உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شوپیاں کے دراز پورہ علاقے میں احتجاج، حکومت کی جانب سے باغیچوں کو کیا گیا تہس نہس

    حکومت کی طرف سے علاقے کے لوگوں کی طرف سے سے تیار کردہ باغیچوں کو تحس نہس کردیا گیا جبکہ کچھ باغیچوں میں ابھی سیب اتارنے باقی تھے۔

    حکومت کی طرف سے علاقے کے لوگوں کی طرف سے سے تیار کردہ باغیچوں کو تحس نہس کردیا گیا جبکہ کچھ باغیچوں میں ابھی سیب اتارنے باقی تھے۔

    حکومت کی طرف سے علاقے کے لوگوں کی طرف سے سے تیار کردہ باغیچوں کو تحس نہس کردیا گیا جبکہ کچھ باغیچوں میں ابھی سیب اتارنے باقی تھے۔

    • Share this:
    جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع کے دراز پورہ ترکہ وانگام علاقے کے لوگوں نے انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا اور بتایا کہ گزشتہ کہی روز سے حکومت کی طرف سے علاقے کے لوگوں کی طرف سے سے تیار کردہ باغیچوں کو تحس نہس کردیا گیا جبکہ کچھ باغیچوں میں ابھی سیب اتارنے باقی تھے۔ ضلع شوپیاں سے قریب 16 کلومیٹر دور انڈسٹریل اسٹیٹ لاسی پورہ کے پاس دراز پورہ علاقے کے لوگوں نے حکومتی فیصلے کے خلاف احتجاج کیا جس دوران خواتین نے سینہ کوبی کی اور گڑ گڑا کر حکومت سے گزارش کی کہ ان کی عمر بھر کی کمائی کو ضائع نہ کیا جائے۔
    مقامی لوگوں کے مطابق حکومت کو لاسی پورہ علاقے میں قریب 300 کنال زمین کسی فیکٹری کے لیے ضرورت ہے اور جن باغیچوں کے سہارے قریب 50 خاندان اپنے آپ اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں ان ہی باغیچوں پر حکومت نے بلڈوزر چلا کر سبھی پیڑوں کو کاٹ ڈالا اور اس علاقے کے لوگ بیک مانگنے پر مجبور ہوکر رہ گئے ہیں۔

    48 سالہ خاتون سارہ بانو نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ 40 سال اپنے باغیچے میں لگا کر باغ کو تیار کیا تاکہ اس باغ سے تیار ہونے والے میوہ جات بیج کر وہ اپنے اہل وعیال کو بھوک سے بچا سکے اور انکی چار بیٹوں کی شادی کراسکے تاہم تین روز قبل انکے باغیچے میں ضلع انتظامیہ شوپیاں کی طرفسے کئی افسران سیکورٹی فورسز سمیت داخل ہوگئے اور بلڈوزر چلا انکی عمر بھر کی محنت ضائع کر کے رکھ دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ انکے پاس اس باغیچے کے علاہ اور کوئی سہارا نہیں ہے انہوں نے بتایا کہ وہ اب خودکشی کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ انکی چار بیٹیاں شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہے اور انکے پاس اب کچھ بھی نہیں بچا ہیں۔



    زیبہ اختر نے بتایا کہ ہم بہت ہی غریب لوگ ہیں اور ہمارا ان باغیچوں کے علاہ کچھ بی نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک طرف جہاں حکومت بے روزگاری کو ختم کرنے کے لیے وعدے کررہی رہی ہے وہیں دوسری طرف ہمارے روزگار کو ختم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ قریب 6 برس قبل حکومت نے انہیں یہ زمین دی تھی اور 6 برس کی محنت کے جب مقامی آبادی نے زمین پر باغیچے بنالئے تو موجود حکومت کی طرفسے انہیں زمین چھوڈنے کے لیے کہا جارہاہے اور دو روز قبل انکے باغیچوں پر سیب سمیت سیب کے باغات کاٹ دیئے گئے۔

    اس حوالہ سے  ںیوز 18 اردو نے اسسٹنٹ کمشنر ریونیو شوپیاں سے فون پر بات کی تو ان کا یوں کہنا تھا کہ یہ زمین پہلے ہی انڈسٹریل اسٹیٹ کے لیے منتخب کی گئی ہے اور اس زمین پر لوگوں کو جو نقصان ہوا ہے اس کے بارے میں ہم نے متعلقہ محکمے کو جانکاری دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان لوگوں نے سرکاری زمین بہت پہلے قبضہ کیا ہوا ہے اور آج اسے چھڑانے کے لئے ہمیں احکامات صادر کیے گئے۔

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: