உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امرناتھ یاترا کیلئے کسی بھی گاڑی کو بغبر ROP کے چلنے کی نہیں ہوگی اجازت، تمام حساس مقامات پر لگائے جائیں گے ڈرون کیمرے

    Amarnath Yatra 2022:  ایم ایچ اے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر حکومتوں کی طرف سے سخت ہدایات موصول ہوئی ہیں کہ صرف آر او پی اور سیکورٹی قافلے کے تحت یاتریوں کو یاترا کی اجازت دی جائے۔

    Amarnath Yatra 2022: ایم ایچ اے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر حکومتوں کی طرف سے سخت ہدایات موصول ہوئی ہیں کہ صرف آر او پی اور سیکورٹی قافلے کے تحت یاتریوں کو یاترا کی اجازت دی جائے۔

    Amarnath Yatra 2022: ایم ایچ اے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر حکومتوں کی طرف سے سخت ہدایات موصول ہوئی ہیں کہ صرف آر او پی اور سیکورٹی قافلے کے تحت یاتریوں کو یاترا کی اجازت دی جائے۔

    • Share this:
    جموں کشمیر:- 30 جون سے شروع ہونے والی شری امرناتھ جی یاترا کے سلسلے میں تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ایسے میں سیکورٹی جیسے بڑے چلینج سے نمٹنے کے لیے بھی تیاریوں کو مکمل کیا گیا ہے۔ شری امرناتھ جی یاتریوں کے تحفظ کے مقصد سے ایک بڑے فیصلے میں، مرکزی وزارت داخلہ نے فیصلہ کیا ہے کہ یاتریوں کو بغیر آر او پی کے جموں سے کشمیر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس فیصلے کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جموں سری نگر قومی شاہراہ سمیت دیگر شاہراوں پر یاترا گاڑیوں کی حفاظت کو ممکن بنایا جا سکے اور ہر ایک گاڑی سیکورٹی کی نگرانی میں باضابطہ طور پر کاروان کے ساتھ ہی چلے۔ جبکہ پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں کےلیے یہ بات لازمی بنائ گئ ہے کہ یاترا کے دوران مرتب شدہ ایس او پی کو ہر صورت نافز العمل بنایا جائے۔ ایم ایچ اے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر حکومتوں کی طرف سے سخت ہدایات موصول ہوئی ہیں کہ صرف آر او پی اور سیکورٹی قافلے کے تحت یاتریوں کو یاترا کی اجازت دی جائے۔
    اس بارے میں کہ سیکورٹی اہلکار سیاحوں اور زائرین میں فرق کیسے کریں گے۔

    ذرائع نے بتایا کہ ایک طریقہ کار تیار کیا جا رہا ہے لیکن تسلیم کیا کہ یہ کام مشکل ہے۔ تاہم، یہ فیصلہ یاتریوں کے مفاد میں لیا گیا ہے اور یہ بھی ان پر منحصر ہے کہ وہ حکومتی رہنما خطوط پر عمل کریں جو ان کے تحفظ اور سلامتی کے مفاد میں لیے گئے ہیں۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جہاں تک اس سال شری امرناتھ جی کے مقدس غار کی یاترا کا تعلق ہے وہاں حقیقی سیکورٹی خدشات موجود ہیں، ذرائع نے بتایا کہ جموں و کشمیر کے تمام حساس علاقوں کو ڈرون نگرانی میں رکھا جائے گا جبکہ منتخب مقامات پر ڈرون مخالف میکانزم نصب کیا جا رہا ہے۔پاکستان کی بین الاقوامی سرحد سے ڈرون کی رینج میں آنے والی جگہوں پر اینٹی ڈرون میکانزم نصب کیا جائے گا،" ذرائع نے مزید کہا کہ ایسی تمام جگہوں کی نشاندہی کی گئی ہے لیکن ان کے نام خفیہ رکھے گئے ہیں۔

    Rahul Gandhi نیشنل ہیرالڈ کیس میں ED کے دفتر پہنچے، ای ڈی نے پوچھے یہ 8 سوال

    ڈرون مخالف میکانزم کی تنصیب کا کام جاری ہے اور یہ 30 جون سے سالانہ یاترا کے آغاز سے پہلے ہی ہو جائے گا اور یہ یاترا 11 اگست یعنی کہ 45 دنوں بعد اختتام پزیر ہوگی۔ جموں، سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع میں، ڈرون مخالف میکانزم کی تنصیب کے لیے کم از کم سات مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ذرائع نے سالانہ امرناتھ یاترا کے لیے اضافی نیم فوجی کمپنیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کرنے کے احکامات صادر کئے ہیں اور اس حوالے سے اب یہ سیکورٹی دستے یاترا کے روٹوں پر پیش قدمی کر رہے ہیں۔



    فی الحال سی آر پی ایف، بی ایس ایف، سی آئی ایس ایف، آئی ٹی بی پی اور ایس ایس بی کی 350 اضافی کمپنیاں یاتریوں کی حفاظت کے لیے تعینات کی جا رہی ہیں لیکن ضرورت پڑنے پر یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔ جموں سری نگر قومی شاہراہ پر فوج کی تعیناتی، پہلگام میں نن ون بیس کیمپ، بالتل، امرناتھ کی مقدس گپھا کے دونوں یاترا ٹریکس اور مقدس گپھا کے نزدیک بھی اضافی سیکورٹی کی تعیناتی کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تمام یاترا گاڑیوں اور یاتریوں کو ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ریڈیو فریکوئنسی آئیڈنٹیفکیشن ( آر ایف آئ ڈی) ٹیگ دیے جائیں گے۔ ادھر سرکار نے پہلے ہی جنوبی کشمیر میں قاضی گنڈ کے ساتھ ساتھ دیگر مقامات پر یاترا بیس کیمپ قائم کۓ ہیں اور ان کیمپوں میں یاتریوں کی رہائشی و دیگر سہولیات کے تناظر میں ہنگامی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: