உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: رہبر کھیل، جنگلات اور زراعت کی پالیسی پر تنازعہ، جموں و کشمیر انتظامیہ نے دی صفائی

    J&K News: رہبر کھیل، جنگلات اور زراعت کی پالیسی پر تنازعہ، جموں و کشمیر انتظامیہ نے دی صفائی

    J&K News: رہبر کھیل، جنگلات اور زراعت کی پالیسی پر تنازعہ، جموں و کشمیر انتظامیہ نے دی صفائی

    Jammu and Kashmir : جموں کشمیر میں رہبر جنگلات ، رہبر کھیل اور رہبر زراعت وغیرہ کے لئے مخصوص پوسٹ نئے سرے سے مشتہر کرنے کا معاملہ ایک تنازعہ کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ سرینگر کے بعد آج جموں میں نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

    • Share this:
    جموں کشمیر میں رہبر جنگلات ، رہبر کھیل اور رہبر زراعت وغیرہ کے لئے مخصوص پوسٹ نئے سرے سے مشتہر کرنے کا معاملہ ایک تنازعہ کی صورت اختیار کرگیا ہے۔ سرینگر کے بعد آج جموں میں نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ادھر جموں و کشمیر انتظامیہ نے کہا ہے کہ ان نوجوانوں کو نوکری سے نہیں نکالا نہیں جارہا ہے ، لیکن اس پر کوئی صفائی نہیں دی جارہی ہے کہ آخر 2017 کے کابینہ فیصلے کے تحت لگائے گئے ان نوجوانوں کو اس فیصلے کے تحت مستقل کیا جائے گا یا نہیں اور ان کے لئے جو پوسٹ مخصوص رکھے جانے تھے، ان کا کیا ہوگا۔

    دراصل سال 2017 کے ایک کابینہ آرڈر کے تحت کئی نوجوانوں کو رہبر جنگلات ، رہبر کھیل اور نیشنل یوتھ کور کے تحت لایا گیا تھا ۔ رہبر تعلیم اور رہبر زراعت اس سے پہلے ہی عمل میں لایا گیا تھا۔ اسی طرز پر رہبر جنگلات اور رہبر کھیل میں بھرتی کی گئی اور ایک باقاعدہ لائحہ عمل کے تحت ان نوجوانوں کو ایک مخصوص مدت تک قلیل مشاہراہ دیا جاتا رہا ۔ اس پالیسی کے تحت کہ انھیں بعد میں مستقل کیا جائے گا ، لیکن دفعہ 370 کالعدم کئے جانے کے بعد سال 2021 میں ایک کمیٹی بنائی گئی تاکہ ان کی مستقلی پر کوئی فیصلہ لیا جائے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: کشمیری پنڈت ملازمین کا احتجاج جاری، اب مظاہرین نے اپنایا یہ نیا طریقہ


    20 مئی کو جموں و کشمیر انتظامیہ نے ایک حکم نامہ کے ذریعہ اعلان کیا کہ مستقلی کے انتظار میں ان نوجوانوں کو ایس ایس آر بی کے تحت اب ان اسامیوں کے لئے فارم بھرنا ہوگا لیکن اتنی سہولت ان کو دی گئی کہ انھیں گزشتہ سالوں کے کام کے عوض اضافی نمبرات دئے جائیں گے اور عمر کی حد میں بھی نرمی بھرتی جائے گی جو ان نوجوانوں کو منظور نہیں۔ اس حکمنامہ کے بعد احتجاجی مظاہرے شروع کئے گئے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: آرمی نے دہائیوں کے بعد حیدربیگ پٹن میں طلبہ کیلئے سنیما دوبارہ کھول دیا


    نوجوانوں کے احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں نے بھی یو ٹی انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔ پی ڈی صدر محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ سب کچھ جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو نوکریوں سے بے دخل کرکے یو ٹی سے باہر کے لوگوں کو نوکریاں دینے کے منصوبے کے تحت کیا جارہا ہے۔ اپنی پارٹی کے صدر سید الطاف بخاری نے ان نوجوانوں کو اپنا حق دلانے کا اعلان کیا ۔ انھوں نے سرکار کے اس فیصلہ کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیا۔

    وہیں پیپلز کانفرنس کے سئنیر لیڈر بشارت بخاری نے عدالت میں جانے کا اعلان کر ڈالا اور نیشنل کانفرنس نے اسے نوجوانوں کو تنگ کرنے کی ایک سازش سے تعبیر کیا۔ سرکار نے ٹویٹ کے ذریعہ کہا کہ کسی کو نوکری سے بے دخل نہیں کیا جائے گا ، لیکن یہ صاف نہیں کیا ہے کہ ان نوجوانوں کی کابینہ کے فیصلے کے تحت مستقلی ہوگی یا نہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: