اپنا ضلع منتخب کریں۔

    بھارت جوڑو یاترا ہوئی ختم، راہل گاندھی نے دیا چیلنج، کہا: کشمیر تک پیدل یاترا کریں وزیرداخلہ امت شاہ

    بھارت جوڑو یاترا ہوئی ختم، راہل گاندھی نے دیا چیلنج، کہا: کشمیر تک پیدل یاترا کریں وزیرداخلہ امت شاہ

    بھارت جوڑو یاترا ہوئی ختم، راہل گاندھی نے دیا چیلنج، کہا: کشمیر تک پیدل یاترا کریں وزیرداخلہ امت شاہ

    Jammu and Kashmir : راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو جموں  سے کشمیر کے سرینگر لال چوک تک یاترا نکالنے کا چیلنج دیا ہے ۔ راہل گاندھی نے کہا اگر جموں و کشمیر کے حالات ٹھیک ہیں تو بی جے پی والے جموں سے سری نگر لال چوک تک یاترا کیوں نہیں نکالتے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Srinagar | Jammu
    • Share this:
    سری نگر: راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کیرالہ سے شروع ہو کر گھنٹہ گھر لال چوک، سری نگر، جموں و کشمیر میں اختتام پذیر ہوئی۔ جس کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران راہل گاندھی نے  مہنگائی، بے روزگاری اور نفرت کی سیاست کے موضوع پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انہوں نے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو جموں  سے کشمیر کے سرینگر لال چوک تک یاترا نکالنے کا چیلنج دیا ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اگر جموں و کشمیر کے حالات ٹھیک ہیں تو بی جے پی والے جموں و کشمیر سے سری نگر لال چوک تک یاترا کیوں نہیں نکالتے؟ راہل گاندھی نے کہا وہ لوگوں سے ملے لیکن لوگ خوش نہیں، ان میں کوئی جوش نہیں ہے ۔راہل گاندھی نے کہا ان کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ  ملنا چاہئے اور جمہوری نظام نافذ ہونا چاہئے ۔

    راہل گاندھی نے کہا جب میں جموں کشمیر کو دیکھتا ہوں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے ، میرا کشمیر سے آبائی رشتہ ہے، میرا خاندان کشمیر سے ہی الہ آباد جاکر آباد ہوا، جب میں اپنی آبائی ریاست واپس آیا تو کھلے دل کے ساتھ آیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں ریاست کا درجہ بحال ہو۔  عوام کو جمہوری حقوق ملنے چاہئیں اور یہاں کے مسائل اسمبلی سے حل ہونے چاہئیں۔

    بھارت جوڑو یاترا کے بارے میں راہل گاندھی نے کہا کہ یاترا ختم نہیں ہوئی، یہ پہلا قدم ہے، ہم آگے بھی ایکشن میں نظر آئیں گے، مجھے یاترا کے دوران زبردست رسپانس ملا، یہ کانگریس کی یاترا نہیں تھی کیونکہ یاترا میں کانگریسی کارکنوں سے زیادہ ملک کے عوام نام اور افراد شامل ہوئے ۔ اس یاترا کے دوران مجھے کسانوں نوجوانوں اور جن لوگوں کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی ان کی آواز سننے کو ملی ۔

    راہل گاندھی اور آرایس ایس اور بی جے پی پر اپنے جانے پہچانے انداز میں کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سامنے دو راستے ہیں ۔ ایک دوسرے لوگوں کو دبانے کا وژن ہے جو بی جے پی آر ایس ایس کا نفرت سے بھرا وزن ہے ۔ دوسرا وژن محبت اور گلے لگانے کا ہے۔

    یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی نے سرینگر میں لال چوک پر لہرایا ترنگا، پرینکا سمیت کئی کانگریسی لیڈر تھے موجود


    یہ بھی پڑھئے: وادی میں سرد لہر جاری، پھر کروٹ لے گا موسم، آج اور کل بھاری بارش-برفباری کا انتباہ



    کانگریس پارٹی کے اقتدار میں آنے پر جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹانے اور آرٹیکل 370 کی بحالی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا راہل گاندھی نے سفارتی انداز میں جواب دیا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ ملنا چاہئے، یہ سب سے بڑی ترجیح ہے۔ اور یہاں لوگوں کو سیاسی حقوق ملنے چاہئیں ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اسمبلی سے جو ہی راستہ نکلے گا، یہاں کے لوگ اپنے مسائل خود حل کریں گے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: