உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    راجستھانی مہندی والے نے کشمیر میں مہندی لگوانے آئی لڑکی کیلئے کیا ایسا کام، ہر جانب ہوئی چرچا

    سرینگر میں راجستھان سےتعلق رکھنے والے مہندی  لگانے والے نے ایمانداری کی مثال پیش کرتے ہوئے ایک خریدار کی ہیرے کی انگوٹھی واپس کردی جو وہ وہاں بھول گیا تھا ۔مقامی لوگ اس شخص سے کافی خوش ہیں۔

    سرینگر میں راجستھان سےتعلق رکھنے والے مہندی  لگانے والے نے ایمانداری کی مثال پیش کرتے ہوئے ایک خریدار کی ہیرے کی انگوٹھی واپس کردی جو وہ وہاں بھول گیا تھا ۔مقامی لوگ اس شخص سے کافی خوش ہیں۔

    سرینگر میں راجستھان سےتعلق رکھنے والے مہندی  لگانے والے نے ایمانداری کی مثال پیش کرتے ہوئے ایک خریدار کی ہیرے کی انگوٹھی واپس کردی جو وہ وہاں بھول گیا تھا ۔مقامی لوگ اس شخص سے کافی خوش ہیں۔

    • Share this:
    گونی کھن، سرینگر کا مصروف اور مشہور بازار ہے لیکن آج کل یہاں سُدھیر نائک کے چرچے ہیں۔ سُدھیر یہاں مہندی لگانے کا کام کرتا ہے اور مُکھیا کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن آج کل وہ ایمانداری honesty کی وجہ سے چرچے میں ہے ۔ کچھ دن قبل ایک مقامی لڑکی مہندی لگانے یہاں آئی اور ہیروں سے سجھی اپنی انگوٹھی diamond ring یہیں بھول گئی۔ سُدھیر کا کہنا ہے کہ اُس کی نظر جب انگوٹھی پر پڑی تب تک کئی خریدار چلے گئے تھے اور اُسے پتہ بھی نہیں تھا کہ انگوٹھی کس کی ہے ۔ اُس نے آس پڑوس کے دُکانداروں کو خبر دی اور اُنھیں کہا کہ اگر کوئی انگوٹھی ڈھونڈنے آئے تو اُن کو یہ خبر دیں ۔

    تین دن بعد انگوٹھی کی مالکن کا پتہ چلا اور مقامی دُکانداروں کی موجودگی میں اُنھیں اُنکی انگوٹھی سونپی گئی۔ سُدھیر کا تعلق راجستھان کے بھارتپور ضلع میں واقع آغاپور گاوں سے ہے اور سال 2008 سے سرینگر میں مہندی Rajasthan Mahindiwala لگانے کا کام کرتا ہے ۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا ہیرے کی انگوٹھی دیکھ کر اُنکے دل میں اسے چھپانے کا خیال نہیں آیا تو نہایت ہی سادگی کے ساتھ کہتے ہیں کہ وہ انگوٹھی کی چمک دیکھ کر سمجھ گئے تھے کہ یہ مہنگی ہے لیکن ایک لمحے کے لئے بھی اُنھیں لالچ نہیں ہوئی کیونکہ اُن کے مطابق وہ محنت کی کمائی پر یقین رکھتے ہیں۔

    مقامی لوگ اور آس پڑوس کے دُکاندار بھی سُدھیر کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ محمد اشرف نامی مقامی تاجر کا کہنا ہے کہ اگر سُدھیر انگوٹھی چھپا لیتا تو کسی کو خبر نہیں لگتی کیونکہ انگوٹھی والے کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ انگوٹھی یہاں بھول گئی تھیں لیکن سُدھیر نے غربت کے باوجود ایمانداری کا ثبوت دے کر ایک مثال قائم کی۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: