ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

Ramadan 2020 : جدید تکنیک آنے سے ختم ہوتی جارہی ہے جموں و کشمیر میں یہ برسوں قدیم روایت

ٹنگمرگ کے غنی بابا گاؤں سے تعلق رکھنے والے عبدالعزیز نامی بزرگ برسوں پرانی یہ روایت زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔

  • Share this:
Ramadan 2020 : جدید تکنیک آنے سے ختم ہوتی جارہی ہے جموں و کشمیر میں یہ برسوں قدیم روایت
Ramadan 2020 : جدید تکنیک آنے سے ختم ہوتی جارہی ہے جموں و کشمیر میں یہ برسوں قدیم روایت

وادی کشمیر میں ماہِ رمضان میں سحری کے وقت ڈھول بجا کر لوگوں کو جگانے کی روایت کو آج بھی مختلف مقامات پر کچھ لوگ زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ تاہم نئی نسل اس روایت سے کوسوں دور نظر آرہی ہے ۔ ایک وقت تھا جب نہ جدید گھڑیاں تھی نہ ہی مساجد کے لاوڈ اسپیکر ، اس وقت لوگ اپنے اپنے علاقوں میں ٹین کے ڈبے یا ڈھول بجا کر لوگوں کو جگایا کرتے تھے ۔ اب اس ترقی یافتہ دور میں ہر گھر میں الارم گھڑی یا موبائل فون کی الارم موجود ہے ۔ لہذا اسی وجہ سے یہ پرانی روایت روبہ زوال ہے ۔ تاہم وادی کشمیر کے کچھ مقامات پر چند لوگ ڈھول بجاکر سحری کی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ ان میں شمالی کشمیر کے ٹنگمرگ ، پٹن ، باباریشی ٹنگمرگ  اور وسطی ضلع بڈگام کے بیروہ ، کاوسہ نارہ بل کے علاوہ وادی کے دیگر مقامات بھی شامل ہیں ۔


ٹنگمرگ کے غنی بابا گاؤں سے تعلق رکھنے والے عبدالعزیز نامی بزرگ  برسوں پرانی  یہ روایت زندہ رکھے ہوئے ہیں ۔ عبدالعزیز نے نیوز 18 ارود  کو بتایا کہ ان کے اجداد اس سے جڑے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اجداد کی وراثت کو زندہ رکھتے ہوئے گزشتہ تیس سالوں سے یہ کام کررہے ہیں اور ان کے والد مرحوم  محمد سلطان بھی پچاس سال تک ماہ رمضان میں  روزداروں کو سحری کے وقت جگاتے تھے ، ان کا پھر ماہ رمضان میں ہی انتقال ہوگیا ۔ وہ یہ کام خدمت اور ثواب کے جذبے سے کرتے آرہے  ہیں ۔ عبدالعزیز نے بتایا کہ وہ  سحری کے وقت لوگوں کو جگانے کےلئے آٹھ گاؤں کا چکر لگاتے ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا  کہ انہیں  اس کام سے روزگار بھی  حاصل ہوتا ہے ۔ لوگ انہیں اس محنت کا صلہ عیدی کی شکل میں دیتے ہیں ۔


وسطی ضلع بڈگام  کے کاوسہ نارہ بل کے ساٹھ سالہ غلام قادر گنائی  پچھلے چالیس برسوں سے  ماہ رمضان میں سحری  کے وقت روزہ داروں کو جگانے کے لئے یہ کام انجام دے رہے ہیں ۔ قادر گنائی نے نیوز18 اردو کو بتایا  کہ ان کے آبا و اجداد بھی اس سے منسلک تھے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ہر سال رمضان کے ماہ میں آدھی رات کے بعد یعنی  دو  بجے  سے اپنے ڈھول کے ذریعہ سے لوگوں کو جگانے کا سلسلہ شروع کردیتے ہیں ۔ وہ  گلیوں اور سڑکوں سے گزر کر کئی کلو میٹر تک اپنے ڈھول بجانے سے لوگوں کو جگاتے ہیں ۔ تاہم انہوں نے آہ بھرے لہجے میں بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے کئی دیگر پرانی روایات کی طرح  یہ روایت بھی  بتدریج معدوم ہوتی جا رہی ہے اور نہ ہی ڈھول بجانے والوں کی پذیرائی ہوتی ہے ۔

First published: May 12, 2020 12:13 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading