ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر: عصمت ریزی کی متاثرہ نابالغہ نے بچےکو دیا جنم، ماں کا رشتہ دار ہی بناتا رہا ہوس کا شکار

اپنی ہی ماں کے رشتہ دار کے ہوس کا شکار بن چکی اننت ناگ ضلع کے ایک دور افتادہ گاؤں کی لڑکی کی بازآبادکاری کے لئے ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی سامنے آئی ہے، جہاں 14 برس کی اس نابالغ لڑکی کی قانونی لڑائی میں لیگل سروسز اتھارٹی اقدامات کر رہی ہے۔

  • Share this:
جموں وکشمیر: عصمت ریزی کی متاثرہ نابالغہ نے بچےکو دیا جنم، ماں کا رشتہ دار ہی بناتا رہا ہوس کا شکار
جموں وکشمیر: عصمت ریزی کی متاثرہ نابالغہ نے بچےکو دیا جنم، ماں کا رشتہ دار ہی بناتا رہا ہوس کا شکار

اننت ناگ: اپنی ہی ماں کے رشتہ دار کے ہوس کا شکار بن چکی اننت ناگ ضلع کے ایک دور افتادہ گاؤں کی لڑکی کی بازآبادکاری کے لئے ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی سامنے آئی ہے، جہاں 14 برس کی اس نابالغ لڑکی کی قانونی لڑائی میں لیگل سروسز اتھارٹی اقدامات کر رہی ہے۔ وہیں متاثرہ لڑکی کی بازآبادکاری اور اس کا بہتر علاج و معالجہ ممکن بنانے کی غرض سے سکریٹری ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی اننت ناگ نے 3 لاکھ روپئے کی رقم واگزار کی ہے۔ متاثرہ لڑکی کا اپنے ہی رشتہ دار کے ذریعہ جنسی استحصال اور عصمت ریزی کا یہ واقعہ اس وقت منظر عام پر آیا تھا، جب مئی کے مہینے میں متاثرہ نے پیٹ درد کی شکایت کی تھی اور میڈیکل جانچ کے بعد متاثرہ کےحاملہ ہونےکی بات سامنے آئی تھی۔


والدین کی جانب سے پوچھ گچھ کے بعد متاثرہ نے اپنے ہی پڑوس میں رہنے والے 38 سالہ اپنی ماں کے رشتہ دار کا نام دیا تھا اور متاثرہ نے بعد میں چائلڈ ہیلپ لائن اور پولیس کے سامنے دل دہلانے والی داستان بیان کی۔ متاثرہ کا کہنا تھا کہ ملزم اکثر اس کے گھر اس کے والدین کی عدم موجودگی میں آتا تھا اور ایک بار کچھ نشیلی اشیاء کھلا کر اس نے جنسی استحصال کیا، جس کے بعد مسلسل وہ اسے اپنی درندگی کا شکار بناتا رہا جس کی وجہ سے وہ حاملہ ہوگئی۔ متاثرہ کے مطابق ملزم نے اسے جان سے مار ڈالنے کی دھمکی دیتے ہوئے یہ بات پوشیدہ رکھنے کی ہدایت دی۔ جس کا فائدہ اٹھا کر وہ مسلسل کئی ماہ تک اسے اپنی ہوس کا نشانہ بناتا رہا۔ لڑکی کی آپ بیتی سننےکے بعد پولیس نے مئی میں ہی ملزم کو گرفتار کرکے سلاخوں کے پیچھے کر دیا ہے، لیکن حال ہی میں متاثرہ نے ایک بچےکو جنم دیا جس کی وجہ سے اس کے لئے مزید مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔ چائلڈ لائن کے مطابق نوزایدہ بچے کو تحویل میں لے کرکریڈل میں اس کی بہتر نشوونما کا خیال رکھا جا رہا ہے جبکہ بچے اور ملزم کے ڈی این اے نمونے حاصل کر کے تحقیقات میں مزید تیزی لائی گئی ہے۔ جبکہ متاثرہ کے بہتر علاج و بازآبادکاری کے لئے ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی اور چائلڈ ہیلپ لائن انفرادی سطحوں پر اقدامات کر رہی ہیں۔


متاثرہ کا کہنا تھا کہ ملزم اکثر اس کے گھر اس کے والدین کی عدم موجودگی میں آتا تھا اور ایک بار کچھ نشیلی اشیاء کھلا کر اس نے جنسی استحصال کیا۔
متاثرہ کا کہنا تھا کہ ملزم اکثر اس کے گھر اس کے والدین کی عدم موجودگی میں آتا تھا اور ایک بار کچھ نشیلی اشیاء کھلا کر اس نے جنسی استحصال کیا۔


دوسری جانب ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی اننت ناگ کے اس اقدام کی عوامی حلقوں میں ستائش کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ متاثرہ کو انصاف دلانے اور ملزم کو سخت سزا دینے کےلئے فاسٹ ٹریک بنیادوں پر اقدامات کئے جائیں۔ جبکہ سماج کے مختلف طبقات کو بھی اس طرح کے واقعات پر قدغن لگانے کےلئے اپنا کلیدی رول ادا کرنا چاہئے۔ چائلڈ لائن کے کوآرڈینٹر فرحان کا کہنا ہے کہ گزشتہ برسوں میں اس طرح کے واقعات میں کافی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے جو باعث تشویش ہے۔ فرحان کے مطابق چائلڈ لائن کے پاس ایسے کئی معاملات آتے ہیں، جہاں پر بچوں کا جنسی استحصال یا پھر عصمت ریزی کے واقعات میں اپنے ہی رشتہ دار ملوث ہوتے ہیں۔ اسلۓ یہاں پر والدین کا سب سے زیادہ اور اہم رول بنتا ہے کیونکہ والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ذہنی تناؤ یا پھر برتاؤ میں تبدیلیوں کو سمجھے اور اس بات کا پتہ لگاۓ کہ کہیں انکا بچہ کسی تکلیف میں تو نہیں ہے یا پھر کہیں انکے بچے کے ساتھ کوئ اسطرح کی زیادتی تو نہیں ہوئ ہے جسے وہ والدین کے سامنے بیان کرنے سے قاصر ہے۔ فرہان کا مزید کہنا ہے کہ اسطرح کے واقعات کےلئے چائلڈ لائن سے رابطہ کرنے کےلئے ہیلپ لائن نمبر 1098 بھی ڈائل کیا جا سکتا ہے اور بچوں یا پھر والدین کو ضرورت پڑنے پر ہر طرح کی مدد کی جاتی ہے۔ فرہان کا مزید کہنا ہے کہ مذہبی لیڈران بھی اسطرح کے واقعات کو روکنے کےلئے اگر انفرادی کوششیں کرینگے تو یقینی طور پر ریپ یا پھر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں کہ بڑھتی شرح پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 16, 2020 08:23 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading