ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

بانڈی پورہ کے سرحدی خطے گریز میں ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹنگ کی شروعات، لوگوں کے ساتھ ساتھ انتظامیہ نے لی راحت کی سانس

جموں وکشمیر بانڈی پورہ سے 85 کلو میٹر کی دوری پر واقع سرحدی علاقہ گریز میں محکمہ صحت نے ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹنگ کی سہولت شروع کی ہے، جس وجہ سے محکمہ صحت کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔

  • Share this:
بانڈی پورہ کے سرحدی خطے گریز میں ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹنگ کی شروعات، لوگوں کے ساتھ ساتھ انتظامیہ نے لی راحت کی سانس
بانڈی پورہ کے سرحدی خطے گریز میں ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹنگ کی شروعات

بانڈی پورہ: جموں وکشمیر بانڈی پورہ سے 85 کلو میٹر کی دوری پر واقع سرحدی علاقہ گریز میں محکمہ صحت نے ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹنگ کی سہولت شروع کی ہے، جس وجہ سے محکمہ صحت کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دشوار گزار پہاڑی راستوں پر محیط اس علاقے سے جانچ کے لئے نمونے سری نگر تک پہنچانے اور رپورٹ حاصل کرنے میں کئی دن لگ جاتے تھے اور اس عمل کے لئے محکمہ صحت کو کافی خرچ بھی آتا تھا۔


تاہم اب جبکہ محکمہ صحت نے اس خطے میں RAT کی سہولت شروع کی ہے، اس وجہ سے نہ صرف کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے بلکہ کسی بھی ایمرجنسی کے دوران اس سہولت کا استعمال کرکےلوگوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ گریز نامی اس سرحدی علاقےکی ناگفتہ بہ حالات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ اس خطے میں آبادی کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ اس دور میں بھی مواصلاتی نظام سے محروم ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ اس پورے خطے میں سرے سے ہی پن بجلی کا نام و نشان نہیں ہے اور اس پورے خطے کو شام کے وقت جنریٹروں کے ذریعے کچھ گھنٹوں کے لئے بجلی فراہم کی جاتی ہے۔


جموں وکشمیر بانڈی پورہ سے 85 کلو میٹر کی دوری پر واقع سرحدی علاقہ گریز میں محکمہ صحت نے ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹنگ کی سہولت شروع کی ہے، جس وجہ سے محکمہ صحت کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔
جموں وکشمیر بانڈی پورہ سے 85 کلو میٹر کی دوری پر واقع سرحدی علاقہ گریز میں محکمہ صحت نے ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹنگ کی سہولت شروع کی ہے، جس وجہ سے محکمہ صحت کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں نے راحت کی سانس لی ہے۔


یوں ایسے علاقے میں RAT کی سہولت لوگوں کے لئے ایک الگ اہمیت رکھتی ہے اور لوگ علاقے میں اس سہولت کے شروع ہونےکو لے کر کافی خوش ہیں اب اگر علاقے میں طبی شعبے کی بات کی جائے تو اس کی حالت انتہائی خراب ہے۔ کیونکہ موسم سرما میں یہ خطہ بھاری برف باری کی وجہ سے 6 ماہ تک باقی ملک سے کٹ کر رہ جاتا ہے اور پھر صحت کے حوالے سے کسی بھی ایمرجنسی کے دوران فوج لوگوں کی مدد کے لئے سامنے آتی ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Aug 15, 2020 11:59 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading