உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    غلام نبی آزاد کی سربراہی میں جموں وکشمیر کانگریس کا باغی گروپ کیا بنا سکتا ہے الگ پارٹی؟ جانئے کیا کہتے ہیں ماہرین

    غلام نبی آزاد کی سربراہی میں جموں وکشمیر کانگریس کا باغی گروپ کیا بنا سکتا ہے الگ پارٹی؟ جانئے کیا کہتے ہیں ماہرین

    غلام نبی آزاد کی سربراہی میں جموں وکشمیر کانگریس کا باغی گروپ کیا بنا سکتا ہے الگ پارٹی؟ جانئے کیا کہتے ہیں ماہرین

    Jammu and Kashmir News : چند ہفتے قبل یہ پارٹی کی اندورنی بغاوت اس وقت سامنے آئی جب جموں وکشمیر کانگریس کے سینئر نائب صدر غلام نبی مونگا سمیت کچھ اور لیڈروں کی جانب سے پارٹی ہائی کمان کو روانہ کیا گیا ایک مکتوب منظر عام پر آیا ۔ اس خط میں ان لیڈروں نے پارٹی ہائی کمان کو لکھا کہ وہ پارٹی میں تمام عہدوں سے مستفی ہورہے ہیں ۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: جموں و کشمیر کانگریس گزشتہ کئی ماہ سے اندرونی انتشار اب کھل کر سامنے آرہا ہے ۔ چند ہفتے قبل یہ پارٹی کی اندورنی بغاوت اس وقت سامنے آئی جب جموں وکشمیر کانگریس کے سینئر نائب صدر غلام نبی مونگا سمیت کچھ اور لیڈروں کی جانب سے پارٹی ہائی کمان کو روانہ کیا گیا ایک مکتوب منظر عام پر آیا ۔ اس خط میں ان لیڈروں نے پارٹی ہائی کمان کو لکھا کہ وہ پارٹی میں تمام عہدوں سے مستفی ہورہے ہیں ۔ خط کے مطابق ان لیڈروں نے یہ قدم اس لئے اٹھایا ہے تاکہ جموں وکشمیر میں پارٹی کے صدر کو تبدیل کیا جائے۔ ان لیڈروں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی کے موجود صدر غلام احمد میر پارٹی لیڈران کو ساتھ لیکر چلنے اور کانگریس کو بنیادی سطح پر مضبوط بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ اگر چہ پارٹی ہائی کمان کی طرف سے اس خط کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ۔ تاہم اس سے کانگریس کے اندر چل رہی گروپ بندی کھل کر سامنے اگئی۔

    پارٹی کے ان ناراض لیڈران کو سابق مرکزی وزیر و کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس کا واضح اشارہ اس وقت ملا جب ان لیڈران نے غلام نبی آزاد کی جانب سے منعقد کی گئی عوامی میٹنگوں میں شرکت کی ۔ میٹنگوں کے حاشیے پر چند ناراض لیڈران نے کھل کر یہ کہا کہ وہ غلام نبی آزاد کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ وہ قابل سیاست دان ہیں اور چاہتے ہیں کہ غلام نبی آزاد کانگریس کی کمان سنبھال لیں ۔ ایسا مانا جارہا ہے کہ غلام نبی آزاد اب جموں وکشمیر کی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہتے ہیں اور کانگریس کے ناراض گروپ کی پشت پناہی کرنا اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

    غلام نبی آزاد کی اس کوشش کا کانگریس پارٹی پر کتنا اثر پڑے گا؟ اس کے بارے میں سیاسی تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ اس گروپ کے پارٹی سے علاحدگی اختیار کرنے کے باوجود بھی کانگریس پارٹی پر زیادہ منفی اثر نہیں پڑے گا ۔ جموں وکشمیر کے سینئر صحافی اور نامور سیاسی تجزیہ نگار محمد سعید ملک کا کہنا ہے کہ غلام نبی آزاد کی جانب سے کانگریس لیڈران کا الگ گروپ بنائے جانے سے پارٹی پر کوئی خاص اثر نہیں پڑسکتا کیونکہ غلام نبی آزاد کا مقامی سطح پر اتنا اثر رسوخ نہیں ہے ۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے محمد سعید ملک نے کہا کہ چونکہ کانگریس ایک قومی سطح کی سیاسی جماعت ہے ، لہذا اس کے تمام فیصلے ہائی کمان ہی کرتی ہے اور کانگریس کی اعلیٰ کمان گزشتہ ایک برس کے زیادہ عرصے سے غلام نبی آزاد سے خوش نہیں ہے۔ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کی طرف سے ماضی قریب میں بھی ایسے واضح اشارے ملے ہیں جس سے صاف ظاہر ہوگیا ہے کہ وہ غلام نبی آزادپر بھروسہ کرنا پارٹی کے مفاد نہیں ہوگا۔

    محمد سعید ملک نے کہا کہ غلام نبی آزاد زیادہ تر جموں وکشمیر سے باہر ہی رہے ہیں لہذا وہ زمینی سطح پر پارٹی کے بنیادی ورکروں اور عام لوگوں سے زیادہ جڑ نہیں پائے ۔ تاہم جموں وکشمیر کا وزیر اعلیٰ رہنے کے سبب وہ لوگوں میں کسی حد تک مقبول ہو پائے ہیں ۔ تاہم ان کی مقبولیت کانگریس پارٹی کو جموں وکشمیر میں زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتی ہے۔ ملک کے مطابق غلام نبی آزاد چناب ویلی کے چند علاقوں میں کانگریس کے ووٹ بنک کو اثر انداز کرسکتے ہیں ۔ تاہم مجموعی طور پر کانگریس کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکتی ۔

    محمد سعید ملک نے کہاکہ کانگریس پارٹی کے موجودہ صدر غلام احمد میر نے پارٹی کا عہدہ سنبھالتے ہی جموں وکشمیر میں کانگریس کو نہ صرف جموں خطے بلکہ کشمیر ڈویژن میں بھی بنیادی سطح پر مضبوط بنانے کے لیے کافی محنت کی ہے اور اس کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پانچ اگست دوہزار انیس کے فیصلے پر کانگریس پارٹی نے قومی سطح پر دفعہ تین سو ستر اور پینتیس اے کی منسوخی کے بارے میں جو موقف اختیار کیا اس سے کشمیر وادی میں  پارٹی کےووٹ بنک پر منفی اثر پڑا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ اگر چہ کانگریس پارٹی کے جموں وکشمیر کے صدر غلام احمد میر نے دفعہ تین سو ستر اور پینتیس اے کی منسوخی کے بارے میں بیانات جاری کرتے وقت کافی احتیاط برتی ۔ تاہم پارٹی کو ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مزید محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: