உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jammu and Kashmir: کانگریس میں بڑی ٹوٹ، غلام نبی آزاد کی حمایت میں 50 لیڈران نے دیا پارٹی سے استعفیٰ

    جموں وکشمیر: غلام نبی آزاد کی حمایت میں 50 لیڈران نے دیا پارٹی سے استعفیٰ

    جموں وکشمیر: غلام نبی آزاد کی حمایت میں 50 لیڈران نے دیا پارٹی سے استعفیٰ

    کانگریس پارٹی کی جموں وکشمیر یونٹ میں بڑی ٹوٹ پڑگئی ہے۔ غلام نبی آزاد کی حمایت میں ریاستی کانگریس کے 50 لیڈران نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
      سری نگر: کانگریس پارٹی کی جموں وکشمیر یونٹ میں بڑی ٹوٹ پڑگئی ہے۔ غلام نبی آزاد کی حمایت میں ریاستی کانگریس کے 50 لیڈران نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پارٹی سے استعفیٰ دینے والے کچھ بڑے لیڈران میں کانگریس کے سینئر لیڈر اور ریاست کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تارا چند، سابق وزیر عبدالمجید وانی، سابق وزیر چودھری گارو رام، سابق وزیر منوہر لال شرما، سابق رکن اسمبلی بلوان سنگھ، سابق ڈپٹی اسپیکر غلام حیدر علی اور نوجوان لیڈر نریندر شرما شامل ہیں۔ اس سے پہلے 26 اگست کو کانگریس لیڈر جی ایم سروری، حاجی عبدالراشد، محمد امین بھٹ، گلزار احمد وانی، چودھری محمد اکرم اور سینئر کانگریس لیڈر اور سابق وزیر آر ایس چب نے کانگریس پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

      واضح رہے کہ غلام نبی آزاد نے 26 اگست کو کانگریس کی بنیادی رکنیت سمیت تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے پارٹی کے سبھی عہدوں اور ابتدائی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ غلام نبی آزاد اپنی نئی پارٹی بنائیں گے اور جموں وکشمیر کی سیاست میں سرگرم کردار نبھائیں گے۔ اسی ماہ 16 اگست کو کانگریس نے غلام نبی آزاد کو جموں وکشمیر پردیش کیمپین کمیٹی کا صدر بنایا گیا تھا، لیکن غلام نبی آزاد نے اپنی تقرری کے دو گھنٹے بعد ہی عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ میری تنزلی (ڈیموشن) ہے۔



      دراصل، 73 سالہ غلام نبی آزاد جموں وکشمیر کانگریس کی کمان سنبھالنا چاہتے تھے، لیکن اعلیٰ کمان نے ان کے بجائے 47 سال کے وقار رسول وانی کو یہ ذمہ داری دے دی۔ وقار رسول وانی کو غلام نبی آزاد کا بے حد قریبی بتایا جاتا ہے۔ وہ بانیہال سے رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ غلام نبی آزاد کو اعلیٰ کمان کا یہ فیصلہ پسند نہیں آیا تھا۔ انہوں نے اس فیصلے کو اپنے قریبی لیڈران کو توڑنے کی سازش کی طرح لیا تھا اور آخر میں کانگریس کا ہاتھ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

      غلام نبی آزاد اس G-23 گروپ کا بھی حصہ تھے، جو کانگریس میں کئی بڑی تبدیلیوں کی پیروی کرتا ہے۔ سونیا گاندھی کو بھیجے اپنے 5 صفحات کے استعفیٰ میں غلام نبی آزاد نے یہ بھی لکھا تھا کہ کانگریس کے لئے فکر کرنے والے اور اصلاح کا مطالبہ کر رہے لیڈران کو گالیاں دی گئیں، بدنام کیا گیا۔ انہوں نے کانگریس کی بربادی کے لئے سیدھے طور پر راہل گاندھی کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سنجیدہ شخص نہیں ہیں اور چاپلوسوں سے گھرے ہوئے ہیں۔ آزاد نے اپنے استعفیٰ کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ کانگریس کو ان کی دعاوں کی نہیں بلکہ تلخ دواوں کی ضرورت ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: