ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

کشمیر میں ریکارڈ ساز سردیوں کا سلسلہ جاری، جملہ آبی ذخائر منجمد

کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر- جموں قومی شاہراہ پر ہفتے کی سہہ پہر کو چھ روز بعد ٹریفک کی نقل و حمل جزوی طور بحال کردی گئی۔ تاہم وادی کشمیر کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر- لیہہ شاہراہ سال رواں کے یکم جنوری سے ٹریفک کی نقل و حمل کے لئے بند ہے

  • UNI
  • Last Updated: Jan 17, 2021 02:03 PM IST
  • Share this:
کشمیر میں ریکارڈ ساز سردیوں کا سلسلہ جاری، جملہ آبی ذخائر منجمد
فائل فوٹو

سری نگر۔ وادی کشمیر میں خشک موسم کے بیچ ریکارڈ ساز سردیوں کا سلسلہ برابر جاری ہے جس نے اہلیان وادی کو گوناگوں مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے بتایا کہ گرمائی دارالحکومت سری نگر میں گذشتہ شب مسلسل پانچویں روز بھی شبانہ درجہ حرارت معمول سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ کم درج ہوا ہے۔ متعلقہ محکمے کی پیش گوئی کے مطابق وادی کشمیر میں 21 جنوری تک موسم مجموعی طور پر خشک رہنے کی توقع ہے۔


دریں اثنا وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر- جموں قومی شاہراہ پر ہفتے کی سہہ پہر کو چھ روز بعد ٹریفک کی نقل و حمل جزوی طور بحال کردی گئی۔ تاہم وادی کشمیر کو لداخ یونین ٹریٹری کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر- لیہہ شاہراہ سال رواں کے یکم جنوری سے ٹریفک کی نقل و حمل کے لئے بند ہے جبکہ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے ضلع پونچھ کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل روڈ پر بھی گذشتہ زائد از ایک ماہ سے ٹریفک معطل ہے۔ وادی کشمیر میں اتوار کے روز بھی موسم صبح سے ہی نہ صرف خشک رہا بلکہ ہلکی دھوپ بھی چھائی رہی لیکن شدت کی شبانہ سردیوں نے لوگوں کو بے حال کرکے رکھ دیا ہے۔ شدید سردیوں کے باعث وادی کے جملہ آبی ذخائر مسلسل منجمد ہیں اور مساجد و خانقاہوں یہاں تک کہ گھروں میں نصب نل بھی جم گئے ہیں جس سے لوگ پانی کے بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں۔ بعض مساجد انتظامیہ نے نمازیوں سے گھروں سے ہی وضو کرکے آنے کے کی اپیل کی ہے۔


وادی کے شہرہ آفاق ڈل جھیل کی منجمد سطح مزید سنگین ہوگئی ہے اور حکام نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سطح پر چلنے پھرنے یا کھیلنے سے اجتناب کریں۔ متعلقہ محکمہ نے جھیل ڈل کی منجمد سطح پر چلنے پھرنے یا کھیلنے سے لوگوں کو باز رکھنے کے لئے باقاعدہ نفری تعینات کر رکھی۔ وادی میں جاری شدید سردیوں سے جملہ شعبہ ہائے حیات متاثر ہوئے ہیں اور کاروباری سرگرمیاں بھی صبح کے وقت دیر سے ہی شروع ہوجاتی ہیں نیز سڑکوں پر ٹریفک بھی ذرا دیر سے ہی نمودار ہوجاتا ہے۔


محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 7.8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جو گذشتہ شب کے کم سے کم درجہ حرارت سے زائد از ایک ڈگری سینٹی گریڈ کم تھا۔ سری نگر میں 14 جنوری کی شب نہ صرف رواں موسم سرما کی اب تک کی سرد ترین رات ریکارڈ ہوئی بلکہ سردیوں کا پچیس سالہ پرانا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا جب کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا۔ وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 4.2 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 8.7 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ سرحدی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 6.2 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 9.0 ڈگری سینٹی گریڈ ریکاڈ ہوا ہے۔

 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 17, 2021 02:03 PM IST