ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

روہنگیائی مسلمانوں کی وطن واپسی، سرکاری فیصلے سے روہنگائیوں میں تشویش کی لہر

جموں میں روہنگیائی تارکین وطن کو اپنے ملک واپسی کرنے کے سرکاری حکم نامے کو لےکر ان روہنگیائیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس سلسلے میں سیاسی سطح پر بھی متضاد رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ اس سلسلے میں تازہ سیاسی ہلچل کے بیچ بی جے پی ان کو واپس اپنے ملک دھکیلنے کی حامی ہے۔

  • Share this:
روہنگیائی مسلمانوں کی وطن واپسی، سرکاری فیصلے سے روہنگائیوں میں تشویش کی لہر
روہنگیائی مسلمانوں کی وطن واپسی، سرکاری فیصلے سے روہنگائیوں میں تشویش کی لہر

جموں میں روہنگیائی تارکین وطن کو اپنے ملک واپسی کرنے کے سرکاری حکم نامے کو لےکر ان روہنگیائیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس سلسلے میں سیاسی سطح پر بھی متضاد رد عمل سامنے آ رہا ہے۔ اس سلسلے میں تازہ سیاسی ہلچل کے بیچ بی جے پی ان کو واپس اپنے ملک دھکیلنے کی حامی ہے۔ وہیں نیشنل کانفرنس، سی پی آئی ایم اور دیگر علاقائی جماعتیں اس معاملے کو انسانی مسئلے کے طور پرنمٹنے کی سرکار سے اپیل کررہی ہیں، اس حوالے سے تازہ جانکاری کے تحت یو ٹی سرکار نے جموں کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر روہنگیائی تارکین وطن کو ان کے وطن برما واپس ڈوپوٹ کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا ہے، جس کے تحت پچھلے کچھ دونوں کے دوران پولیس نے ان روہنگائیوں کی عارضی رہائش گاہوں پر تالے چڑھائے ہیں اور ان میں کئی ایک کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔


دوسال قبل برما میں حالات خراب ہوگئے، جس کے بعد وہاں روہنگیائی مسلمانوں نے جموں کے مختلف علاقوں میں عارضی پناہ لی ہے جس میں ایم اے اسٹیڈیم کے علاوہ نروال میں وہ رہائش پذیر ہوگئے تھے۔ چنانچہ اب لوگ کئی سال سے ان عارضی رہائش گاہوں میں رہائش پذیر ہوگئے ہیں اور مشکلات اور مصائب کے دن گذار رہے یہں تاکہ ان کی زندگی بچ سکے ، ان میں ادھیڑ عمر کے ساتھ ساتھ خواتین اور معصوم بچے شامل ہیں، چنانچہ بی جے پی بار بار اس بات کا مطالبہ کرتی اآئی ہے کہ روہنگائی تارکین وطن سیکورٹی کےلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں اور انہیں واپس اپنے ملک دھکیلا جائے ، چنانچہ اس سلسلے میں سرکار نے پہلے بھی ان سے کاغذات طلب کئے ہیں ،تاہم یوٹی سرکار نے تازہ اقدامات کے تحت اب ان روہنگیائی مسلمانوں کےخلاف کاروائی کا آغاز کر دیا ہے جس کے باعث ان روہنگئیائیوں میں زبردست تشویش پائی جارہی ہے ،اس بیچ سیاسی محاذ پر گرم ہوگیا ہے اور اس پر سیاسی جماعتوں کا متضاد رد عمل سامنے آیا ہے، اس کانگریس نے بھی بی جے پی طرز پر ان غیرقانونی طورپررہائش پذیر روہنگیائیوں کووطن واپس بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔


اس سلسلے میں رمن بھلا نے بھی کہا ہے کہ غلط طریقے سے راخل ہونے والے ان تارکین وطن کو واپس بھیج دیا جائے ،تاہم بی جے پی کے  کوندرگپتا کا مطالبہ کہ  ان کو واپس کریں کیونکہ یہ ملک کی سیکورٹی کےلئے خطرہ ہیں اور ان میں کچھ عناصر امن دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں ، تاہم سی پی اآئی لیڈر محمد یوسف تاریگامی  کا کہنا ہے کہ انسانیت کی بنیاد پر انہیں رہنے دیا جائے تاکہ ان کی جانیں بچ سکیں ، ساتھ ہی ساتھ ان کا کہنا ہے کہ پہلے برما اور بنگلہ دیش کی حکومت سےبات  چیت کی جائے ،عام لوگوں کا کہنا ہے کہ روہنگائی غلط طریقے سے رہ رہے ان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے۔ادھرپی ڈی پی نے اس قدم کی مخالفت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ سنجیدہ مسئلہ ہے اور انسانیت کی بنیاد پر ان مسئلے سے نمٹا جائے جبکہ نیشنل کانفرنس کا بھی یہی موقف ہے۔


وہیں دوسری طرف اگر چہ ایک سو ستر کےقریب روہنگیائی مسلمانوں کو ڈی ٹینشن سینٹروں میں منتقل کیا گیا جس میں کچھ کے پاس ضروری دستاویزات نہیں تھے ان کی جانچ کی جارہی ہے ، تاہم یو پی حکومت کے اس اقدامات پر اگر کرئی پریشان ہے تو وہ بدقسمت روہنگیائی ہیں جو وطن واپس جانے کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ان کی زندگی وہان محفوظ نہیں ہے اور وہ انسانیت کی بنیاد پر یہاں رہنا چاہتے ہیں جب تک برما میں حالات بہتر ہوسکیں ، کیونکہ اآج بھی وہاں حالات انتہائی حد تک کشیدہ ہیں ۔تاہم روہنگئیائیوں کو واپس وطن بھیجنے کو لیکر جموں میں سیاسی سطح پر بھوچال اآیا ہے جو اآنے والے دنوں میں مزید شدید ہوسکتا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 10, 2021 11:31 AM IST