உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر پولیس کو کیوں ملے سب سے زیادہ بہادری ایوارڈ، وزیر داخلہ امت شاہ نے کیا انکشاف

    جموں وکشمیر پولیس کو کیوں ملے سب سے زیادہ بہادری ایوارڈ، وزیر داخلہ امت شاہ نے کیا انکشاف

    جموں وکشمیر پولیس کو کیوں ملے سب سے زیادہ بہادری ایوارڈ، وزیر داخلہ امت شاہ نے کیا انکشاف

    Gallantry Awards, Jammu Kashmir: وم جمہوریہ (Republic Day) کے موقع پر مرکزی وزیر نے مختلف مرکزی اور ریاستی پولیس اہلکاروں کے جوانوں کو 939 سروس میڈلز فراہم کئے گئے۔ ان میں بہادری کے لئے دیئے گئے 189 تمغے شامل ہیں۔

    • Share this:
      سری نگر: یوم جمہوریہ (Republic Day) کے موقع پر مرکزی وزیر نے مختلف مرکزی اور ریاستی پولیس اہلکاروں کے جوانوں کو 939 سروس میڈلز فراہم کئے گئے۔ ان میں بہادری کے لئے دیئے گئے 189 تمغے شامل ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ (Home Ministry) نے بدھ کو ان جوانوں کے ناموں کی فہرست جاری کی، جنہیں بہادری کے لئے پولیس میڈل، امتیازی خدمات کے لئے صدر کے پولیس میڈل اور قابل تعریف خدمات کے لئے پولیس میڈل سے سرفراز کیا گیا ہے۔ بہاردی کے لئے دیئے جانے والے 189 تمغوں میں سے 115 میڈل جموں وکشمیر (Jammu and Kashmir) علاقے میں بہادری دکھانے والے جوانوں کو دیئے گئے ہیں۔

      جموں وکشمیر کے جوانوں کو ملے اس اعزاز کے لئے وزیر داخلہ امت شاہ نے مبارکباد دی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ان جوانوں کو دیئے گئے اعزاز کی وجہ بھی بتائی۔ وزیر داخلہ نے کہا، ’جموں وکشمیر پولیس دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کی لڑائی کی قیادت کر رہی ہے۔ یہ پورے ملک کے لئے بہت فخر کی بات ہے کہ جموں وکشمیر پولیس نے یوم جمہوریہ کے موقع پر 115 بہادری ایوارڈ جیتا ہے۔ یہ ان کی بہادری اور عزم کو ظاہر کرتا ہے‘۔

      وزیرداخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

      وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا، ’میں اس اہم حصولیابی پر سبھی جموں وکشمیر پولیس اہلکاروں کو مبارکباد دیتا ہوں اور ان کی بہادری کو سلام کرتا ہوں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت ہمارے بہادر پولیس اہلکاروں کو پہچاننے اور ان کا احترام کرنے کے لئے پابند عہد ہے‘۔

      وہیں دہشت گرد مخالف مہم میں شہید ہوئے جموں وکشمیر پولیس کے افسران بابو رام کی بیوی کو 73ویں یوم جمہوریہ پر ہندوستان کے اشوک چکرا سے نوازا گیا، جو ہندوستان کا امن کے وقت کا سب سے بڑا بہادری ایوارڈ ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: