ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں و کشمیر : غلام نبی آزاد کے بیان کے بعد کانگریس میں پھوٹ کے آثار ، ریاستی صدر نے کی یہ بڑی اپیل

پردیش کانگریس کے کئی لیڈران ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں ، جس سے کانگریس میں پھوٹ صاف دکھ رہی ہے ۔ غلام نبی آزاد کے وزیر اعظم سے منسوب بیان نے جموں و کشمیر کانگریس میں غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے ۔

  • Share this:
جموں و کشمیر : غلام نبی آزاد کے بیان کے بعد کانگریس میں پھوٹ کے آثار ، ریاستی صدر نے کی یہ بڑی اپیل
کانریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد ۔ فائل فوٹو ۔

سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کے حالیہ جموں دورے اور ان کے بیانات سے جموں و کشمیر کانگریس میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔ پردیش کانگریس کے کئی لیڈران ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں ، جس سے کانگریس میں پھوٹ صاف دکھ رہی ہے ۔ غلام نبی آزاد  کے وزیر اعظم سے منسوب بیان نے جموں و کشمیر کانگریس میں غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے ۔ بیان کے فورا بعد جموں و کشمیر یوتھ کانگریس کے کارکنان نے دو مارچ کو جموں میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ غلام نبی آزاد  پارٹی کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غلام نبی آزاد اور گروپ 23 کے  لیڈران کے بیانات پارٹی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں ۔ وہیں کانگریس کے ایک اور گروپ نے غلام نبی آزاد کی حمایت میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا ۔ اس دوران پارٹی لیڈران نے آزاد کی مخالفت کرنے والے گروپ کو تنقید کا نشانہ بنایا ، جس سے یہ صاف ظاہر ہوگیا کہ جموں و کشمیر کانگریس میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔


ادھر پارٹی کے صدر غلام احمد میر کانگریس میں گروپ بندی کی پردہ پوشی کی کوشش کر رہے ہیں ۔ تاہم دبے الفاظ میں اقرار کے ساتھ ہی تمام پارٹی کارکنوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف بیانات جاری کرنے کی بجائے پارٹی قیادت سے بات چیت کریں ۔  نیوز18 اردو کے ساتھ خصوصی بات چیت کے دوران غلام احمد میر نے پارٹی کارکنوں سے اپیل کی کہ  وہ اس مسئلے کو طول نہ دیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ غلام نبی آزاد جس شخصیت کے مالک ہیں ، ان کا معاملہ جموں و کشمیر میں طے نہیں ہونا ہے ۔ بلکہ وہ قومی سطح پر ہی طے ہوگا ۔ جی اے میر نے کارکنان سے کہا کہ غلام نبی آزاد پارٹی کی قومی لیڈرسپ کے قریب رہ چکے ہیں اور وہ اپنے مسائل سُلجھانے کی مہارت رکھتے ہیں۔


میر نے کارکنان سے کہا کہ انہیں گروپ بندی سے گریز کرکے متحد ہوکر کام کرنا پڑے گا ۔ تاکہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو درپیش تکالیف کا حل نکالا جاسکے اور پارٹی بھی بنیادی سطح پر مزید مظبوط ہوسکے ۔ کانگریس کی حریف جماعتیں اس معاملہ پر محتاط انداز میں اپنا رد عمل ظاہر کر رہی ہیں۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی میں اس طرح کی گروپ بندی کوئی نیا معاملہ نہیں ۔ پارٹی کے ترجمان بریگیڈیئر انل گُپتا کا کہنا ہے کہ کانگریس میں بسا اوقات لیڈروں نے اپنے نئے وفادار ساتھیوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس میں اندرونی گروپ بندی سے بی جے پی کو کوئی فرق نہیں پڑ سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لیڈران کبھی بھی بی جے پی میں شامل نہیں ہوسکتے کیونکہ دونوں پارٹیوں کا نظریہ اور منشور الگ الگ ہے۔


وہیں سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کانگریس پارٹی کے اندر گروپ بندی نہ صرف اس پارٹی بلکہ ملک میں ایک مظبوط اپوزیشن کے وجود کے لئے بھی نیک شگون نہیں ہے ۔ سیاسی تجزیہ نگار پرکھشت منہاس کا کہنا ہے کہ غلام نبی آزاد اور ان کے دیگر ساتھی اگر پارٹی سے ناراض ہیں ، تو انہیں اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں واضح طور پر اپنی بات رکھنی چاہئے ۔

منہاس کا کہنا ہے کہ اگر یہ لیڈران کانگریس میں رہ کر ہی پارٹی کے خلاف بیانات دیتے رہیں گے تو یہ پارٹی اندرونی اختلافات میں ہی اُلجھتی رہے گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کانگریس قومی یا علاقائی سطح پر لوگوں کے مسائل کو حل کرنے کی جانب دھیان نہیں دے پائے گی ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 05, 2021 08:47 PM IST