ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

سپریم کورٹ نے مرکز سے کہا۔ عمر عبداللہ کو رہا کرنا ہے تو جلدی کریں، ورنہ...

عدالت نے کہا کہ اگر آپ عمر عبداللہ کو رہا کر رہے ہیں تو انہیں جلد رہا کیا جائے یا پھر ہم حراست کے خلاف ان کی بہن کی عرضی پر سماعت کریں گے۔

  • Share this:
سپریم کورٹ نے مرکز سے کہا۔ عمر عبداللہ کو رہا کرنا ہے تو جلدی کریں، ورنہ...
عمر عبداللہ: فائل فوٹو

نئی دہلی۔ جموں وکشمیر (Jammu Kashmir)  کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ (Omar Abdullah) کی رہائی کو لے کر سپریم کورٹ میں بدھ کو سماعت ہوئی۔ اس دوران عدالت نے مرکز سے اگلے ہفتے تک اسے مطلع کرنے کے لئے کہا کہ کیا وہ جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو حراست سے رہا کرا رہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر آپ عمر عبداللہ کو رہا کر رہے ہیں تو انہیں جلد رہا کیا جائے یا پھر ہم حراست کے خلاف ان کی بہن کی عرضی پر سماعت کریں گے۔




بتا دیں کہ عبداللہ کی بہن سارا عبداللہ پائلٹ نے جموں وکشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت عبداللہ کی حراست کو چیلنج کیا ہے۔ اس سے پہلے سارا نے پیر کے روز سپریم کورٹ میں جموں وکشمیر انتظامیہ کے اس دعوے کو مسترد کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے عوامی نظم ونسق کو خطرہ ہو گا۔

عمر عبداللہ پانچ اگست، 2019 سے سی آر پی سی کی دفعہ 107 کے تحت حراست میں ہیں۔ اس قانون کے تحت، عمر عبداللہ کی چھ ماہ کی احتیاطاً حراستی مدت پانچ فروری 2020 کو ختم ہونے والی تھی، لیکن حکومت نے انہیں دوبارہ پی ایس اے کے تحت حراست میں لے لیا ۔
First published: Mar 18, 2020 12:44 PM IST