உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    J&K News: سرکاری اراضی پر اسکولوں کے معاملہ میں ہائی کورٹ نے دی اسکول انتظامیہ کو بڑی راحت

    J&K News:  سرکاری اراضی پر اسکولوں کے معاملہ میں ہائی کورٹ نے دی اسکول انتظامیہ کو بڑی راحت

    J&K News: سرکاری اراضی پر اسکولوں کے معاملہ میں ہائی کورٹ نے دی اسکول انتظامیہ کو بڑی راحت

    Jammu and Kashmir: ہائی کورٹ جموں و کشمیر لداخ نے سرکاری زمین یا کہہ چرائی پر قائم نجی اسکولوں کو ایک بڑی راحت دی ہے۔ عدالت میں داخل ایک درخواست پر کورٹ نے فی الحال جوں کی توں حالت برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے اس معاملہ کی سماعت کیلئے 18 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔

    • Share this:
    سرینگر : ہائی کورٹ جموں و کشمیر لداخ نے سرکاری زمین یا کہہ چرائی پر قائم نجی اسکولوں کو ایک بڑی راحت دی ہے۔ عدالت میں داخل ایک درخواست پر کورٹ نے فی الحال جوں کی توں حالت برقرار رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے اس معاملہ کی سماعت کیلئے 18 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اراضی یا کہہ چرائی پر قائم پرائیویٹ اسکولوں کو بند کرنے کی قواعد شروع کردی ہے اور اس کے خلاف جموں و کشمیر پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے بینر تلے پچاس کے قریب اسکولوں نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

    وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام سمیت کئی اضلاع کے چیف ایجوکیشن افسران نے ان اسکولوں کی فہرست مرتب کرکے انھیں فوری طور بند کرنے اور ان میں زیر تعلیم طلبا کو نزدیکی سرکاری اسکولوں میں داخل کروانے کی ہدایت دی تھی۔ ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر میں 400 سے زائد اسکول سرکاری زمین یا کہہ چرائی پر قائم ہیں اور کئی بڑے اور نامی اسکول بھی لیز پر لی گئی سرکاری زمین پر بنائے گئے ہیں، لیکن فی الحال نوٹس دیہات میں واقع اسکولوں کو بھیجے جا رہے ہیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ کے سیاح کی جان بچانے کیلئے کشمیری ٹورسٹ گائیڈ نے دے دی اپنی جان


    جموں کشمیر پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے صدر جی این وار کا کہنا ہے کہ ان اسکولوں میں اکثر اسکول پچھلے 40 سال سے قائم ہیں اور سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہیں۔ انھوں نے سوال پوچھا کہ اچانک اس سال سرکار کو انہیں بند کرنے کی کیوں سوجھی، یہ سمجھ سے پرے ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی ایک اسکول کو بھی بند کرنا صحیح نہیں ہوسکتا، کیونکہ ان کے مطابق اس بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ اسکول کو بند کرنے کی بجائے اسے رجسٹرڈ کرنا چاہئے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: یاترا کو ہر لحاظ سے محفوظ بنانے کیلئے پہلگام اور بال تل میں ماک ڈرلز


    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جن اسکولوں پر تالا ڈالنے کے لئے قواعد شروع کی گئی تھی، ان میں ایک لاکھ کے قریب زیر تعلیم ہیں اور انہیں زبردستی سرکاری اسکولوں میں نہیں ڈالا جاسکتا ۔ ایک سوال کے جواب میں جی این وار نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ یہ اسکول کوئی الگ تعلیم دیتے ہیں، بلکہ ان کے مطابق یہاں صرف سرکار کی جانب سے منظور شدہ سیلبس ہی پڑھایا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ تعلیمی ادارے زیادہ تر کمیونٹی اسکول ہیں، جنہیں مقامی لوگوں پر مشتمل کمیٹیاں چلاتی ہیں۔ پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اسکولوں کو بند کرنے کے احکامات واپس لئے جائیں، کیونکہ ایسا کرنا تعلیم حاصل کرنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوگی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: