உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سائنسدانوں اور طلبا  نے  کوکون کرافٹ جیسی  پہل کی شروع، روزگار کے مواقع بھی ہوسکتے ہیں فراہم

    اس پہل کے ذریعے طالب علم اور ریشم پالنے والے کسان ضائع شدہ ریشم کوکون cocoons  استعمال میں لاکر کمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ایک زمانے سے ریشم کے کیڑے کے خول استعمال کئے بغیر ردی کی ٹوکری میں پھینکےجاتے تھے اب جدید ٹیکنالوجی اور جدید تقاضوں سے ماہرین نے ریشم کے کیڑے کے یہ خول استعمال میں لائے    جاتے ہیں ۔

    اس پہل کے ذریعے طالب علم اور ریشم پالنے والے کسان ضائع شدہ ریشم کوکون cocoons استعمال میں لاکر کمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ایک زمانے سے ریشم کے کیڑے کے خول استعمال کئے بغیر ردی کی ٹوکری میں پھینکےجاتے تھے اب جدید ٹیکنالوجی اور جدید تقاضوں سے ماہرین نے ریشم کے کیڑے کے یہ خول استعمال میں لائے جاتے ہیں ۔

    اس پہل کے ذریعے طالب علم اور ریشم پالنے والے کسان ضائع شدہ ریشم کوکون cocoons استعمال میں لاکر کمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ایک زمانے سے ریشم کے کیڑے کے خول استعمال کئے بغیر ردی کی ٹوکری میں پھینکےجاتے تھے اب جدید ٹیکنالوجی اور جدید تقاضوں سے ماہرین نے ریشم کے کیڑے کے یہ خول استعمال میں لائے جاتے ہیں ۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر:  شمالی کشمیرکے ضلع بارہمولہ پٹن کے میر گنڈ میں قائم شیرکشمیر  یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی آف کشمیر کے ڈیوژن آف کوکون کراپ پروڈکشن کالج  آف ٹمپریٹ سری کلچر میں تعنیات سائنس دانوں اور طالب علموں  نے  کوکون کرافٹ cocoon craft کی پہل شروع کی۔ اس پہل کے ذریعے طالب علم اور ریشم پالنے والے کسان ضائع شدہ ریشم کوکون cocoons  استعمال میں لاکر کمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ایک زمانے سے ریشم کے کیڑے کے خول استعمال کئے بغیر ردی کی ٹوکری میں پھینکےجاتے تھے اب جدید ٹیکنالوجی اور جدید تقاضوں سے ماہرین نے ریشم کے کیڑے کے یہ خول استعمال میں لائے  جاتے ہیں ۔ اتنا ہی بلکہ ان کےاستعمال روزگا کے وسائل بھی نکل آئے۔ریشم کے کیڑے شہتوت کے پتے کھاتے اور زیادہ عرصہ سوئے رہتے ہیں آخری اسٹیج میں یہ اپنے جسم سے ریشہ خارج کرتے اور پھر خود کو ریشم کی اس خول میں قید کرلیتے ہیں۔

    ریشم کی اس ٹوٹی کو جب گرم پانی میں ڈال کر ان سے ریشم حاصل کیا جاتا ہے تو یہ کیڑا مرجاتا ہے، یوں ریشم کے یہ ہزاروں کیڑے اپنی جان دیکرانسان کو پہننے کے لئے ریشم فراہم کرتا ہے۔  بعد میں ضائع شدہ ریشم کوکون سے مخلف کرافٹ بھی تیار کئے جاتے ہیں ۔ضائع شدہ ریشم کوکون cocoons  استعمال میں لاکر کمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ایک زمانے سے ریشم کے کیڑے کے خول استعمال کئے بغیر ردی کی ٹوکری میں پھینکےجاتے تھے اب جدید ٹیکنالوجی اور جدید تقاضوں سے ماہرین نے ریشم کے کیڑے کے یہ خول استعمال میں لائے جاتے ہیں ۔اتنا ہی بلکہ ان کےاستعمال  سے روزگار کے وسائل بھی  ڈھونڈنکالے کی کوششیں کی جارہی ہے۔یعنی ضائع شدہ ریشم کوکون cocoon  سے مختلف طرح کے آرٹ کرافٹ تیار کئے جاتے ہیں ۔

    اپنے فون کے چوری ہونے یا کھو جانے پر کیسے تلاش کریں اور ڈلیٹ کر سکتے ہیں ڈیٹا: یہاں جانیں طریقہ

    یہ بھی پڑھیں: یہ کیا بول گئے The Kashmir Files کے ڈائریکٹر، وویک اگنی ہوتری نے کہا، بھوپالی کا مطلب ہم جنس پرست
    میرگنڈ کے کالج میں زیر تعلیم طالب علم اپنے اساتذہ کی نگرانی میں ضائع شدہ ریشم کوکون سےطرح طرح ڈیزائن تیار کرتے ہیں ۔ کالج کے ماہرین طالب علموں اورکسانوں کو اس آمدنی بخش کام کی تربیت بھی دیتے ہیں۔ڈیوژن آف کوکون کرافٹ، میر گنڈ کالج کے صدر شعبہ ڈاکٹر نثار نے نیوز18اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سلک وارم ریئرنگ کا مقصد ہے کہ کوکونز سے پیدوار حاصل کرنا تاکہ کسانوں کی آمدنی حاصل ہوسکے۔ ڈاکٹر نثار نےکہا،"  سلک وارم کے دوران کچھ کوکونز ضائع ہوجاتے ہیں،پورے کوکونز ریشم نہیں بناتے،کچھ کٹ جاتے ہیں تو انہیں ہم ضائع مواد تصور کرتے ہیں لیکن ان ضائع کوکونز کو استعمال میں لانے کے لئے ایک پہل شروع کی۔ہم نے یہ سوچنا ہے کہ ایک نظریہ ہے waste to wealth اس waste کو کیسے wealth میں منتقل کریں"کوکون کراپ پروڈکشن کالج  آف سری کلچر میر گنڈ میں طالب علم ضائع شدہ ریشم کوکون سے مختلف  کرافٹ  بنا کر از خود روزگار اور آمدنی پیدا کرنے کے علاوہ انسانی مہارتوں کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ان کوکونز سے     مالا،پھولوں کا گلدستہ، گڑیا، زیورات،پھانسیاں، دیوار کی تختیاں، گھڑیاں، گلدستے اور گریٹنگ کارڈ  وغیروہ بنائے جاتے ہیں ۔ انہیں اپن  مارکٹ میں بھی فروخت کرسکتے ہیں ۔ماہرین کا کہناہے کہ کئی سالوں تک کوکون سے بنائے جانے والا آرٹ محفوظ ر ہ سکتاہے۔

    عمران خان کے گھر زندہ مرغے جلا رہی ہیں بیوی بشریٰ، کیا کالے جادو سے بچے گی حکومت؟ پاس ہیں دو جن!



    اس کام سے  طالب علم  اور کسان کرافٹ کے یونٹس کھڑا کرسکتے ہیں ۔شادی کی تقریب ہو یا دیگر مواقع ،ان تقریبات میں کوکون سے مختلف طرح کے بنائے جاتے  آرٹ کو بطور تحفہ لے جاتے ہیں۔ ان  مخصوص ڈیزائین کو دیکھتے ہوئے  طالب علم اور کسان دکانیں بھی  کھول سکتے ہیں  اپنا روز گار  بھی کماسکتے ہیں ۔ اگر ان چیزوں کو  مارکٹ  میں متعارف کیا جائے  تو روزگار کے مزید وسائل  بروکار لائے جاسکتے ہیں ۔ریشم کے کیڑے شہتوت کے پتے کھاتے اور زیادہ عرصہ سوئے رہتے ہیں آخری اسٹیج میں یہ اپنے جسم سے ریشہ خارج کرتے اور پھر خود کو ریشم کی اس خول میں قید کرلیتے ہیں، ریشم کی اس ٹوٹی کو جب گرم پانی میں ڈال کر ان سے ریشم حاصل کیا جاتا ہے تو یہ کیڑا مرجاتا ہے، یوں ریشم کے یہ ہزاروں کیڑے اپنی جان دیکرانسان کو پہننے کے لئے ریشم فراہم کرتا ہے۔  بعد میں ضائع شدہ ریشم کوکون سے مخلف کرافٹ بھی تیار کئے جاتے ہیں ۔

    انوشکا شرما کا حمل والا لک، کیا حاملہ Sonam Kapoor نے کیا کاپی؟ بی ٹاؤن کی ان مشوہر اداکاراؤں کے گھر بھی گونجنے والی ہے کلکاری

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: