உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں کشمیر کے بھدرواہ علاقے میں گجر بکر وال طبقے کی seasonal migration شروع

    فاریسٹ رائٹ ایکٹ لاگو ہونے سے ہوگا ان کی مشکلات کا حل۔ ایل جی انتظامیہ کا کیا شکریہ ادا۔

    فاریسٹ رائٹ ایکٹ لاگو ہونے سے ہوگا ان کی مشکلات کا حل۔ ایل جی انتظامیہ کا کیا شکریہ ادا۔

    یہ خانہ بدوش اپریل مہینے سے اکتوبر مہینے تک پہاڑی چراگاہوں میں اپنے مویشیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ جموں کشمیر کے میدانی علاقوں میں گرمی بڑھتے ہی گجر بکر وال طبقہ پہاڑی میدانوں کا رُخ کرتے ہیں۔

    • Share this:
    جموں کشمیر کے اضافی ضلع بھدرواہ میں گجر بکر وال طبقے نے seasonal migration کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ خانہ بدوش اپریل مہینے سے اکتوبر مہینے تک پہاڑی چراگاہوں میں اپنے مویشیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ جموں کشمیر کے میدانی علاقوں میں گرمی بڑھتے ہی گجر بکر وال طبقہ پہاڑی میدانوں کا رُخ کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ اپریل مہینے سے شروع ہوتا ہے اور مئی کے آخر تک چلتا ہے اور جب اونچے پہاڑوں پر سردیاں آنی شروع ہوتی ہیں یہ طبقہ پھر سے پہاڑوں سے نکل کر میدانی علاقوں کا رُخ کرتے ہیں۔ پورے سال ان کا یہی سلسلہ چلتا ہے۔ ان لوگوں کو ہجرت کے وقت بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا ہے جب یہ اپنا سفر شروع کرتے ہیں تو راستوں میں ان کو انتظامیہ کی طرف سے کوئی بھی سہولت فراہم نہیں کی جاتی ہے۔ سفر کے دوران اگر کوئی بیمار ہو جائے تو ان کے پاس دوائیوں کا بھی انتظام نہیں ہوتا ہے۔اگر موسم خراب ہو جائے تو رہنے کا بھی کوئی انتظام نہیں ہوتا ہے۔
    ستر سالہ ہاجی عبداللہ بکر وال نے کہا جب ہم ہجرت شروع کرتے ہیں تو راستے میں ہمیں بہت سی مشکلات ہوتی ہیں۔ ہم بکر والو کی زندگی بہت ہی مشکل ہوتی ہے سفر کے دوران ہمیں کبھی بھوکے پیٹ بھی سونا پڑتا ہے۔ میں اب اُتنا چل بھی نہیں سکتا ہوں مجھے اپنے ساتھ ہر وقت دوائیاں ساتھ رکھنی پڑتی ہیں۔ کبھی کبھی تو دوائیاں ختم ہونے پر ہمیں کئی کلومیٹر واپس شہر جاکر دوائیاں لینی پڑتی ہیں۔ ہم انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے لئے کم سے کم راستوں پر میڈیکل کیمپ لگایا جائے۔
    محمد حنیف بکر وال کا کہنا ہے سفر کے دوران ہمیں کافی نقصان بھی ہوتا ہے۔ کئی مویشی بیماری میں مبتلا ہوکر اپنی جان بھی گوا بیٹھتے ہیں۔ اور کئی جانوروں کو جنگلی جانور اپنی خوراک بنا لیتے ہیں۔ انتظامیہ نے ہمارے لئے نہ تو ہمارے مویشیوں کے لئے کسی بھی طرح کی کوئی سہولت نہیں دی ہے۔ ہم انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے لئے کوئی انتظام نہیں کر سکتی خدارا ہمارے مویشیوں کے لئے ہی راستوں میں دوائیوں کا انتظام کرے۔ تاکہ جو مویشی بیماری کی وجہ سے مر جاتے ہیں اُس نقصان سے ہم بچیں۔


    یہ لوگ اپنے مویشیوں کو لے کر کافی پریشان رہتے ہیں۔ محکمہ جنگلات نے جگہ جگہ تار بندی کرکے ان کی مشکلات میں اور اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا یہ اپنا سفر گاڑیوں کی آمدورفت والی سڑکوں سے ہی کرتے ہیں اور جب شام ہوجاتی ہے یہ راستوں پہ اپنا ٹھکانا لگا لیتے ہیں۔ لیکن ان کے مویشیوں کے لئے ان کو ٹھکانا نہیں ملتا ہے اور مجبوراً یہ لوگ اپنے مویشیوں کو راستوں پہ ہی بیٹھا دیتے ہیں جس سے گاڑیوں کی آمدورفت میں مشکل ہو جاتی ہے۔


    محمد غفور بکر وال نے کہا ہم تو راستوں میں اپنا ٹھکانا بنا لیتے ہیں لیکن ہمارے مویشی محکمہ جنگلات کی لگائی ہوئی تار بندی کی وجہ سے جنگل میں نہیں جا پاتے اور ہمارے مویشی بھوکے پیٹ رہ جاتے ہیں۔ انتظامیہ نے تو ہماری مشکلات کو کبھی بھی حل نہیں کیا ہے۔ لیکن مشکلات میں اضافہ کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے۔

    جموں کشمیر میں دودھ اور گوشت کی کھپت جزوی یا مکمل طور پر انہی سے جڑا ہے۔ لیکن ان کی زندگی بہت ہی مشکل ہے۔ اسی چیز کو مدنظر رکھتے ہوئے جموں کشمیر انتظامیہ نے ان کے لئے فاریسٹ رائٹ ایکٹ لاگو کرنے کا عمل شروع کردیا ہے۔ اس عمل کے بعد ان خانہ بدوش طبقوں میں ان کی زندگی میں سدھار آنے کی ایک کرن نظر آرہی ہے۔



    جان بی بی بکر وال نے نیوز18 کے سامنے نم آنکھوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہماری زندگی بہت سی تکلیفوں سے گھیری ہوئی ہے۔ ہماری آج تک کسی نے خیر خبر نہیں لی ہے۔ ہم اگر سفر کے دوران اپنی جان گوا بھی بیٹھیں تب بھی کسی کو کوئی خبر نہیں ہوگی۔ ہمارے سر پہ نہ تو چھت ہے نہ ہی رہنے کے لئے زمین ہے۔ اب حکومت نے جو گجر بکر وال طبقے کے لئے فاریسٹ رائٹ ایکٹ لاگو کیا ہے اس سے اب ہمیں ہمارے حالاتوں میں سدھار ہونے کی امید نظر آرہی ہے۔ امید ہے ہمیں جلدی ہی ہمارا حق مل جائے گا تاکہ ہم لوگ بھی اپنی زندگی خوشی سے بسر کر سکیں۔

    بی بی فاطمہ بکر وال کا کہنا ہے حکومت نے جو ہمارے لئے فاریسٹ رائٹ ایکٹ بنایا ہے اس سے ہماری زندگی میں 90 فیصد مشکلات ختم ہو جائیں گی۔ ہم ایل جی انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے ہماری قوم کے حق میں قدم اُٹھایا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: