உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دفعہ370 jammu and kashmir کی مجموعی ترقی میں تھی بڑی رکاوٹ، منسوخی سے پسماندہ طبقے کو ملے ان کے حقوق

    دراصل یہ دونوں دفعات عوام بالخصوص پسماندہ طبقہ جات کی ترقی میں رکاوٹ تھیں۔ ان دفعات کی منسوخی کے بعد حکومت نے سماج کے ان طبقات کی بہتری اور ترقی کے لیے کچھ قابل ستائش قدم اٹھائے۔ ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے حکومت نے درج فہرست قبائل اور روایتی طور پر جنگل میں رہنے والے لوگوں کو جنگلاتی اراضی پر دوہزار سات ایکٹ کے تحت جنگلاتی اراضی پر مالکانہ حقوق دئے۔

    دراصل یہ دونوں دفعات عوام بالخصوص پسماندہ طبقہ جات کی ترقی میں رکاوٹ تھیں۔ ان دفعات کی منسوخی کے بعد حکومت نے سماج کے ان طبقات کی بہتری اور ترقی کے لیے کچھ قابل ستائش قدم اٹھائے۔ ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے حکومت نے درج فہرست قبائل اور روایتی طور پر جنگل میں رہنے والے لوگوں کو جنگلاتی اراضی پر دوہزار سات ایکٹ کے تحت جنگلاتی اراضی پر مالکانہ حقوق دئے۔

    دراصل یہ دونوں دفعات عوام بالخصوص پسماندہ طبقہ جات کی ترقی میں رکاوٹ تھیں۔ ان دفعات کی منسوخی کے بعد حکومت نے سماج کے ان طبقات کی بہتری اور ترقی کے لیے کچھ قابل ستائش قدم اٹھائے۔ ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے حکومت نے درج فہرست قبائل اور روایتی طور پر جنگل میں رہنے والے لوگوں کو جنگلاتی اراضی پر دوہزار سات ایکٹ کے تحت جنگلاتی اراضی پر مالکانہ حقوق دئے۔

    • Share this:
    گزشتہ کئی دہائیوں سے جموں وکشمیر کی روایتی سیاسی جماعتیں عوام کا دفعہ تین سو ستہر اور پینتیس اے کی آڑ میں استحصال کرتی رہیں۔ نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور دیگر سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کاراگ الاپتی رہیں، مقصد تھا جموں وکشمیر میں اقتدار پر قابض رہنا۔ دراصل یہ دونوں دفعات عوام بالخصوص پسماندہ طبقہ جات کی ترقی میں رکاوٹ تھیں۔ ان دفعات کی منسوخی کے بعد حکومت نے سماج کے ان طبقات کی بہتری اور ترقی کے لیے کچھ قابل ستائش قدم اٹھائے۔ ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے حکومت نے درج فہرست قبائل اور روایتی طور پر جنگل میں رہنے والے لوگوں کو جنگلاتی اراضی پر دوہزار سات ایکٹ کے تحت جنگلاتی اراضی پر مالکانہ حقوق دئے۔ حکومت کی طرف سے ریزرویشن کے قوانین میں بھی ترمیم کی گئی ہے اور پہاڑی زبان بولنے والے لوگوں کو چار فیصد ریزرویشن جبکہ معاشی طور پر کمزور طبقات کودس فیصد ریزرویشن دی گئی۔ غیر منصفانہ اور امتیازی قوانین کو منسوخ کردیا گیا۔ اورتمام مرکزی قوانین کو جموں و کشمیر میں لاگو کیاگیا۔ جموں وکشمیر میں تقریباً 890 مرکزی قوانین لاگو ہیں جب کہ 205 ریاستی قوانین کو منسوخ کر دیا گیا اور 130 قوانین میں ترمیم کرکے انہیں لاگو کیا گیا۔ حالیہ مہینوں میں، کئی درج فہرست قبائل اور روایتی طورپر جنگل میں رہنے والے لوگوں کو جنگل کی زمین کے حقوق دیے گئے ہیں۔ اس قانون سے مستفید ہونے والے لدرو پہلگام سے تعلق رکھنے والا غلام محمد گورسی ہے جس نے اس ایکٹ کے ذریعے 2 کنال اراضی حاصل کی۔

    غلام محمد نے کہا، "یہ درجہ فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے باعث مسرت لمحہ ہے کیونکہ ہمیں اس زمین پر حقوق مل گئے جس پر ہم کئی برسوں سے آباد تھے۔موجودہ ایل جی انتظامیہ قبائلی طبقوں کو باقاعدہ اور مستقل مدد فراہم کر رہی ہے جس سے ہماری معاشی حالت بہتر ہوئی ہے"۔اس ایکٹ سے مستفید ہونے والے محمد یوسف کھٹانہ کاکہناہے کہ اسے اس قانون کی رو سے 5.8 کنال اراضی فراہم ہوئی۔ کھٹانہ نے کہا، ’’میں انتظامیہ کا بہت شکر گزار ہوں جس نے ہمیں یہ حق دیا جس کے لیے ہم آج تک تگ ودو کررہے تھے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرز پر مستحقین کو زمین فراہم کی جائے تاکہ ان کے معاشی حالات بہتر ہوں۔درج فہرست قبائل اور دیگر روایتی طور پر جنگلات کے باشندوں سے متعلق ایکٹ، 2006 جنگل میں رہنے والے ان لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو ختم کرنے کا ایک تاریخی قدم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درجہ فہرست قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ حکومت کے اس فیصلے کا خیر مقدم کررہے ہیں"دفعہ370 اور 35 اے کی منسوخی کی ایک اور پیش رفت کے تحت مغربی پاکستان کے مہاجرین کو بااختیار بنایاگیا۔

    مہاجرین کے ساتھ ماضی میں ہونے والی ناانصافی 370 اور 35A کی منسوخی کے ساتھ ختم ہوئی۔ نئے ڈومیسائل قانون کے مطابق اب وہ جموں و کشمیر کے ڈومیسائل ہیں۔ڈومیسائل کا درجہ حاصل ہونے کے بعد پاکستانی مقبوضہ جموں وکشمیر اور مغربی پاکستان کے ان مہاجرین کو ووٹ ڈالنے اور سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مراعات ملنے کے اہل ہیں۔ اس سے تقریباً 47500 خاندانوں کو فائیدہ پہنچے گا۔مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں میں ہندو اور سکھ طبقے شامل ہیں جو 1947 میں تقسیم کے بعد سابقہ ​​مغربی پاکستان سے ہجرت کرکے جموں وکشمیر میں قیام پذیر ہوئے تھے۔تاہم وہ جموں و کشمیر میں ریاستی قوانین کی وجہ سے شہری اور سیاسی حقوق سے محروم تھے۔تقسیم کے بعد پاکستان سے آکر ہندوستان میں آباد ہونے والے مہاجرین کو شہریت دی گئی اور انہیں بھی دوسرے شہریوں کی طرح حقوق دیئے گئے۔ لیکن جموں و کشمیر میں انہیں یہ حقوق حاصل نہیں تھے۔ تاہم آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ہی مہاجرین کو یہ حقوق حاصل ہوئے۔

    مغربی پاکستان پناہ گزین ایکشن کمیٹی کے صدر لبھا رام گاندھی نے کہا، "ہمیں کئی دہائیوں سے امتیازی سلوک کا سامنا رہاہے۔ یہ مودی حکومت کی وجہ سے ہے کہ اب ہم جموں و کشمیر کے ڈومیسائل بن چکے ہیں اور سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ مودی حکومت نے ہمیں عزت دی ہے۔ ہمیں انصاف دینے کے لیے ہم پی ایم مودی کا شکریہ ادا کرتے ہیں" ہندوستانی آئین کی 73 ویں اور 74 ویں ترمیم اب جموں وکشمیر میں بھی پوری طرح سے لاگو ہے جس نے بالآخر پنچایتی راج ادارے کو با اختیار بنایا ہے اور UT میں نچلی سطح پر جمہوریت مضبوط ہو گئی ہے۔ حال ہی میں منعقد ہونے والے بی ڈی سی اور ڈی ڈی سی انتخابات اس کے گواہ ہیں اور اس سے جموں و کشمیر میں مکمل طور پر پنچایتی راج نظام قائم ہوا۔پانچ اگست 2019 سے پہلے، جموں و کشمیر کی خواتین بیرون ریاست شادی کرنے کی صورت میں ریاست میں جائیداد خریدنے کا حق کھو دیتی تھیں۔تاہم اب جموں و کشمیر کے لیے مرکزی حکومت کی نوٹیفکیشن کے ساتھ، ان خواتین اور ان کے شوہروں کو ڈومیسائل کا درجہ مل سکتا ہے دفعہ تین سو ستہر اور پینتیس اے کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے اور اب ملک کے دیگر حصوں کی طرح یہاں بھی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: