உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    امت شاہ کے دورے سے پہلے بارہمولہ میں چھپے بیٹھے تھے دہشت گرد، سکیورٹی فورسز نے دو کو کیا ڈھیر

    Youtube Video

    اس دوران محاصر سخت ہونے پر چھپے ہوئے دہشت گردوں نے فائرنگ کر کے بھاگنے کی کوشش کی، لیکن سیکورٹی فورس نے موقع نہیں دیا۔ کئی مرتبہ خودسپردگی کی اپیل کے بعد بھی وہ نہیں مانے اور لگاتار سیکورٹی فورس پر فائرنگ کرتے رہے۔ اس کے بعد سیکورٹی فورس نے بھی جوابی کارروائی کی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
    سری نگر: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بارہمولہ کے دورے سے پہلے، سیکورٹی فورسز نے جمعہ کو ایک انکاؤنٹر میں دو دہشت گردوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ کل رات شروع ہونے والا انکاؤنٹر آج صبح خبر لکھے جانے تک جاری تھا۔ علاقے میں 2 سے 3 دہشت گردوں کے گھرے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جموں و کشمیر پولیس کے مطابق، سیکورٹی فورسز کو امت شاہ کے دورے سے قبل علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ سکیورٹی فورسز نے بارہمولہ ضلع کے یادی پورہ پٹن میں جاری انکاؤنٹر میں 2 دہشت گردوں کو  مار گرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ہندوستانی فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کے جوان یہ مشترکہ آپریشن کر رہے ہیں۔

    آپ کو بتا دیں کہ وزیر داخلہ امت شاہ 5 اکتوبر کو بارہمولہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ دوسری جانب ضلع شوپیاں کے چترگام میں دہشت گردوں کے چھپے ہونے کی اطلاع پر جمعرات کی رات سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ یہاں سرچ آپریشن جاری ہے۔ اس سے پہلے منگل کو ضلع کولگام میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک تصادم میں کالعدم دہشت گرد تنظیم جیش محمد (جے ایم) کے دو ارکان مارے گئے تھے۔ ضلع کے آہوٹو گاؤں میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سیکورٹی فورسز نے محاصرہ شروع کر دیا۔ اس دوران جب گھیرا تنگ کیا گیا تو چھپے ہوئے دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم سیکورٹی فورسز نے انہیں کوئی موقع نہیں دیا۔

    اس تصویر میں اگر 13 سیکنڈ کے اندر ڈھونڈ نکالی بلی تو آپ کی نظروں کا نہیں ہے کوئی توڑ

    تقریبا چار گھنٹے چلے انکاونٹر میں دو دہشت گردوں کو مار گرایا گیا۔ کشمیر کے اے ڈی جی پی وجئے کمار نے بتایا کہ فی الحال سرچ آپریشن جاری ہے۔ دو مقامی دہشت گردوں کے گھرے ہونے کی خبر تھی، جس میں دونوں مارے گئے۔ دونوں کئی دہشت گردانہ واقعات میں شامل رہے تھے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: