ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

برف باری اور جنگلی جانوروں سے پلوامہ میں بادام صنعت کو ہورہا ہے  نُقصان

حالیہ برف باری اور جنگلی جانوروں سے ضلع پلوامہ میں بادام کی صنعت کو پہنچ بھاری نُقصان رہا ہے۔ رواں سال جنوری ماہ میں ہویی بھاری برف باری کے بعد ضلع پلوامہ کے مختلف کریواس (Karevas) پر موجود بادام کے باغات میں اب درختوں کو خارپُشت نامی جنگلی جانور نُقصان پہنچا رہا ہے۔

  • Share this:
برف باری اور جنگلی جانوروں سے پلوامہ میں بادام صنعت کو ہورہا ہے  نُقصان
حالیہ برف باری اور جنگلی جانوروں سے ضلع پلوامہ میں بادام کی صنعت کو پہنچ بھاری نُقصان رہا ہے۔

حالیہ برف باری اور جنگلی جانوروں سے ضلع پلوامہ میں بادام کی صنعت کو پہنچ بھاری نُقصان رہا ہے۔ رواں سال جنوری ماہ میں ہویی بھاری برف باری کے بعد ضلع پلوامہ کے مختلف کریواس (Karevas) پر موجود بادام کے باغات میں اب درختوں کو خارپُشت نامی جنگلی جانور نُقصان پہنچا رہا ہے۔ خارپُشت جنگلی جانور بادام کے درختوں کو نیچے سے کریدتا ہے جس سے پھر کُچھ برسوں کے دوران درخت سوکھ جاتا ہے ۔ گُذشتہ کئ برسوں سے پلوامہ کے مختلف علاقوں میں بادام کے باغات میں خارپُشت نامی جنگلی جانور درختوں کو نُقصان پہنچا رہا ہے ۔ حالیہ برف باری کے بعد جنگلی جانور پلوامہ کے باغات میں بڈے پیمانے پر سرگرم ہوئے ہیں۔


رواں سال برف باری سے بھی بادام کے درختوں کو کافی نُقصان ہوا ہے۔ جنوری میں ہویی بھاری برف باری سے ضلع پلوامہ بادام کے باغات میں درختوں کی شاخیں ٹوٹ گئ ہیں۔ بھاری برف ہونے سے ابھی تک کاشتکاروں نے بادام کے باغات کا رُخ نہیں کررہے ہیں۔ اُدھر محکمہ باغبانی کے چیف ہارٹیکلچر آفیسر پلوامہ مُکیش کمار نے نیو18 اُردو کے نمائندے بلال خان کو فون پر بتایا کہ وہ جلد ہی متاثر باغات کا دورہ کریں گے اور نُقصان کا جایزہ لیں گے۔


ہر سال برف باری اور جنگلی جانوروں سے بادام کی صنعت کو کافی نُقصان پہنچ رہا ہے  جس کی وجہ سے صنعت روز بہ روز زوال پذیر ہورہی ہے۔ صنعت سے جُڑے کاشتکاروں نے ایل جی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ برف متاثر ریلیف میں بادام صنعت کو بھی رکھا جائے۔ ضلع پلوامہ میں تقریبا تین ہزار پانچ سو hectare آراضی پر بادام کے باغات پیھلے ہیں۔ اگرچہ پہلے بادام جیسے خُشک میوے کی پیداوارکے لیے ضلع پلوامہ کو کلیدی اہمیت حاصل تھی لیکن گُذشتہ کئ برسوں سے یہ صنعت زوال پذیر ہورہی ہے۔ پہلے بیرونی ممالک کے بادام مارکٹ میں آنے سے قیمتیں کم ہویی۔ اور بادام کی پیداوار کے لیے نئ ٹکنالوجی کو متعارف نہ کرنے کے سبب بھی صنعت سے جُڑے افراد بادام کی جگہ سیب کی کاشت کرتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے بادام کی اراضی ہرسال کم ہورہی ہے ۔

Published by: Sana Naeem
First published: Feb 11, 2021 04:28 PM IST