உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم پیدائش پر حکومت کی طرف سےتعطیل کے اعلان کے بعد سیاسی جماعتوں میں چھڑگئی بحث، جانئے کیوں

    جموں و کشمیر میں مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم پیدائش پر حکومت کی طرف سےتعطیل کےاعلان کے فوراً بعد سیاسی جماعتوں نے اس کا کریڈٹ لینا شروع کر دیا۔ کیا یہ معاملہ جموں و کشمیر میں انتخابی مدعا بن جائے گا؟ جانیے سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے۔

    جموں و کشمیر میں مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم پیدائش پر حکومت کی طرف سےتعطیل کےاعلان کے فوراً بعد سیاسی جماعتوں نے اس کا کریڈٹ لینا شروع کر دیا۔ کیا یہ معاملہ جموں و کشمیر میں انتخابی مدعا بن جائے گا؟ جانیے سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے۔

    جموں و کشمیر میں مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم پیدائش پر حکومت کی طرف سےتعطیل کےاعلان کے فوراً بعد سیاسی جماعتوں نے اس کا کریڈٹ لینا شروع کر دیا۔ کیا یہ معاملہ جموں و کشمیر میں انتخابی مدعا بن جائے گا؟ جانیے سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Srinagar
    • Share this:
    جموں و کشمیر: جمعہ کے روز جموں کے مختلف مقامات پر ریلیاں، رقص اور مٹھائیوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا جہاں لوگ مہاراجہ ہری سنگھ کی سالگرہ منانے کے لیے جمع تھے۔ جموں کے لوگ اس سال زیادہ پرجوش نظر آئے کیونکہ حکومت نے اس دن چھٹی کا اعلان کیا تھا۔ ان میں سے بہت سی تقریبات کا اہتمام یووا راجپوت سبھا نے کیا تھا جس نے ماضی قریب میں مہاراجہ ہری سنگھ کے یوم پیدائش پر تعطیل کا اعلان کرنے کے لیے احتجاجی ریلیاں نکالی تھیں۔ بی جے پی نے بھی مہاراجہ ہری سنگھ کی سالگرہ منانے کے لیے مختلف مقامات پر تقاریب کا اہتمام کیا۔ کچھ کانگریسی رہنماؤں نے جموں و کشمیر کے آخری مہاراجہ کے مجسمے کے قریب بھی اپنی موجودگی دکھانے کی کوشش کی۔

    بی جے پی لیڈروں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے ہمیشہ مہاراجہ ہری سنگھ کو ہمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ کویندر گپتا نے کہا کہ بی جے پی نے ماضی میں مہاراجہ سنگھ کو عزت دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 23 ستمبر کو چھٹی کا اعلان کرنے کا سہرا بی جے پی کے سر ہی بندھتا ہے ۔ کویندر گپتا نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’ماضی میں بی جے پی نے مہاراجہ ہری سنگھ کی عزت افزائی کے لیے ہر قدم اٹھایا ہے۔ ہم نے ہری سنگھ کا مجسمہ نصب کروایا اور ان کے نام پر پارک بھی بنوالیا۔ ہم اس بات کی وکالت کرتے رہے ہیں کہ ان کی سالگرہ کے روز تعطیل کا اعلان کیا جائے۔ اور قومی صدر جے پی نڈا اور وزیر داخلہ امیت شاہ نے اسے تعطیل کا اعلان کروایا اور ہم ان کے شکر گزار ہیں"دوسری جانب کانگریس نے بی جے پی کے دعوؤں پر سوال اٹھائے ہیں۔

    جموں و کشمیر کانگریس کے ترجمان رویندر شرما نے بی جے پی سے پوچھا کہ اس نے مہاراجہ کے یوم پیدائش پر چھٹی کا اعلان کیوں نہیں کیا جب پارٹی پی ڈی پی کے ساتھ جموں و کشمیر میں اقتدار میں شریک تھی۔ رویندر شرما نے نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’کانگریس نے ہمیشہ لوگوں کے جذبات کا احترام کیا ہے جو چاہتے تھے کہ 23 ستمبر کو تعطیل کا اعلان کیا جائے۔ بی جے پی پچھلے آٹھ سالوں سے اقتدار میں ہے اور پارٹی جموں و کشمیر میں بھی پی ڈی پی کے ساتھ اقتدارمیں شریک تھی۔تاہم اس نے مہاراجہ کے یوم پیدائش پر چھٹی کا اعلان کرنے میں اپنی بے بسی کا مظاہرہ کیا۔

    اب بھوپال میں بھی چنڈی گڑج جیسا MMS کیس، واش روم میں کپڑے بدل رہی طالبہ کا بنایا ویڈیو اور

    بولنے۔سننے سے معذور آرٹسٹ بشیر احمد نے اپنی بہترین مصوری سے قائم کی مثال لیکن۔۔۔



    عام لوگوں نے اپنی جدوجہد سے یہ حاصل کیا ہے لہٰذا بی جے پی کو اس کا کریڈٹ نہیں چاہئے” سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ چھٹی کا اعلان کرنا سیاسی مسئلہ نہیں بن سکتا۔ معروف سیاسی تجزیہ کار پرکشت منہاس نے کہا کہ یہ لوگوں کا مطالبہ تھا۔ جو پوراہوچکاہے۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں اور بھی بہت سے مسائل ہیں جنہیں عام لوگ حل کروانا چاہتے ہیں۔ نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے، پرکشیت منہاس نے کہا،"بے روزگاری، سیکورٹی سے متعلق مسائل اور کشمیری پنڈتوں کی وادی واپسی جیسے مختلف مسائل لوگوں کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسائل انتخابی مدعے بن سکتے ہیں " سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات کے دوران تمام سیاسی جماعتیں جموں و کشمیر کے لوگوں کے بڑے حصے سے منسلک تمام مسائل پر اپنی توجہ مرکوز کرسکتے ہیں۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: