ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جنوبی کشمیر کے قصبہ پانپور سے تعلق رکھنے والے ایک 20 سالہ نوجوان نے انگریزی زبان میں کتاب تحریر کی

صراف کا کہنا ہے کہ انہیں بچپن سے ہی کتابیں لکھنے کا شوق تھا اور وہ دو مزید کتابوں پر کام کررہا ہے۔ صراف کا کہنا ہے کہ وہ کتابوں کا مطالعہ بچپن سے ہی کرتا آیا ہے جس سے ان کو لکھنے میں کافی مدد ملی ہے۔

  • Share this:
جنوبی کشمیر کے قصبہ پانپور سے تعلق رکھنے والے ایک 20 سالہ نوجوان نے انگریزی زبان میں کتاب تحریر کی
جنوبی کشمیر : ایک 20 سالہ نوجوان نے انگریزی زبان میں کتاب تحریر کی

جنوبی کشمیر کے قصبہ پانپور سے تعلق رکھنے والے ایک بیس سالہ نوجوان نے ایک کتاب تحریر کی ہے جس پر اس نوجوان قلم کار کو گلوبل ریڈرس چویس نے ایوارڈ سے نوازا ہے۔ جنوبی کشمیر کے قصبہ پانپور کے کدلہ بل  سے تعلق رکھنے والے ایک بیس سالہ نوجوان صراف علی نے ایک کتاب (ٹریگارڈ ساروز) تحریر کی ہے جس پر گلوبل ریڈرس چویس نے انہیں ایوارڈ سے نوازا ہے اور ان کی اس تصنیف کو انڈیا بک آف ریکارڈس میں بھی جگہ ملی ہے۔


صراف کا کہنا ہے کہ انہیں بچپن سے ہی کتابیں لکھنے کا شوق تھا اور وہ دو مزید کتابوں پر کام کررہا ہے۔ صراف کا کہنا ہے کہ وہ کتابوں کا مطالعہ بچپن سے ہی کرتا آیا ہے جس سے ان کو لکھنے میں کافی مدد ملی ہے۔ صراف علی کی کم عمر چھوٹی بہن خوشنور علی اپنے بھائی کے کتاب تحریر کرنے سے کافی متاثر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بھی بڑی ہوکر کتابیں تحریر کرے گی اور انہوں نے کورونا وائرس پر کچھ رایمیں بھی لکھی ہیں۔ انہوں نے چھوٹے بچوں سے موبائل فون پر گیمز کھیلنے کے بجائے کتابوں کا مطالعہ اور تحریر کرنے پر زور دیا ہے۔


وہیں، ایک کم عمر بچی افرا رفیق کا کہنا ہے کہ آج کے اس دور میں بچے موبائل پر ہی لکھنا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کئی نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔ کتابوں کا مطالعہ کرنا ہر ایک کے لئے ضروری ہے۔ تاہم آج کے اس ٹیکنالوجی کے دور میں کتابوں کا مطالعہ کرنے کا رجحان دن بہ دن کم ہوتا جارہا ہے۔


صراف علی نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ کتابوں کا مطالعہ نہ کرنے سے انسان کی ذہنی نشو ونما کمزور ہوکر رہ جاتی ہے ۔ماہرین تعلیم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کتابوں کا مطالعہ ضرور کیا جائے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 07, 2021 09:10 PM IST