اپنا ضلع منتخب کریں۔

    جنوبی کشمیر: گجر لڑکے نے قائم کی مثال، طفیل کٹاریہ IIT پاس کرنے والا اپنے علاقے کا بنا پہلا شخص

    کم وسائل اور معاشی پسماندگی کے باوجود بھی طفیل نے بھری نئ اڑان۔ 

    کم وسائل اور معاشی پسماندگی کے باوجود بھی طفیل نے بھری نئ اڑان۔ 

    کم وسائل اور پسماندہ گجر طبقے سے تعلق رکھنے والے طفیل نے آئ آئ ٹی کا امتحان پاس کر کے دوسروں کےلیے مثال قائم کی۔ انسان کی لگن اگر سچی ہو تو محنت بھی رنگ لاتی ہے۔ طفیل کٹاریہ نامی پاناڈ اننت ناگ کے طالب علم پر یہ بات صادق آتی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir, India
    • Share this:
    جموں کشمیر: انسان کی لگن اگر سچی ہو تو محنت بھی رنگ لاتی ہے۔ طفیل کٹاریہ نامی پاناڈ اننت ناگ کے طالب علم پر یہ بات صادق آتی ہے۔ کم وسائل اور پسماندہ گجر طبقے سے تعلق رکھنے والے طفیل نے آئی آئی ٹی کا امتحان پاس کر کے دوسروں کےلیے مثال قائم کی۔ گجر بستی پاناڈ کھرم کے لوگوں نے شاید ہی کبھی یہ سونچا ہو کہ انکے گاؤں کا کوئی لڑکا کسی دن ملکی سطح پر منعقد ہونے والے آئ آئ ٹی، جے ای ای امتحان کو پاس کرکے انجینئرنگ اور تکنیک کے پایدان پر اپنی زندگی کی نئ اڑان بھرے گا۔ پر طفیل نے یہ بات سچ ثابت کی اور وہ منڈی ہماچل میںآئی آئی ٹی کے داخلے کی اب تیاری کر رہا ہے۔ کم وسائل اور پسماندہ گجر طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود بھی طفیل نے اپنی محنت اور لگن کے باعث اپنے خوابوں میں کامیابی کے رنگ بھرے۔
    طفیل کٹاریہ کے مطابق انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم نزدیک کے گاؤں کھرم سے ہی حاصل کی اور دسویں کے بعد انہوں نے گورنمنٹ ہایر اسکینڈری اسکول پاناڈ میں داخلہ لیا اور بارہویں امتحان پاس کر کے انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ آگے کےلیے انہیں کس سمت جانا ہے۔ اسی اثناء میں انہوں نے موبائل فون کا سہارا لیکر آئ آئ ٹی کا انتخاب کیا۔ لیکن معاشی پسماندگی اور کم وسائل کی وجہ سے وہ کوئی کوچنگ نہیں کر سکا۔ لیکن طفیل نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے بل پر سخت محنت کی اور انٹرنیٹ کے سہارے وہ آئ آئ ٹی، جے ای ای امتحان کی تیاری میں جٹ گیا۔ آخر کار وہ دن آ ہی گیا جب طفیل ملک کے ہزاروں بچوں کے ساتھ اس امتحان میں بیٹھ گیا اور بعد میں طفیل کی محنت رنگ لائ اور وہ اس امتحان کو پاس کرنے والا اپنے علاقے کا پہلا نوجوان بن گیا۔

    خوبصورت جنگلات میں آباد پاناڈ علاقہ اپنی معاشی اور تعلیمی پسماندگی کی کہانی زبان خود سے بیان کرتا ہے۔ لیکن طفیل کی کامیابی نے آج نہ صرف انکے اہل خانہ بلکہ پورے علاقے کے لوگوں کے لیے خوشی کا ایک موقع ضرور دیا ہے۔ طفیل کے والد محمد یعقوب مزدوری کر کے اپنے عیال کو پالتا ہے۔ لیکن مزدوری کے باوجود بھی انہوں نے طفیل اور اس کے بھائی الطاف کو اچھی تعلیم فراہم کرنے کا خواب دیکھا۔ یعقوب کا کہنا ہے کہ وہ کم وسائل کی وجہ سے اپنے بچوں کو پرایویٹ اسکول میں داخل نہیں کر سکا لیکن انکا یہ خواب تھا کہ انکے بچے زندگی میں کچھ الگ کرے۔
    طفیل کا بھائی الطاف کٹاریا کشمیر یونیورسٹی میں ایم اے کا طالب علم ہے۔ الطاف کا کہنا ہے کہ طفیل نے آج نہ صرف اپنے گھر والوں کا نام روشن کیا ہے بلکہ پسماندہ گجر قوم کے نوجوانوں اور بچوں کےلیے وہ آج مشعل راہ بن گئے ہیں۔

    بشارت چوہان نامی گاؤں کے سماجی کارکن اور طفیل کے ہمسایہ نے اس کامیابی کو پوری گجر اور پسماندہ طبقوں کی کامیابی قرار دیا ہے۔ بشارت چوہان کا کہنا ہے کہ پسماندگی کی وجہ سے گجر قوم اب بھی خواندگی کی کم شرح سے دوچار ہے۔ جبکہ اس قوم کے نوجوانوں میں صلاحیت بھر پور ہے بشرطیکہ انہیں مناسب پلیٹ فارم دیا جاۓ۔ بشارت کا کہنا ہے کہ طفیل نے آخ ثابت کر دیا کہ انسان کی لگن سے ہر مشکل آسان بن جاتی ہے۔ بشارت نے ڈی سی اننت ناگ و دیگر متعلقین سے طفیل کی معاونت کی اپیل کی ہے تاکہ طفیل کی کامیابی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہو جائے۔طفیل نے معاشی پسماندگی اور موجودہ دور کی تکنیکوں کی کمی کے باوجود بھی اپنی منزل کو تلاش۔ ایسے میں طفیل نوجوانوں کےلیے حوصلے اور محنت کا پیغام دیکر مشعل راہ بن گئے ہیں۔ طفیل کا کہنا ہے کہ محنت ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

    نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے مختلف اقدامات کر رہی جموں۔کشمیر انتظامیہ



     

    علیحدگی پسندلیڈر شبیرشاہ کو جھٹکا، EDنے منی لانڈرنگ ایکٹ کےتحت 22لاکھ کی جائیداد کی ضبط
    واضح رہے کہ ہر سال پورے ملک سے ہزاروں کی تعداد میں آئ آئ ٹی جیسے امتحانات کو پاس کرنے کا خواب لیکر ان امتحانات میں بیٹھتے ہیں۔ ایسے میں ایک چھوٹے سے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والا طفیل اس امتحان کو پاس کر کے ایک الگ کہانی تحریر کرتا ہے۔ اب طفیل کی نظریں متعلقین کے تعاون اور ہمدردی پر ٹکی ہیں تاکہ کامیابی کی منزلوں کو طے کرنے میں اسے مزید دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: