உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شمالی کشمیر: ضلع بارہمولہ پٹن کے معراج الدین خان نے پہلی ہی کوشش میں نیٹ کوالیفائی کیا

    شمالی کشمیر: ضلع بارہمولہ پٹن کے معراج الدین خان نے پہلی ہی کوشش میں نیٹ کوالیفائی کیا

    شمالی کشمیر: ضلع بارہمولہ پٹن کے معراج الدین خان نے پہلی ہی کوشش میں نیٹ کوالیفائی کیا

    Jammu and Kashmir : شمالی کشمیر کےضلع بارہمولہ پٹن کے گوئیوا گاؤں سے تعلق رکھنے والے معراج الدین خان نے ایک کچے دکان پر باربی کیو فروخت کرنے کے باوجود پہلی کوشش میں ہی نیٹ کوالیفائی کرلیا ہے ۔ معراج کی کامیابی پرپورے پٹن میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu and Kashmir | Jammu | Srinagar | Baramula
    • Share this:
    بارہمولہ : شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے پٹن کے گوئیوا گاؤں میں کچے اینٹوں اور لکڑی کی پرانی دکان ہیں ۔ یہ دراصل دکان نہیں بلکہ اسے ہم ایک درس گاہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یعنی اس دکان پر 20 سالہ معراج الدین خان نے اپنے والد کی مدد کرتے کرتے علم کے میدان میں بلندیوں کو چھونا شروع کیا۔ اس چھوٹی گلی میں ایک چھوٹی سی کچی دکان معراج الدین کے والد گلستان احمد خان سجاتے ہیں۔ ہرروز یہاں ان گلیوں میں باربی کیو سے اٹھتا دھواں اور میٹھی خوشبو ہوا میں بکھری ہوتی ہے۔ معراج کے والد کوئلے پر باربی کیو بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کے بیٹے معراج الدین خان بھی خوب والد کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ والد کی تمنا تھی کہ ان کا بیٹا ڈاکٹر بنے۔ بیٹا بھی ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔  مگر باپ کی غربت دیکھ کر 20 سالہ معراج نے باربی کیو بنانے کے کام کے ساتھ ساتھ یوٹیوب کے ذریعہ پڑھائی بھی کرتے رہے اور کامیابی کی طرف گامزن رہے۔ یہ کامیابی کی کہانی شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ پٹن کے گوئیوا گاؤں کے رہنے والے معراج الدین کی ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: عادل تیلی نے سائیکل پر اتنے کم وقت میں لیہ ۔ منالی کا سفر طے کرکے بنایا نیا عالمی ریکارڈ


    20 سالہ معراج الدین خان اپنے والد کے ساتھ اس کچے دکان پر باربی کیو فروخت کرکے ڈاکٹر بننے کا خواب شرمندہ تعبیر کرکے پانچ سو اکانوے نمبرات کے ساتھ  پہلی ہی کوشش میں نیٹ کوالیفائی کر لیا ہے۔ پورے پٹن علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سبھی کے چہروں پر مسکان ہے ۔ معراج الدین خان نے نیوز18 جموں وکشمیر کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جب میرے والد کو کسی کام کی غرض سے کسی جگہ جانا ہوتا تھا، تو میں اس وقت ان کا کام کرتا تھا ۔ یعنی میں باربی کیو از خود بناتا تھا اور پھر فروخت بھی کرتا تھا ۔ مجھے اس کام میں کوئی عیب نہیں لگتا تھا بلکہ میں اسے عبادت سمجھ کر انجام دیتا تھا۔

     

    یہ بھی پڑھئے: بڈگام پولیس نے 3 ٹپر، 2 ٹریکٹر، 2 جے سی بی اور 2 سنٹرو گاڑیاں ضبط کیں، جانئے کیا ہے معاملہ


    وہیں معراج الدین کے والد گلستان احمد خان نے نیوز18  سے کہا کہ مجھے اس بیٹے پر فخر ہے کہ اس نے میرا اور اپنے گھر والوں کا سر فخر سے اونچا کردیا ہے ۔ انہوں نے میرے کام میں میرا ہاتھ بٹایا کبھی کوئی عیب نہیں سمجھا ۔ معراج الدین خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے شروع سے ہی محنت کی کیونکہ ان کے والد مزدور ہیں اور اپنے والد کی سختی اورغربت دیکھ کر انہوں نے تہیہ کرلیا تھا کہ وہ ایک نہ ایک دن کامیابی ضرور حاصل کریں گے ۔ ان کا ماننا ہے کہ اس کامیابی میں ان کے چچا محمد اسحاق کا بھی کافی ہاتھ ہے۔

    معراج الدین نے وادی کشمیر کے بچوں سے اپیل کی کہ وہ جس فیلڈ میں اپنا کیرئیر بنانا چاہتے ہیں وہ اسی پر دھیان دے کر اساتذہ کے علاوہ انٹرنیٹ اور یوٹیوب کے ذریعہ سے بھی کامیابی حاصل سکتے ہیں۔ نیٹ میں معراج الدین خان کی کامیابی پر پٹن کے لوگوں میں کافی خوشی پائی جارہی ہے۔ مرد وخواتین معراج الدین کے گھر مبارکباد دینے کی غرض پہنچ رہے ہیں۔ علاقے کے لوگ امید کرتے ہیں کہ معراج اب معاشرے کی بھلائی اور لوگوں کے مشکلات کا حل ڈھونڈیں گے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: