உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اننت ناگ میں ڈیوٹی کے دوران ایس پی او کی موت، ٹریفک ریگولیشن کی ڈیوٹی پر تعینات تھے ایس پی او

    اننت ناگ میں ڈیوٹی کے دوران ہر دل عزیز ایس پی او کی موت

    اننت ناگ میں ڈیوٹی کے دوران ہر دل عزیز ایس پی او کی موت

    محمد شفیع خان گزشتہ کئی برسوں سے اننت ناگ کے مصروف ترین علاقے جنگلات منڈی میں ٹریفک کو ریگولیٹ کرنے کا کام انجام دیتے تھے اور گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں ایمرجینسی خدمات کے لئے بھی محمد شفیع ہمیشہ تیار رہتے تھے۔

    • Share this:
    جموں کشمیر:- کچھ لوگ گمنامی کی زندگی گزارنے کے باوجود بھی کچھ ایسے کارنامے انجام دیتے ہیں کہ ان کی موت ان کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر دیتی ہے۔ کچھ ایسی ہی مثال ہے جموں کشمیر پولیس کے اسپیشل پولیس افسر (ایس پی او) محمد شفیع خان کی ہے۔ محمد شفیع خان گزشتہ کئی برسوں سے اننت ناگ کے مصروف ترین علاقے جنگلات منڈی میں ٹریفک کو ریگولیٹ کرنے کا کام انجام دیتے تھے اور گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ میں ایمرجینسی خدمات کے لئے بھی محمد شفیع ہمیشہ تیار رہتے تھے، جس کی وجہ سے محمد شفیع خان اپنی فرض شناسی اور حساس علاقے میں بنا خلل خدمات کے لئے ہردل عزیز شخصیت بن گئے، لیکن افسوس یہ ہے کہ موت کے لمبے ہاتھوں نے اس شخصیت کو ہمیشہ کے لئے لوگوں سے چھین لیا۔ محمد شفیع خان ڈیوٹی کے دوران حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے فوت ہوگئے اور وردی میں ہی خان نے اپنی زندگی کو خیرآباد کہا۔ اگرچہ خان کو فوری طور پر جی ایم سی اننت ناگ پہنچایا گیا، لیکن ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔ دوسری جانب محمد شفیع خان کی لاش ان کے آبائی گاؤں گوپال پورہ پہنچائی گئی تو وہاں پر صف ماتم بچھ گئی اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے ان کے نماز جنازہ میں حصہ لیا۔


    ادھر سماج کے مختلف طبقات نے محمد شفیع خان کی ڈیوٹی کے دوران موت پر تشویش کا اظہار کیا اور محمد شفیع خان کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ سماجی کارکن و صحافی ایس طارق نے خان کو ایک فرض شناس شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ محمد شفیع خان تقریباً چوبیس گھنٹے وردی میں رہتے تھے اور ایسے حساس علاقے میں ڈیوٹی انجام دیتے تھے کہ جہان پر اگر ٹریفک جام رہتا تو انسانی جانوں کے ضائع ہونے کا خطرہ تھا۔ ایس طارق کے مطابق اگرچہ مقامی سطح پر انہیں ایوارڈ سے نوازا گیا، لیکن محمد شفیع خان نے گمنام ہیرو کی طرح زندگی گزاری اور ایسی خدمات انجام دیں جو گران قدر اور قابل سراہنا ہے، لیکن اس کے باوجود بھی ان کی ان خدمات کو انتظامی اور سرکاری سطح پر نظر انداز کیا گیا اور کبھی انہیں ایوارڈ یا سند سے نہیں نوازا گیا۔ محمد شفیع خان قلیل تنخواہ کے باوجود بھی اپنے فرائض سے منہ نہیں موڑتے تھے۔ ان کی فرض شناسی اس بات سے صادق ہوتی ہے کہ اپنی ڈیوٹی کے دوران انہوں  نے کئی بار پولیس اور دیگر سرکاری افسران کی گاڑیوں کو بھی روکا اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیا۔


    لوگوں کے مطابق محمد شفیع خان کی معاشی حالت بھی کافی پریشان کن ہے اس لئے اب سرکار اور انتظامیہ کو ان کے اہل خانہ کی مدد کے لئے سامنے آنا چاہئے۔ ایس طارق کے مطابق خان کی قابل قدر خدمات کے عوض کچھ بھی نہیں دیا جا سکتا ہے، لیکن ان کی خدمات کے بدلے اب موجودہ سرکار اور انتظامیہ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ معاشی اعتبار سے کمزور خان کے اہل خانہ کی امداد کی جائے۔ دوسری جانب ایس ایس پی اننت ناگ سندیپ چودھری نے بھی ایس پی او خان کو ایک جانباز اور ایماندار پولیس اہلکار قرار دیا ہے اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ سماج کے مختلف طبقات سے وابستہ افراد نے بھی خان کو ایک باضمیر شخصیت قرار دیتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: