ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

Banihal Qazigund Road Tunnel:بانہال اورقاضی گُنڈکے درمیان ٹنل کے تعمیری کام آخری مراحل میں

کمپنی کے اسسٹنٹ جنرل منیجرمنیب ٹاک نے نیوز18 اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جموں سرینگر قومی شاہراہ پر یہ پہلا دو گلیاری والا ٹنل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ٹیوب کی لمبائی آٹھ اعشاریہ پانچ کلو میٹر ہے ۔ مُنیب ٹاک نے کہا کہ اس ٹنل کی تعمیر میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔

  • Share this:
Banihal Qazigund Road Tunnel:بانہال اورقاضی گُنڈکے درمیان ٹنل کے تعمیری کام آخری مراحل میں
بانہال اور قاضی گُنڈ کے درمیان ٹنل تعمیر کرنے کا کام آخری مراحل میں

نیشنل ہائے وے نمبر 44-A کو چار گلیاری والی قومی شاہراہ میں تبدیل کرنے کے پروجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر بانہال اور قاضی گُنڈ کے درمیان ٹنل تعمیر کرنے کا کام آخری مراحل میں ہے۔ اس ٹنل کی تعمیر کا کام انجام دینے والی تعمیراتی کمپنی نو یوگ کنسٹرکشن ہے۔کمپنی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تعمیر کا کام مکمل ہوچکا ہے اور اب ٹنل کا باقی ماندہ کام چل رہا ہے جسے اس ماہ کے آخر تک مکمل کیا جائے گا۔ کمپنی کے اسسٹنٹ جنرل منیجرمنیب ٹاک نے نیوز18 اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جموں سرینگر قومی شاہراہ پر یہ پہلا دو گلیاری والا ٹنل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ٹیوب کی لمبائی آٹھ اعشاریہ پانچ کلو میٹر ہے ۔ مُنیب ٹاک نے کہا کہ اس ٹنل کی تعمیر میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا " ٹنل کے دونوں گلیاروں میں روشنی کا خاطر خواہ انتظام کیا گیا ہے۔ ٹنل میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں جو گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھیں گے۔ اس طرح کی ٹنلوں میں حادثات کو روکنے اور تیز رفتاری پر قابو پانے کے لئے رفتار کی مقررہ حد چالیس سے پچاس کلو میٹر فی گھنٹہ رہے گی۔" مُنیب ٹاک نے کہا کہ ٹنل میں سے دھویں کے اخراج ممکن بنانے کے لئے وینٹلیشن کا معقول انتظام کیا گیا ہے ۔


انہوں نے کہا کہ یہ واحد ٹنل ہے جس میں Semi trans-verse Ventilation System نصب کیا گیا ہے۔ ٹنل کی تعمیر میں تاخیر سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مُنیب ٹاک نے کہا کہ اگرچہ ٹنل کا کام2011 میں شروع کیا گیا تھا تاہم 2016 کے نامسائید حالات کے دوران اس کام کو کئی مہینوں تک روکنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کووڈ کی وبا کے چلتے بھی یہ کام متاثر ہوا۔ کیونکہ اس دوران زیادہ تر انجنئیر اور مزدور اپنے آبائی گھروں کی طرف لوٹ گئے تھے۔


اسسٹننٹ جنرل منیجر نے کہا کہ گزشتہ برس جون مہینے سے کام دوبارہ شروع کیا گیا جسکے بعد اب یہ تکمیل کو پہنچ رہا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اس ٹنل کی تعمیر کے لئے ڈبل شفٹ میں کام کیا گیا۔ واضح رہے اس ٹنل کی تعمیر پر دو ہزار کروڈ روپئے کی رقم صرف کی گئی ہے اور یہ کام لگ بھگ چار برس کی تاخیر کے بعد مکمل کیا گیا ہے۔ اس ٹنل کی تعمیر سے جموں سے سرینگر پہنچنے میں دو گھنٹے کے وقت کی بچت ہوگی اس کے علاوہ قاضی گُنڈ بانہال سیکٹر میں موسم سرما کے دوران برفباری کے باوجود بھی مسافر اپنا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔

Published by: Mirzaghani Baig
First published: Mar 18, 2021 10:53 AM IST