உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان سے بھیجے گئے  2 دہشت گرد ڈھیر، Amarnath Yatra پر حملے کا بنا رہے تھے منصوبہ

    Youtube Video

    Srinagar bemina encounter: کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے بتایا ہے کہ برآمد شدہ دستاویزات کے مطابق ایک دہشت گرد کی شناخت عبداللہ گوری کے نام سے ہوئی ہے جو فیصل آباد، پاکستان کا رہائشی ہے۔

    • Share this:
      سری نگر۔ جموں و کشمیر کی سری نگر پولیس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ سری نگر کے علاقے بومینہ میں پولیس نے لشکر طیبہ کے دو دہشت گردوں کو ڈھیر کر دیا۔ تاہم اس دوران ایک پولیس اہلکار زخمی بھی ہوا۔ پولیس نے بتایا کہ بومینہ کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن چلایا گیا۔ اس دوران دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی۔ کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے بتایا ہے کہ برآمد شدہ دستاویزات کے مطابق ایک دہشت گرد کی شناخت عبداللہ گوری کے نام سے ہوئی ہے جو فیصل آباد، پاکستان کا رہائشی ہے۔

      دوسرے دہشت گرد کی شناخت اننت ناگ ضلع کے عادل حسین کے طور پر ہوئی ہے۔ عادل سال 2018 میں پاکستان گیا تھا۔ پولیس افسر نے کہا کہ یہ دہشت گردوں کا وہی گروپ ہے، جو سوپور انکاؤنٹر سے فرار ہوا تھا۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کی رپورٹ کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس نے بتایا ہے کہ پاکستان میں مقیم ہینڈلرز نے اننت ناگ کے رہنے والے دہشت گرد عادل حسین میر کے ساتھ دو پاکستانی لشکر دہشت گردوں کو بھیجا تھا۔ یہ سبھی 2018 سے پاکستان میں تھے اور امرناتھ یاترا پر حملہ کرنے کی تیاری میں تھے۔ تینوں مارے گئے ہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ 7 جون کو پاکستان کے لاہور کے ہنجالا میں رہنے والے ایک دہشت گرد کو سوپور میں سیکورٹی فورسز نے مار گرایا تھا۔

      وادی میں سال رواں اب تک 100 دہشت گرد ہلاک
      دہشت گرد عادل پارے گزشتہ اتوار کو سری نگر میں ایک مڈبھیڑ کے دوران مارا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن جاری ہے اور اس سال اب تک مختلف جھڑپوں میں سو دہشت گرد ڈھیر کئے جاچکے ہیں۔ آئی جی پی کشمیر وجے کمار کے مطابق مارے گئے دہشت گردوں میں 71 مقامی اور اُنتیس غیر ملکی دہشت گرد شامل ہیں۔ ہلاک کئے گئے دہشت گردوں میں سے 63 کا تعلق ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ جبکہ ستائیس کا تعلق جیش سے تھا۔ آئی جی پی کے مطابق رواں برس پانچ ماہ اور بارہ دنوں کے دوران سو دہشت گرد ہلاک کئے جاچکے ہیں۔ جبکہ گزشتہ برس اسی مدت کے دوران ایک غیر ملکی دہشت گرد سمیت پچاس دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ سلامتی امور کے ماہرین ، حفاظتی عملے کو مل رہی کامیابیوں کو قابل ستائش قرار دیتے ہیں۔

      جموں و کشمیر کے سابق سابق ڈی جی پی ایس پی وید کا کہنا ہے کہ حفاظتی عملے کو مل رہی ان کامیابیوں سے ظاہر ہے کہ انٹلی جنس ایجنسیاں مزید متحرک ہو چکی ہیں جس وجہ سے دہشت گردوں کی موجود گی کا بروقت پتہ چلتا ہے۔ نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقامی لوگون کی طرف سے دہشت گردوں نقل و حرکت کے بارے میں حفاظتی عملے کو اطلاع فراہم کئے جانے سے دہشت گردوں اور حفاظتی عملے کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ جموں و کشمیر پولیس اور وادی میں تعینات دیگر حفاظتی ایجنسیوں کے پاس انٹلی جنس کا ایک پُختہ نظام ہے، جس کی مدد سے وہ ملی ٹینٹوں کی نقل و حرکت اور ان کی موجودگی کے بارے میں بروقت پتہ لگانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔

      Amarnath یاتریوںکی نقل و حمل پر نظر رکھنے کیلئے ریڈیو فریکوئنسی چپ گاڑیوں میں ہوں گی نصب

      جموں و کشمیر پولیس کے پاس انٹلی جنس کا جدید طریقہ کار موجود ہے، جس سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر قریبی نگاہ رکھی جارہی ہے۔ پولیس اور دیگر ایجنسیوں کے خُفیہ نیٹ ورک کے ساتھ ساتھ عام لوگ بھی دہشت گردوں کی موجودگی کے بارے میں حفاظتی عملے کو اطلاعات فراہم کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں دہشت گرد حفاظتی عملے کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک کئے جارہے ہیں ۔



      دفاعی ماہر کیپٹن انیل گور کا کہنا ہے کہ کشمیر کے عام لوگ دہشت گردی سے چھُٹکارا پانا چاہتے ہیں لہذا وہ دہشت گردوں کی نقل و حرکت کے بارے میں پولیس اور دیگر حفاظتی ایجنسیوں کو بروقت اطلاعات فراہم کرتے ہیں اور نتیجے کے طور پر دہشت گرد اب زیادہ تعداد میں مارے جارہے ہیں۔ سابق ڈی جی پی ایس پی وید نے کہا کہ دہشت گردوں کو زیادہ تعداد میں ہلاک کیا جانا حفاظتی عملے کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے تاہم یہ نہایت لازمی ہے کہ کچھ ایسے اقدامات کئے جائیں کہ مقامی نوجوان دہشت گردوں کی صفوں میں شامل ہی نہ ہوں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: