உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سرینگر انکاؤنٹر  شبہات کے گھیرے میں، سیاسی لیڈروں نے کیا عدالتی جانچ کا مطالبہ

    سرینگر کے حیدر پورہ علاقہ میں کل ہوئے پولیس انکاؤنٹر  پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں جہاں مارے گئے دو مقامی افراد کے لواحقین انھیں بے گناہ بتارہے ہیں۔ وہیں سیاسی لیڈروں نے بھی معاملہ کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

    سرینگر کے حیدر پورہ علاقہ میں کل ہوئے پولیس انکاؤنٹر  پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں جہاں مارے گئے دو مقامی افراد کے لواحقین انھیں بے گناہ بتارہے ہیں۔ وہیں سیاسی لیڈروں نے بھی معاملہ کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

    سرینگر کے حیدر پورہ علاقہ میں کل ہوئے پولیس انکاؤنٹر  پر سوال کھڑے ہوگئے ہیں جہاں مارے گئے دو مقامی افراد کے لواحقین انھیں بے گناہ بتارہے ہیں۔ وہیں سیاسی لیڈروں نے بھی معاملہ کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔

    • Share this:
    سرینگر کے حیدر پورہ علاقہ میں کل دیر شام پولیس انکاؤنٹر میں چار افراد مارے گئے جن میں سے پولیس کے مطابق دو ملی ٹنٹ تھے اور ایک او جی ڈبلیو ۔ چوتھے شخص کے بارے میں آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے خود کہا کہ اُس کا ملی ٹنسی سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اُن کے مطابق اُس کو کس کی گولی لگی یہ پتہ نہیں۔ انھوں نے مارے گئے افراد کی پہچان کے بارے میں بتایا کہ ایک پاکستان سے تعلق رکھنے والا ملی ٹنٹ بلال بھائی ، دوسرا اُس کا ساتھی گُول رام بن کا عامر مارا گیا۔ تیسرے شخص کی پہچان سرینگر کے ڈاکٹر مدثر گُل کے طور ہوئی ہے جس کا دفتر اسی عمارت میں تھا ۔ ڈاکٹر مدثر کے بارے میں آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے کہا کہ وہ ایک او جی ڈبلیو تھا ۔
    ادھر ڈاکٹر مدثر کے اہل خانہ نے پریس کالونی میں احتجاج کیا اور الزام لگایا کہ ڈاکٹر مدثر کو بے گناہ مارا گیا ہے اُن کے رشتہ داروں نے کہا کہ اُس کا ملی ٹنسی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انھوں نے انکی لاش اُنکے حوالہ کرنے اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ اُدھر کمپلیکس کے مالک الطاف احمد کے راشتہ داروں نے بھی انصاف کا مطالبہ کیا ہے ۔
    الطاف احمد کی بیٹی نے میڈیا کو بتایا کہ اُنکے والد کو قتل کیا گیا ہے اور اسکے مطابق اہل خانہ کی گذارش کے باوجود انھیں والد کی لاش بھی نہیں دی جارہی ہے ۔


    آئی جی پی کشمیر  وجے کمار نے بتایا کہ علاقہ میں نقص امن کا خطرہ ہے لہذا لاشیں اُن کے حوالے نہیں کی گئیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس خود مانتی ہے کہ الطاف احمد کا ملی ٹنسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اس کے باوجود آئی جی پی کشمیر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ الطاف کو بھی او جی ڈبلیو کے کھاتے میں ڈالا جائے گا ۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ ایسا کیوں؟ تو اس پر اُن کا کہنا تھا کہ انھوں جس عمارت کو کرایہ پر دیاتھا اُس میں ملی ٹنٹوں کی کمین گاہ تھی۔

    ادھر اس بارے میں سیاسی لیڈر بھی عدالتی جانچ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ سابق وزیر اعلٰی محبوبہ مفتی، عمر عبداللہ ، پیپلز کانفرنس کی چیرمین سجاد غنی لون اور سی پی آئی ایم کے سنئیر لیڈر محمد یوسف تاریگامی نے اس واقعہ کی عدالتی جانچ کا مطالبہ کیا ہے توکہ حقایق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ رکن پارلیمان اور نیشنل کانفرنس لیڈر ریٹائرڈ جسٹس حسنین مسعودی نے شفاف جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی صورت میں لاشیں لواحقین کے حوالے کی جانی چاہئیے۔ انھوں نے کہا کہ امن و قانون قائم کرنا پولیس کا کام ہے اور یہ لاشیں حوالے نہ کرنا کوئی جواز نہیں ہوسکتا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: