உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا بیان، کشمیری مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی ہورہی ہے کوشش

    نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہےکہ کشمیر میں نئی سیاسی جماعتوں کا وجود مسلمانوں کو تقسیم کرکے اپنے سیاسی گھوڑے دوڑانے کے لئے عمل میں لایا جارہا ہے۔

    نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہےکہ کشمیر میں نئی سیاسی جماعتوں کا وجود مسلمانوں کو تقسیم کرکے اپنے سیاسی گھوڑے دوڑانے کے لئے عمل میں لایا جارہا ہے۔

    نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہےکہ کشمیر میں نئی سیاسی جماعتوں کا وجود مسلمانوں کو تقسیم کرکے اپنے سیاسی گھوڑے دوڑانے کے لئے عمل میں لایا جارہا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ کشمیر میں نئی نئی سیاسی جماعتیں دراصل کشمیر کے مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لئے قائم کی جا رہی ہیں۔ سرینگر میں آج پارٹی کے ایک اجلاس کے موقعہ پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہ کوششیں ہر دور میں ہوتی رہی ہیں۔ ڈاکٹر فاروق نے نیوز ۱۸ اردو کے نمائندے کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دفعہ 370کے معاملے پر تمام جماعتیں متحد ہیں لیکن جب اُن سے یہ پوچھا گیا کہ آخر پی اے جی ڈی کا یہ اتحاد زمین پر نظر کیوں نہیں آرہا اور وہ نتن گڈکری جیسے لیڈروں کے ساتھ اسٹیج پر نظر آتے ہیں جبکہ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی مرکز سے کافی خفا نظر آرہی ہیں تو ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ وہ رُکن پارلیمان بھی ہیں اور انھیں عوام کے مسایل سامنے رکھنے کے لئے مرکزی وزراء کے ساتھ ملاقات کرنی پڑتی ہے۔

    ملازمین کو برخواست کرنے کے معاملہ پر ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر ملازمین کو مختلف بہانے سے برخواست کرکے ملی ٹنسی کو کم کرنے کے بجائے بڑھا دیں گے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے نئے سیاسی پلیٹ فارموں سے متعلق بیان پر کئی جماعتیں خفا ہوگئی ہیں۔ پیپلز کانفرنس نے اس پر ردعمل کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ مخالف جماعتوں کو آر ایس ایس کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بیانات دے کر بد نام کرنے کی کوشش کی ہے لیکن خود نتن گڈکری اور دیگر لیڈروں کے ساتھ جگہ جگہ اسٹیج پر نظر آتے ہیں۔

    بی جے پی کے ریاستی صدر ریوندر رینہ نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ 370 کے معاملہ پر غلط فہمی کا شکار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 370کو بھی جمہوری طریقے سے ہٹایا گیا۔ اُنکا کہنا ہے کہ ہندوستان کے پارلیمنٹ نے ہی یہ لایا تھا اور انھوں نے ہی اسے کالعدم کیا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: