ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں وکشمیر میں ٹوٹی دہشت گردی کی کمر، اب سائبر تکنیک سے نوجوانوں کو لبھانے میں مصروف ہے آئی ایس آئی

دہشت گرد حامی یہ لوگ دہشت گرد تنظیموں میں نئے لوگوں کو شامل کرنے کے لئے ان سے جسمانی طور پر رابطہ کرتے تھے، لیکن سیکورٹی ایجنسیوں کی چوکسی کے بعد ان لوگوں کو اپنے طور طریقے بدلنے کو مجبور ہونا پڑا۔

  • Share this:
جموں وکشمیر میں ٹوٹی دہشت گردی کی کمر، اب سائبر تکنیک سے نوجوانوں کو لبھانے میں مصروف ہے آئی ایس آئی
جموں وکشمیر میں ٹوٹی دہشت کی کمر، اب سائبر تکنیک سے نوجوانوں کو لبھانے میں مصروف ہے آئی ایس آئی

سری نگر: ہندوستانی سیکورٹی اہلکاروں (Indian Security Force) کی سخت چوکسی کے سبب پاکستان (Pakistan) کی خفیہ ایجنسی (Intelligence Agency) اور دہشت گردانہ گروپ اب سائبر اور موبائل اسپیس میں ’اپلی کیشن’ کا استعمال کرتے ہوئے جموں وکشمیر میں بھرتی کرنے میں مصروف ہوگئے ہیں۔ سیکورٹی اہلکاروں کی چوکسی کے سبب ان کے لئے براہ راست آمنے سامنے رابطہ کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ افسران نے کہا، خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر تکنیکی نگرانی کے حوالے سے بتایا گیا کہ نئے لوگوں کو شامل کرنے کے لئے ان کے جذبات کو بھڑکانے کے واسطے پاکستان کے آئی ایس آئی ’ہینڈلر‘ سیکورٹی اہلکاروں کے ذریعہ کئے گئے مبینہ مظالم کے فرضی ویڈیو کا اکثر استعمال کرتے ہیں۔ اس کے لئے جھوٹی باتیں گڑھی جارہی ہیں۔


اس سے قبل دہشت گرد حامی یہ لوگ دہشت گردانہ تنظیموں میں نئے لوگوں کو شامل کرنے کے لئے ان سے جسمانی طور پر رابطہ کرتے تھے۔ لیکن سیکورٹی ایجنسیوں کی چوکسی کے بعد ان لوگوں کو اپنے طور طریقے بدلنے کو مجبور ہونا پڑا۔ سیکورٹی ایجنسیوں کے ذریعہ 2020 میں 24 سے زیادہ دہشت گرد ماڈیول کا پردہ فاش کیا گیا اور 40 سے زیادہ اس طرح کے دہشت گرد حامیوں یا ان سے ہمدردی رکھنے والوں کی گرفتاری ہوئی۔


دہشت گرد ہتھیار ڈال رہے ہیں

پچھلے مہینے، دو دہشت گردوں تنور واگھیئی اور امیر احمد میر نے 34 راشٹریہ رائفلز کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔ ان لوگوں نے دہشت گردی کے ماڈیولز میں اپنی شمولیت کے بارے میں گہری معلومات دیں، جس سے یہ ظاہر ہوا کہ سائبر ٹکنالوجی کے استعمال سے بڑے پیمانے پر لوگ ملوث ہو رہے ہیں۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 03, 2021 09:45 PM IST