உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایل او سی پر Ceasefire کی وجہ سے پونچھ کے سرحدی علاقوں کے طلباء کو ملی راحت، مستقبل پرامن ماحول میں بہتر اسکولنگ کی امید

    Students of border areas of Poonch relived due to ceasefire on LOC :  پونچھ ضلع کے کنٹرول لائن سے متصل علاقوں کے طالب علم بھی اسکولوں میں تدریسی عمل دوبارہ شروع ہونے سے انتہائی خوش دکھائی دے رہے تھے۔  ہندو پاک کے درمیان جنگ بندی سے بچوں اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین بھی خوش ہیں۔

    Students of border areas of Poonch relived due to ceasefire on LOC : پونچھ ضلع کے کنٹرول لائن سے متصل علاقوں کے طالب علم بھی اسکولوں میں تدریسی عمل دوبارہ شروع ہونے سے انتہائی خوش دکھائی دے رہے تھے۔ ہندو پاک کے درمیان جنگ بندی سے بچوں اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین بھی خوش ہیں۔

    Students of border areas of Poonch relived due to ceasefire on LOC : پونچھ ضلع کے کنٹرول لائن سے متصل علاقوں کے طالب علم بھی اسکولوں میں تدریسی عمل دوبارہ شروع ہونے سے انتہائی خوش دکھائی دے رہے تھے۔ ہندو پاک کے درمیان جنگ بندی سے بچوں اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین بھی خوش ہیں۔

    • Share this:
    جموں و کشمیر: کشمیر وادی کے ساتھ ساتھ جموں صوبے کے سرمائی زون میں بھی دو مارچ سے اسکولوں میں تدریسی عمل دوبارہ شروع ہوا۔ کووڈ وبا کی صورتحال میں بہتری کے بعد ایل جی انتظامیہ نے اسکول کھولے جانے کا فیصلہ کیا۔ تقریبا دو سال کے عرصے کے بعد دوبارہ اسکول کھل جانے سے طالب علم نہایت خوش دکھائی دئے۔ پونچھ ضلع کے کنٹرول لائن سے متصل علاقوں کے طالب علم بھی اسکولوں میں تدریسی عمل دوبارہ شروع ہونے سے انتہائی خوش دکھائی دے رہے تھے۔ پونچھ ضلع کی منڈی تحصیل میں واقع ساوجیاں علاقے میں صُبح سویرے اسکولوں کی جانب روانہ ہونے والے طالب علموں کے چہرے خوشی سے کھلے ہوئے تھے۔ وہ نہ صرف اس بات پر خوش تھے کہ انہیں کافی عرصے کے بعد اسکول جانے کا موقع ملا تھا بلکہ اس لئے بھی کہ ہندوستان اور پاکستان کے بیچ گزشتہ ایک برس سے جاری جنگ بندی معاہدے کی عمل آوری سے وہ بلا کسی خوف کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کر پائیں گے۔

    کنٹرول لائن LOC سے محض پانچ سو میٹر کی دوری پر واقع ساوجیاں سیکٹر کے ماڈل ہائیر سیکنڈری اسکول میں زیر تعلیم گیارہویں جماعت کی طالبہ آسیہ لون کا کہنا ہے کہ ایک سال قبل تک اس علاقے میں پاکستان کی جانب سے بلااشتعیال گولہ باری کی وجہ سے اس گائوں کے اکثر طالب علم اپنے گھروں میں ہی رہنے کو مجبور ہوجاتے تھے کیونکہ پاکستان کی گولہ باری کے دوران کئی بار کئی گولے انکے اسکول کے آس پاس بھی گرے جس سے بچے خوف زدہ ہوگئے۔ تاہم اب گزشتہ ایک برس سے کنٹرول لائین پر خاموشی ہے جس سے یہ امید ہے کہ مستقبل میں حالات پر سکون رہیں گے اور طالب علم اپنی تعلیم حاصل کر پائیں گے۔ اسی اسکول میں زیر تعلیم بارہویں جماعت کی طالبہ سمینا اخترنے نیوز ایٹین اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کورونا وبا کی وجہ سے یو ٹی کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ ہمارے علاقے کے تعلیمی ادارے بھی بند رہے اور آج اسکول دوبارہ کھل جانے پر میں نہایت خوش ہوں کیونکہ آج میں اپنے ہم جماعتوں اور اساتذہ کے ساتھ ملاقات کر پاؤں گی۔ اس سے زیادہ خوشی اس بات کی ہے کہ کنٹرول لائین پر گزشتہ ایک برس سے فائیر بندی قائیم ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ دونوں ممالک جنگ بندی معاہدے ceasefire  پر لگاتار عمل پیرا رہیں گے تاکہ میں اور میرے دیگر ساتھی طالب علم پر سکون ماحول میں تعلیم حاصل کرکے اپنا مستقبل سنوار سکیں۔

    ماڈل ہائیر سیکنڈری اسکول کے پرنسپل انور خان کا کہنا ہے کہ اسکولوں میں تدریسی عمل دوبارہ شروع ہوجانے سے اساتذہ صاحبان بھی کافی خوش ہیں۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے خان نے کہا یہ علاقہ کنٹرول لائین کے نہایت ہی قریب واقع ہے لہذا یہ پاکستان کی بلا اشتعیال گولہ باری سے کافی متاثر رہتا تھا۔ بھارت کی جانب سے پاکستان کی گولہ باری کا جواب دیا جاتا تھا تاہم پاکستانی شیلنگ سے اس علاقے کے لوگ کافی متاثر ہوتے تھے۔ دن کے دوران پاکستان کی شلنگ کی وجہ سے ہمیں اکثر اسکول بند کرنے پڑتے تھے تاکہ بچوں کی حفاظت کو یقنی بنایا جاسکے۔ اب جبکہ کنٹترول لائین کاموش ہے ہمیں امید ہے کہ یہ خاموشی برقرار رہے گی اور اساتذہ صاحبان پر امن ماحول میں بچوں کو تعلیم کے نور سے آراستہ کر پائیں گے: انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائین سے لگنے والے علاقوں میں رہائیش پزیر لوگوں کی چاہت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان فائیر بندی قائم رہے تاکہ عوام کو سکون کی زندگی میسر ہو۔

    ہندو پاک کے درمیان جنگ بندی سے بچوں اور اساتذہ کے ساتھ ساتھ والدین بھی خوش ہیں۔ گلی میراں پونچھ کے محمد بشیر نے کہا کہ کنٹرول لائین پر گزشتہ ایک برس سے حالات پر سکون ہیں جس سے انہیں یہ امید بڑھ گئ ہے کہ انکے بچے اب امن سکون کے ماحول میں تعلیم حاصل کر پائیں گے۔ نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئےف محمد بشیر نے کہا فائیرنگ کی وجہ سے ہم بچوں کو سکول بیجنے سے اکثر کتراتے تھے اور جس دن وہ سکول فجاتے بھی تھے ہم انکے بارے میں فکر مند رہتے تھے تاہم گزشتہ ایک برس سے کنٹرول لائین پر گولہ باری بند ہے جس سے ہم نے راحت کی سانس لی ہے کیونکہ اب ہمارے بچے بغیر کسیف خوف کے سکول جاسکیں گے۔

    ایک اور عام شہری عبدل صُبحان نے نیوز ایٹین اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں کے لوگ چاہتے ہیں کہ یہاں امن قائیم رہے تاکہ مقامی بچے تعلیم کے میدان میں آگے بڑھ سکیں۔ انہوں نے کہا آج کا دور مقابلے کا دور ہے اعلی تعلیم حاصل کرنی ہو یا پھر پیشہ ورانہ تعلیم اسکے لئے بچے کا ذہین ہونا نہایت ہی اہم ہے اور بچہ تبھی ذہین بن سکتا ہے جب وہ پر سکون ماحول میں تعلیم حاصل کر پائے جو گزشتہ کئی برسو ں سے ہمارے بچوں کو نصیب نہیں ہوا۔ اب جبکہ گزشتہ ایک برس سے حالات بہتر ہیں ہمیں امید ہے کہ یہ معاہدہ بدستور جاری رہے گا اور ہمارے بچے تعلیم کے میدان میں نئی اُڈان بر سکیں گے: واضح رہے کہ گزشتہ برس پچیس فروری کو ہندوستان اور پاکستان کے ڈی جی ایم اوز نے جنگ بندی معاہدے پر عمل آوری کو یقینی بنانے کا مشترکہ اعلانیہ جاری کیا تھا جس کے بعد سے سرحد اور کنٹرول لائین پر پر سکون ماحول دیکھنے کو مل رہا ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: