உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کوچنگ مراکز بند کرنے پر کشمیر میں Students کا احتجاج، پوچھا Education کیوں بنایا جارہا ہے پہلا نشانہ؟

    جموں کشمیر میں  سال 2019سے اکثر اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہے ۔ کووڈ کے مریضوں میں اضافے کے بعد ایک پھر بار تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے ہیں۔

    جموں کشمیر میں  سال 2019سے اکثر اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہے ۔ کووڈ کے مریضوں میں اضافے کے بعد ایک پھر بار تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے ہیں۔

    جموں کشمیر میں  سال 2019سے اکثر اسکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند رہے ۔ کووڈ کے مریضوں میں اضافے کے بعد ایک پھر بار تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے ہیں۔

    • Share this:
    سرینگر: پریس کالونی سرینگر میں آج طلبا کے ایک گروپ نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ طلبا سرمائی کوچنگ مراکز بند کرنے کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ احتجاج میں شامل منیبہ نے سوال کیا کہ اگر ہر جگہ کشمیر میں بازار ریستوراں اور سیاحتی مقامات پر لوگوں کی بھیڑ لگی ہے اور وہاں کوئی کاروائی نہیں کی جارہی تو تعلیمی اداروں کو کیوں پہلا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ انھوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی کہ اس فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور اُنکا مستقبل خراب ہونے سے بچایا جائے۔ اُدھر  سرینگر  میں آج کوچنگ مراکز کے آس پاس کرایہ پر رہ رہے طلبا اپناسامان سمیٹ کر گھروں کی طرف جاتے دکھائی دیے۔

    یہ طلبا کافی پریشان ہیں اور انتظامیہ کے فیصلے سے نالاں بھی۔ ذیشان نامی ایک طالب علم نے بتایا کہ انکے والد نے مالی مشکلات کے باوجود کوچنگ مرکز میں انکا داخلہ کروایا اور کرایہ پر کمرہ لے کر وہ یہاں رہ رہے تھے لیک  فیس اور کرایہ ادا کرنے کے چند دن کے اندر ہی کوچنگ مرکز بند ہوگیا۔ انھوں نے کہا کہ پچجلے سال وہ  بارہویں جماعت میں تھا اور تب بھی انھیں اسی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ آن لائن موڈ پر کوچنگ سے یہ طلبا مطمعین نہیں ہے۔ کہتے ہیں جے ای اور نِیٹ جیسے امتحانات کے لئے آن لائن موڈ سے کوچنگ نہیں ہوسکتی۔ کوچنگ سنٹرس ایسوسی ایشن  کشمیر کے صدر لطیف مسعودی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈ نکالنا  چاہئے جس سے کووڈ ضوابط پر بھی عمل ہو اور بچوں کی تعلیم بھی متاثر نہ ہو۔

    جموں کشمیر میں دفعہ 370 کالعدم کئے جانے کے بعد یعنی اگست 2019 سے ہی تعلیمی ادارے اکثر بند رہے ہیں جسکی وجہ سے طلبا پریشان ہیں ۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کووڈ معاملوں میں مسلسل اضافہ کے بعد سرکاری اور  غیر سرکاری ٹیوشن مراکز کو بند کرنا ناگزیر ہوگیا ہے لیکن طلبا کے ساتھ ساتھ والدین بھی اس صورتحال سے پریشان ہیں۔ حال ہی میں شروع کی گئی کووڈ ٹیکہ کاری میں کوچنگ مراکز سے وابستہ طلبا نے بڑھ چڑھ کے حصہ لیا اور امید کی جارہی تھی کہ اس کے بعد یہ مراکز بند نہیں کئے جائیں گے لیکن ایسا ہوا نہیں اور ایک بار پھر یہ مراکز بند کئے گئے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: