ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

وادی کشمیر: این آئی سی سینٹروں پرطلباکاہجوم ،اسکالرشپ فارم جمع کرنے کی تاریخ میں پھرتوسیع

مرکزی وزارت اقلیتی امور نے جموں وکشمیر کے طلبا کے لئے اسکالر شپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ میں ایک بار پھر توسیع کی ہے جس سے طلبا کو راحت کی سانس نصیب ہوئی ہے

  • Share this:
وادی کشمیر: این آئی سی سینٹروں پرطلباکاہجوم ،اسکالرشپ فارم جمع کرنے کی تاریخ میں پھرتوسیع
جموں وکشمیر میں عالمی وبا کورونا وائرس سے پیش آنے والی اموات اور متاثرہ افراد کی تعداد میں مسلسل اضافے کے چلتے جاری لاک ڈاؤن غیر اعلانیہ کرفیو کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ تاہم صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر لوگ بھی اپنے گھروں تک ہی محدود رہ کر رضاکارانہ طور پر 'سیول کرفیو' نافذ کرچکے ہیں۔وادی کشمیر جہاں کورونا وائرس کے مہلوکین اور متاثرین کی تعداد بڑھتی ہی چلی جارہی ہے، میں اتوار کو مسلسل 11 ویں روز بھی مکمل لاک ڈؤان جاری رہا۔(تصویر:فائل فوٹو)۔

وادی کشمیر میں انٹرنیٹ کی مسلسل پابندی کے باعث پیر کے روز پری اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ کے پیش نظر طلبا کو اپنے اپنے ضلع صدر مقامات میں قائم این آئی سی سینٹروں کے باہر تاحد نظر لمبی قطاروں میں دیکھا گیا تاہم مرکزی وزارت اقلیتی امور نے جموں وکشمیر کے طلبا کے لئے اسکالر شپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ میں ایک بار پھر توسیع کی ہے جس سے طلبا کو راحت کی سانس نصیب ہوئی ہے۔ بتادیں کہ 16 دسمبر پری اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ مقرر تھی تاہم وادی میں جاری نامساعد حالات کے پیش نظر مرکزی وزارت اقلیتی امور نے جموں وکشمیر کے طلبا کے لئے اسکالر شپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ میں 17 جنوری 2020 تک توسیع کی ہے۔ ادھر والدین نے مرکزی وزارت داخلہ سے وادی میں انٹرنیٹ خدمات کی بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ این آئی سی سینٹروں میں بہم سہولیات کافی نہیں ہیں جس کے باعث بہت ہی کم طلبا اسکالر شپ فارم جمع کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں۔


ایک کشمیری شہری اپنے مکان میں باہر کا نظارہ کرتے ہوئے۔(تصویر:رائٹرز)۔
ایک کشمیری شہری اپنے مکان میں باہر کا نظارہ کرتے ہوئے۔(تصویر:رائٹرز)۔


عینی شاہدین نے بتایا کہ پوسٹ میٹرک اسکالر شپ فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ کے پیش نظر سری نگر میں قائم این آئی سی سینٹر میں پیر کی صبح کو ہی طلبا کا سیلاب امڈ آیا تھا اور دیگر اضلاع میں قائم این آئی سی سینٹروں کے باہر بھی صبح سے ہی طلبا کو ٹھٹھرتی سردی میں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑا دیکھا گیا۔ایک طالب نے یو این آئی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ سال گزشتہ مجھے اسکالر شپ فارم جمع کرنے میں صرف دس منٹ صرف ہوئے تھے لیکن امسال انٹرنیٹ کی پابندی کے باعث میں پانچ دنوں سے لگاتار این آئی سی سینٹر پر حاضر ہورہا ہوں لیکن فارم جمع نہیں کرپارہا ہوں۔


ایک اور طالب علم نے کہا کہ اگر کوئی طالب علم فارم جمع کرنے میں کسی طرح اب کامیاب بھی ہوتا ہے تو او ٹی پی نمبر، جو مسیج کے ذریعے فون پر آتا ہے، کے نہ آنے کی وجہ سے اس کی ساری محنت اور وقت رائیگاں ہی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف بی ایس این ایل نے ہی اب تک مشین سے جنریٹ ہونے والی مسیج سروس بحال کی ہے جبکہ دوسری کمپنیوں نے اب تک مسیج سروس بحال نہیں کی ہے جس کی وجہ سے صرف ان ہی طلبا کو او ٹی پی نمبر آتا ہے جن کے پاس بی ایس این ایل کے نمبرات ہیں جبکہ بیشتر طلبا ایسے ہیں جن کے پاس جیو یا ایئرٹیل سم کارڈ ہیں۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر


ایک دور افتادہ گاؤں کے ایک طالب نے کہا کہ کئی میلوں کی مسافت طے کرنے کے بعد میں فارم جمع کئے بغیر ہی گھر واپس لوٹا۔انہوں نے کہا: 'میں صبح سویرے گھر سے فارم جمع کرنے کے لئے ضلع صدر مقامات کی طرف نکلا کئی میلوں کی مسافت طے کی اور دن بھر قطار میں کھڑا رہنے کے بعد میں فارم جمع کئے بغیر ہی گھر واپس لوٹا کیونکہ شام تک میری بھاری ہی نہیں آئی اور پھر سینٹر بند ہوا اور میں گھر کی طرف روانہ ہوا'۔قابل ذکر ہے کہ وادی کشمیر میں پانچ اگست سے انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس سروسز کی مسلسل معطلی کے باعث امسال ہزاروں کی تعداد میں طلبا مرکزی وزارت اقلیتی امور کی طرف سے چلائی جارہی پری اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیموں کے فائدوں سے محروم ہورہے ہیں۔
First published: Dec 17, 2019 06:35 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading