உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ناری شکتی اعزاز سے سرفراز سندھیا دھر نے جسمانی طور پر معذور افراد کے تئیں سماج کو اپنے رویے میں تبدیلی لانے کا مشورہ دیا

    ناری شکتی اعزاز سے سرفراز سندھیا دھر نے جسمانی طور پر معذور افراد کے تئیں سماج کو اپنے رویے میں تبدیلی لانے کا مشورہ دیا

    ناری شکتی اعزاز سے سرفراز سندھیا دھر نے جسمانی طور پر معذور افراد کے تئیں سماج کو اپنے رویے میں تبدیلی لانے کا مشورہ دیا

    سندھیا دھر جسمانی طور پر خاص اور سماج کے پچھڑے طبقوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مفت تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے کام کرتی رہی ہیں۔ سندھیا دھر کی اس پہل اور اس سے برآمد ہونے والے مثبت نتائج کے صلے میں صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند نے گزشتہ ہفتے سال 2020 کے ناری شکتی سمان سے نوازا۔

    • Share this:
    جموں وکشمیر: کسی فرد میں کچھ الگ کرنے کی لگن ہو، ارادے ہوں پکے اور حوصلے بلند ہوں تو کوئی بھی کارنامہ انجام دیا جا سکتا ہے، اس کی تازہ مثال ہے جموں میں رہائش پذیر کشمیری پنڈت مہاجر لڑکی سندھیا دھر۔ سندھیا دھر جسمانی طور پر خاص اور سماج کے پچھڑے طبقوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو گزشتہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مفت تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے کام کرتی رہی ہیں۔ سندھیا دھر کی اس پہل اور اس سے برآمد ہونے والے مثبت نتائج کے صلے میں صدر جمہوریہ ہند رام ناتھ کووند نے گزشتہ ہفتے سال 2020 کے ناری شکتی سمان سے نوازا۔ گرچہ سندھیا دھر بچپن سے ہی ایک مخصوص بیماری کی وجہ سے اپاہج ہوچکی ہیں اور ان کی دونوں ٹانگیں اور ایک بازو کام نہیں کر رہے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور کامرس میں پوسٹ گریجویشن مکمل کرکے ضرورت مند بچوں کو مفت تعلیم فراہم کرتی رہیں۔

    سندھیا دھر کا کہنا ہے کہ بچپن میں ان کے ماں باپ خاص طور پر ان کی ماں نے ان کی زندگی میں سدھار لانے کے لئے کافی محنت کی۔ ضروری علاج ومعالجہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے والدین نے سندھیا کو کبھی بھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ دیگر بچوں کے مقابلے میں کمزور ہے۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں سندھیا دھر نے کہا،" میرے والدین مجھے بچپن سے ہی اپنے ہمراہ ہر تقریب میں لے جاتے تھے۔ شادی بیاہ کی تقریب ہو یا پھر کوئی خوشی کی تقریب۔ میرے والدین مجھے اپنے ساتھ لے جاکر وہاں موجود لوگوں کو یہ احساس دلاتے تھے کہ وہ مجھ سے انتہائی محبت کرتے ہیں اور میں کسی سے کم نہیں"۔

    سندھیا دھر کا کہنا ہے کہ بچپن میں ان کے ماں باپ خاص طور پر ان کی ماں نے ان کی زندگی میں سدھار لانے کے لئے کافی محنت کی۔
    سندھیا دھر کا کہنا ہے کہ بچپن میں ان کے ماں باپ خاص طور پر ان کی ماں نے ان کی زندگی میں سدھار لانے کے لئے کافی محنت کی۔


    انہوں نے کہا،" میرے بڑے بھائی مجھ سے کہتے ہیں کہ میرا بھائی جب میرے ساتھ ہے تو مجھے کیا غم ہے، وہ مجھے بہن بھی نہیں پکارتا، جسمانی طور پر معذور کہنا تو دور کی بات ہے"۔ سندھیا کا کہنا ہے کہ جسمانی طور پر خاص بچوں کے والدین کو یہ بات تسلیم کرنی چاہئے کہ ان کے ان بچوں کو زیادہ دھیان دینے کی ضرورت ہے اگر وہ ان کی طرف خصوصی توجہ دیں تو ان کا مستقبل بھی تابناک ہوسکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سماج پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ وہ ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی کریں"، مجھے سماج کا یہ رویہ صریحاً غلط لگتا ہے جب جسمانی طور پر معذور فرد کو بازار کا رخ کرنے پر یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کے گھر میں کوئی اور موجود نہیں تھا، جو خریداری کے لئے بازار جاتا۔ میرے ساتھ کئی بار ایسا ہوا ہے اور اس طرح کے فقرے کسنے سے مجھے بھی تکلیف ہوئی۔ جب تک ایسے بچے گھروں سے باہر نہیں نکلیں گے، ان کی پریشانیوں کو کون سمجھ پائے گا، وہ گھر سے باہر آئیں گے، تبھی ان کے مسائل کا حل تلاش کرنے میں مدد ملے گی"۔

    یہ بھی پڑھیں۔

    حزب المجاہدین کے 3 دہشت گردگرفتار، کلگام میں کیا تھا سرپنچ کا قتل، گاڑی اور ہتھیار ضبط

    واضح رہے کہ سندھیا دھر ’جگر‘ نام سے ایک رضاکار تنظیم چلا رہی ہیں، جس کے ذریعے وہ 75 ایسے بچوں کو مفت تعلیم فراہم کررہی ہیں، جن میں جسمانی طور پر خاص 21 بچے جبکہ باقی ماندہ بچے سماج کے غریب طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ان بچوں کی تعلیمی اور دیگر ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے عام لوگوں یا سرکار سے کوئی مدد حاصل نہیں کرتی ہیں۔ سندھیا دھر کا کہنا ہے کہ ان کے ٹرسٹ میں 70 فیصد جسمانی طور خاص خواتین بطور ممبران شامل ہیں، جو اپنی کمائی سے ٹرسٹ کو مالی معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ سرکار کی جانب سے انہیں اس انسانیت دوست کام انجام دینے کے صلے میں ناری شکتی ایوارڈ سے سرفراز کئے جانے پر مرکزی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سندھیا دھر نے کہا کہ اس حوصلہ افزائی سے ان کی سماج کے تئیں ذمہ داریاں مزید بڑھ گئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ کوئی انعام پانے کے لیے یہ کام انجام نہیں دے رہی ہیں، تاہم سرکار کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ایک باعثِ فخر لمحہ ہے۔ مستقبل میں اپنے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے سندھیا دھر نے کہا،" میں چاہتی ہوں کہ سماج کے پچھڑے طبقوں اور جسمانی طور پر خاص بچوں نیز سینئر سٹیزنز کے لئے ایک ہی مقام پر ایسا ادارہ قائم کیا جائے تاکہ غریبی کی سطح سے نیچے افراد کو آتم نربھر بھارت مشن کے تحت مالی اعتبار سے خود کفیل بنایا جائے اور بزرگ افراد سے ان کے زندگی بھر کے تجربات سے نوجوان نسل کو آگاہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے ماضی کے بارے میں مطلع ہوسکیں"۔ انہوں نے کہا کہ کیونکہ اس پروجیکٹ پر کافی اخراجات آسکتے ہیں، جو وہ اپنے محدود ذرائع سے پورا نہیں کرسکتی ہیں۔ سندھیا دھر نے کہا کہ وہ مستقل قریب میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ساتھ اس بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کرنے کی کوشش کریں گی تاکہ ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: