ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

محبوبہ مفتی کو کب تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے؟ سپریم کورٹ نے مرکز سے پوچھا

محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے اپنی عرضی میں اپیل کی ہے کہ ان کی ماں محبوبہ کو پارٹی کی میٹنگوں میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔ التجا نے کہا کہ ان کی ماں ایک سیاسی پارٹی کی صدر ہیں۔ اس لئے انہیں اپنی ذمہ داری پوری کرنی دی جائے۔ انہیں اپنے لوگوں، پارٹی عہدیداروں، کارکنان اور عام لوگوں سے ملنے۔ بات چیت کرنے کی چھوٹ دی جائے۔

  • Share this:
محبوبہ مفتی کو کب تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے؟ سپریم کورٹ نے مرکز سے پوچھا
محبوبہ مفتی کی فائل فوٹو

نئی دہلی۔ جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی (Mehbooba Mufti) کی رہائی کی مانگ والی عرضی پر آج سپریم کورٹ (Supreme Court) میں سماعت ہوئی۔ محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے سپریم کورٹ میں اپنی ماں کی عوامی تحفظ قانون کے تحت نظربندی کو چیلنج دینے والی عرضی دائر کی ہے۔ سپریم کورٹ نے جموں وکشمیر (Jammu-Kashmir) انتظامیہ سے پوچھا کہ محبوبہ کو کب تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے؟ عدالت نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے اپنے موقف کی جانکاری دینے کے لئے کہا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے پوچھا کہ کیا ان کی حراست ایک سال سے آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ عدالت نے محبوبہ کی بیٹی التجا مفتی کی ترمیم شدہ عرضی پر مرکز سے ایک ہفتے میں جواب مانگا ہے۔ اگلی سماعت 25 اکتوبر کو ہو گی۔


محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا مفتی نے اپنی عرضی میں اپیل کی ہے کہ ان کی ماں محبوبہ کو پارٹی کی میٹنگوں میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے۔ التجا نے کہا کہ ان کی ماں ایک سیاسی پارٹی کی صدر ہیں۔ اس لئے انہیں اپنی ذمہ داری پوری کرنی دی جائے۔ انہیں اپنے لوگوں، پارٹی عہدیداروں، کارکنان اور عام لوگوں سے ملنے۔ بات چیت کرنے کی چھوٹ دی جائے۔ حالانکہ، عدالت نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔




التجا مفتی نے اپنی ماں کی رہائی کے لئے دائر عرضی میں کہا ہے کہ ان کی ماں محبوبہ مفتی کو عوامی تحفظ قانون کے تحت غیر قانونی طریقے سے حراست میں لیا گیا ہے۔ انہیں فروری میں اس قانون کے تحت حراست میں لیا گیا تھا اور وہ ابھی تک حراست میں ہی ہیں۔

بتا دیں کہ پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کو جموں وکشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے ایک دن پہلے سے کئی علیٰحدگی پسند رہنماوں کے ساتھ نظربند کر لیا گیا تھا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 29, 2020 02:20 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading