ہوم » نیوز » جموں وکشمیر

جموں میں اہم تنصیبات کے آس پاس ڈرونز کی حرکت کو لے کر دفاعی ماہرین نے کہی یہ بڑی بات

Jammu and Kashmir News : جموں کے حساس علاقوں میں گزشتہ 4 روز سے لگاتار ڈرونز کی حرکت کیوں دیکھی جا رہی ہے اور اس کے کیا معنی نکالے جا سکتے ہیں ، اس تعلق سے دفاعی ماہرین علاحدہ علاحدہ رائے کا اظہار کر رہے ہیں ۔

  • Share this:
جموں میں اہم تنصیبات کے آس پاس ڈرونز کی حرکت کو لے کر دفاعی ماہرین نے کہی یہ بڑی بات
جموں میں اہم تنصیبات کے آس پاس ڈرونز کی حرکت کو لے کر دفاعی ماہرین نے کہی یہ بڑی بات

جموں و کشمیر:  بدھ کی صبح لگاتار چوتھے روز جموں کے حساس علاقوں میں ڈرون دیکھے گئے ۔ 27 جون کو جموں کے ایئر فورس اسٹیشن پر کم شدت والے ڈرون کے ذریعے کئے گئے دو دھماکوں کے بعد گزشتہ 3 روز سے ان ڈرونز کی حرکت سے اگرچہ دہشت گردی کا کوئی واقع پیش نہیں آیا ہے ، تاہم حساس علاقوں میں ڈرونز کی لگاتار حرکت سیکورٹی ایجنسیوں اور سرکار کیلئے فکر مندی کا باعث بنی ہوئی ہے ۔ جموں کے حساس علاقوں میں گزشتہ 4 روز سے لگاتار ڈرونز کی حرکت کیوں دیکھی جا رہی ہے اور اس کے کیا معنی نکالے جا سکتے ہیں ، اس تعلق سے دفاعی ماہرین علاحدہ علاحدہ رائے کا اظہار کر رہے ہیں ۔


سرکردہ دفاعی ماہر کپٹین انل گور کا کہنا ہے اگرچہ ایئر فورس اسٹیشن جموں میں کم شدت والے دھماکے ہونے کے بعد گزشتہ 3 روز میں ایسا کوئی واقع پیش نہیں آیا ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ان ڈرونز کے ذریعہ جموں کشمیر بالخصوص جموں خطے میں قائم اہم تنصیبات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں ۔ نیوز 18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انل گور نے کہا کہ جموں کے جن علاقوں میں ڈرونز کی حرکت دیکھی گئی ہے ، وہاں ملک کی دفاع سے متعلق کئی اہم تنصیبات قائم ہیں ، جس سے یہ اشارے ملتے ہیں کہ پاکستان ان تنصیبات سے متعلق اہم جانکاریاں حاصل کرنے میں جٹا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرونز کی لگاتار حرکت کی ایک اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جموں کے ایئر فورس اسٹیشن پر 27 جون کو ڈرون کے ذریعہ دھماکوں کے بعد ہندوستانی سرکار نے اس معاملہ کو یو این کی نوٹس میں لانے کے سوا پاکستان کے خلاف کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا ۔


وہیں ایک اور دفاعی ماہر بریگیڈئیر انل گپتا کا کہنا ہے کہ پاکستان سیکورٹی افواج کے دھیان کو بھٹکانے کیلئے یہ ناپاک حرکتیں انجام دے رہا ہے ۔ نیوز 18 اُردو کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے بریگیڈیئر انل گپتا نے کہا کہ پاکستان ہندوستانی افواج اور دیگر حفاظتی عملے کا دھیان زمین کی بجائے فضا کی طرف موڑنا چاہتا ہے ۔ تاکہ وہ زمین کے راستے دہشت گردوں کو ہندوستانی علاقوں میں داخل کرنے میں کامیابی حاصل کر پائے  اور دہشت گرد جموں و کشمیر میں تخریبی کاروائیاں انجام دے کر دم توڑتی ہوئی ملیٹینسی کو ہوا دے سکے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے کی جا رہی تازہ مذموم کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی ۔ کیونکہ ہندوستان نے جموں کشمیر میں واقع تمام اہم تنصیبات پر ایسا سیکورٹی نظام نصب کر لیا ہے کہ جس سے ڈرون حملوں کو بروقت ناکام بنایا جائے گا۔


واضح رہے کہ 27 جون کو پاکستان کی ایما پر  جموں کے ایئر فورس اسٹیشن پر ڈرون کے ذریعہ کم شدت والے دو دھماکے کئے گئے تھے ، جس سے اسٹیشن کے احاطے میں موجود ایک عمارت کی چھت کو معمولی نقصان پہنچا تھا ۔ 28 جون کو جموں کے کالو چک سمیت دو علاقوں میں ڈرونز کی حرکت دیکھی گئی ، جن پر ہندوستان فوج نے فائرنگ کی اور ان کو واپس جانے پر مجبور کر دیا گیا ۔ 29 جون یعنی منگل کو ان ہی علاقوں میں صبح سویرے 3 ڈرون اڑتے ہوئے دیکھے گئے جبکہ 30 جون کو کنجوانی ، میران صاحب اور کالو چک علاقوں میں صبح کے وقت مزید 3 ڈرونز کی حرکت دیکھی گئی ۔

دریں اثنا جہاں این آئی اے 27 جون کو ہوئے ڈرون حملے کی تحقیقات میں مصرف ہے وہیں جموں شہر اور دیگر علاقوں میں قائم تمام اہم تنصیبات کے آس پاس سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 30, 2021 09:06 PM IST