உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جموں وکشمیر: ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ معاملہ، طالبان نے واضح کیا اپنا موقف

    سیکورٹی ایجنسیوں نے کہا کہ کشمیر میں سیکورٹی بڑھائی جائے گی۔ حالانکہ صورتحال کنٹرول میں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے گروپوں کے پاس موجودہ حالات کا اپنے حق میں فائدہ اٹھانے کی صلاحیت بہت کم ہے۔

    سیکورٹی ایجنسیوں نے کہا کہ کشمیر میں سیکورٹی بڑھائی جائے گی۔ حالانکہ صورتحال کنٹرول میں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے گروپوں کے پاس موجودہ حالات کا اپنے حق میں فائدہ اٹھانے کی صلاحیت بہت کم ہے۔

    سیکورٹی ایجنسیوں نے کہا کہ کشمیر میں سیکورٹی بڑھائی جائے گی۔ حالانکہ صورتحال کنٹرول میں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے گروپوں کے پاس موجودہ حالات کا اپنے حق میں فائدہ اٹھانے کی صلاحیت بہت کم ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان (Afghanistan) کے اقتدار میں قابض طالبان (Taliban) نے مسئلہ کشمیر (Kashmir) پر اپنا رخ واضح کیا ہے۔ طالبان نے کہا ہے کہ ’کشمیر‘، ہندوستان اور پاکستان (India-Pakistan) کا دوطرفہ معاملہ ہے۔ یہ داخلی موضوع ہے‘۔ نیوزی ایجنسی اے این آئی کے مطابق، ’طالبان نے کہا کہ اس کا دھیان کشمیر پر نہیں ہے‘۔ دوسری جانب، سیکورٹی ایجنسیوں نے کہا کہ کشمیر میں سیکورٹی بڑھائی جائے گی۔ حالانکہ صورتحال کنٹرول میں ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے گروپوں کے پاس موجودہ حالات کا اپنے حق میں فائدہ اٹھانے کی صلاحیت بہت کم ہے۔ طالبان اتوار کو کابل میں گھسے اور افغانستان پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔ اتنا ہی نہیں صدر اشرف غنی ملک سے فرار ہوگئے۔

      دوسری جانب افسران نے کہا کہ موجودہ حالات سے ہندوستان کی سیکورٹی کے لئے خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ کیونکہ لشکر طیبہ اور لشکر جھانگوی جیسے پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کی افغانستان میں تھوڑی موجودگی ہے۔ اے این آئی کے مطابق، ’انہوں نے طالبان کے ساتھ کچھ گاوں اور کابل کے کچھ حصوں میں چیک پوسٹ بنائے ہیں‘۔

      افسر نے کہا کہ ’سیکورٹی سے متعلق تشویش اس لئے بھی ہے کہ افغانستان اسلامک دہشت گردی کا پہلا مرکز بن سکتا ہے‘۔ ایک افسر نے کہا- ’ان کے پاس ان سبھی ہتھیاروں تک پہنچ ہے، جو امریکیوں نے دیا ہے اور تین لاکھ سے زیادہ افغان فوج کے جوانوں کے ہتھیار بھی ہیں‘۔

      کمزور طالبان کو متاثر کرسکتا ہے آئی ایس آئی

      موجودہ حالات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی طالبان کو متاثر کرنے کی کوشش کرے گی، لیکن اس کا اثر کم ہوگا۔ ایک افسر نے کہا- اس کا بہت کم اثر ہوگا، کیونکہ طالبان نے طاقت کے ساتھ اقتدار حاصل کرلی ہے۔ آئی ایس آئی صرف کمزور طالبان کو متاثر کرسکتا ہے۔ موجودہ حالات میں طالبان کو متاثر کرنے کی صلاحیت کم ہی ہے۔ افسر نے مزید کہا کہ افغانستان میں پاکستانی تنظیموں کے کیمپ ہیں اور ہندوستان کو جموں وکشمیر میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: