உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان اصلی شریعہ قانون پر عمل کرے، دنیا کے لئے نظیر بن جائے گا: محبوبہ مفتی

    طالبان اصلی شریعہ قانون پر عمل، دنیا کے لئے نظیر بن جائے گا: محبوبہ مفتی

    طالبان اصلی شریعہ قانون پر عمل، دنیا کے لئے نظیر بن جائے گا: محبوبہ مفتی

    جموں وکشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ طالبان اب ایک حقیقت کے طور پر ابھر چکا ہے اور اسے افغانستان پر حقیقی شرعیہ قانون کے مطابق حکومت کرنی چاہئے، جہاں بچوں، خواتین اور دیگر کو حقوق حاصل ہوں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:

      سری نگر: پیپلزڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی (Mehbooba Mufti) نے کہا ہے کہ طالبان اب ایک حقیقت کے طور پر ابھر چکا ہے اور اسے افغانستان پر حقیقی شرعیہ قانون کے مطابق حکومت کرنی چاہئے، جہاں بچوں، خواتین اور دیگر کو حقوق حاصل ہوں۔ محبوبہ مفتی نے بدھ کے روزکولگام میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرنے کے بعد صحافیوں سے کہا،’میرا ماننا ہے کہ اب طالبان ایک حقیقت کے طور پر ابھر رہا ہے اور ان کی پہلی شبیہ انسانیت اور انسانی حقوق مخالف تھی۔ اب وہ اقتدار میں آگئے ہیں اور اگر وہ افغانستان میں حکومت کرنا چاہتے ہیں تو انھیں حقیقی شرعیہ قانون پر عمل درآمد کرنا چاہئے، جو اصلاً قرآن میں ہیں۔ ان میں خواتین بچوں، بزرگوں اور دیگر لوگوں کے حقوق شامل ہیں‘۔


      محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگر طالبان حقیقی شرعیہ قانون کو نافذ کرتے ہیں تو پوری دنیا کے سامنے ایک مثال بن جائیں گے لیکن اگر انہوں نے وہی کیا جو 1990 کی دہائی میں کیا تھا تو یہ نہ صرف افغانستان بلکہ پوری دنیا کے لیے مشکل ہو جائے گا۔ ان کا یہ بیان سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انھیں امید ہے کہ طالبان گڈ گورننس مہیا کرے گا اور انسانی حقوق کا احترام کرے گا۔


      کابل پر قبضے کے 22 دن بعد حکومت کا اعلان

      دراصل طالبان نے گزشتہ 15 اگست کو کابل پر قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے حکومت کو لے کر غوروخوض جاری تھا۔ تنظیم کے ترجمان سہیل شاہین نے نیوز 18 سے بات چیت میں کہا تھا کہ ہم حکومت میں سبھی کا تعاون چاہتے ہیں، اسی لئے تاخیر ہو رہی ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے مانا جا رہا تھا کہ اب تنظیم کبھی بھی نئی حکومت کا اعلان کرسکتی ہے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: