உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشمیر میں ملی ٹینٹوں کی طرف سے پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ، جانئے اس کو لے کر کیا کہتے ہیں مبصرین

    کشمیر میں ملی ٹینٹوں کی طرف سے پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ، جانئے اس کو لے کر کیا کہتے ہیں مبصرین

    کشمیر میں ملی ٹینٹوں کی طرف سے پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ ، جانئے اس کو لے کر کیا کہتے ہیں مبصرین

    Jammu and Kashmir News : جموں وکشمیر پولیس کے اہلکاروں پر ملی ٹینٹنوں کی جانب سے کئے جانے والے ایسے حملوں کی سیاسی جماعتوں اور لیڈران نے مذمت کی ہے اور ایل جی انتظامیہ کی طرف سے ان جرائم میں ملوث ملی ٹینٹنوں کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی جارہی ہے ۔ تاہم دفاعی ماہرین ٹارگٹ کلنگ کے اس رجحان کو تشویش ناک صورتحال سے تعبیر کررہے ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    جموں و کشمیر : کشمیر وادی میں کچھ عرصے سے ملی ٹینٹنوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اسی طرح کے ایک واقعہ میں جمعہ کے روز ملی ٹینٹنوں نے جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں ونپوہ کے مقام پر بنٹو جی شرما نامی ایک پولیس اہلکار پرقریب سے گولیاں چلائیں ، جس کے نتیجے میں موقع پر ہی ان کی موت ہوگئی۔ یہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے جب ملی ٹینٹنوں نے جموں وکشمیر کے پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ انجام دی ۔ رواں ماہ کی بارہ تاریخ کو سرینگر کے خانیار علاقے میں ملی ٹینٹنوں نے ایک پربشنیری سب انسپکٹر ارشد احمد پر نزدیک سے گولیاں چلائیں ، جس کے نتیجہ میں پولیس افسر بری طرح زخمی ہوگئے اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لا کر اسپتال میں دم توڑ بیٹھے ۔ اگرچہ پولیس نے ان دونوں معاملات میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے تاہم وہ ابھی تک قصور واروں کو گرفتار نہیں کرپائی۔

    جموں وکشمیر پولیس کے اہلکاروں پر ملی ٹینٹنوں کی جانب سے کئے جانے والے ایسے حملوں کی سیاسی جماعتوں اور لیڈران نے مذمت کی ہے اور ایل جی انتظامیہ کی طرف سے ان جرائم میں ملوث ملی ٹینٹنوں کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی کرائی جارہی ہے ۔ تاہم دفاعی ماہرین ٹارگٹ کلنگ کے اس رجحان کو تشویش ناک صورتحال سے تعبیر کررہے ہیں ۔ جموں وکشمیر کے سابق ڈائریکٹر جنرل پولیس ایس پی وید کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ملی ٹینٹنٹ کمانڈروں کے مارے جانے کے بعد ملی ٹنٹ تنظیمیں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنا کر جموں وکشمیر پولیس اہلکاروں کے حوصلے پست کرنے کی ناکام کوشش کررہی ہیں ۔

    نیوز18 اردو کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ایس پی وید نے کہا کہ چونکہ ملی ٹینٹنوں کے خلاف پچانوے فیصد آپریشن جموں وکشمیر پولیس انجام دیتی ہے ۔ لہٰذا ملی ٹینٹنوں کی کوشش ہے کہ وہ پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کرکے سیکورٹی فورسیز کے حوصلے کو پست کرے ، جو ناممکن ہے ۔ کیونکہ جموں وکشمیر پولیس انیس سو نوے سے ہی ملی ٹینٹنوں کے خلاف نبردآزما ہے اور کئی شہادتوں کے باوجود جموں و کشمیر پولیس ملی ٹینٹنوں کے خلاف کارآمد آپریشن کرنے میں کامیاب رہی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ ایس پی وید نے کہا کہ اگر چہ کشمیر وادی میں ملی ٹینٹنوں کی سرگرمیوں میں کمی درج کی گئی ہے ۔ تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ چوکسی میں نرمی برتی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں کو ایس او پیز پر سختی سے عمل پیرا رہنے کی ضرورت ہے ۔ ان کے مطابق موجودہ حالات کے تناظر میں لازمی ہے کہ پولیسں اہلکار اکیلے اپنے علاقے میں گشت پر نکلنے کی بجائے ایس او پیز کے عین مطابق کم سے کم مزید تین اہلکاروں کے ہمراہ اپنی ڈیوٹی انجام دیں ۔ تاکہ ٹارگٹ کلنگ کے ممکنہ حملے کے وقت یہ اہلکار حملہ آور پر حاوی ہو کر اس کی مذموم کوشش کو ناکام بنا سکیں ۔ ایس پی وید نے کہا کہ پولیس انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ ضلع ، زونل اور تھانہ سطح پر خصوصی پولیس دربار منعقد کروائے اور دوران تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کو ڈیوٹی انجام دیتے وقت ضروری ایس او پیز کے بارے میں تفصیلی جانکاری فراہم کی جائے ۔ تاکہ پولیس عام لوگوں کی خدمات انجام دینے کے دوران ملی ٹینٹنوں کے اس طرح کے حملوں کو ناکام بناسکیں ۔

    سلامتی امور کے ماہر ریٹائرڈ کپٹن انل گور کا کہنا ہے کہ پاکستان جموں وکشمیر میں ملی ٹینٹنوں کی سرگرمیوں میں کمی واقع ہونے سے مایوس ہوچکا ہے ۔ نیوز18 اردو کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انل گور نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہونے سے پاکستان کی سرکار اور آئی ایس آئی کی کوششں ہے کہ وہ یوٹی میں امن و قانون کی صورتحال میں بگاڑ پیدا کرے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر بالخصوص کشمیر وادی کے اندر انٹلی جنس ایجنسیز کو مزید متحرک کرنے کی ضرورت ہے ۔ تاکہ ملی ٹینٹنوں کی اس طرح کی کارروائیوں کو بروقت ناکام بنایا جاسکے۔

    کپٹن انل گور نے کہا کہ رواں برس کے دوران ملی ٹینٹوں کے خلاف پولیس کی کامیاب کاروائیوں سے ملی ٹینٹ تنظیمیں بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہیں ۔ لہذا وہ اپنی موجودگی کا احساس دلانے کے لیے نہتے پولیس اہلکاروں اور عام لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ انجام دے رہی ہیں ۔ ٹارگٹ کلنگ جیسے حملوں کو ناکام بنائے جانے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کیپٹن گور نے کہا سرکار کو چاہئے کہ وہ ملی ٹینٹ تنظیموں سے وابستہ بالائی ورکروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف کارروائی کرے۔ ان کا ماننا ہے کہ اوور گراؤنڈ ورکر ہی پولیس اہلکاروں کی نقل و حرکت کے بارے میں ملی ٹینٹوں کو اطلاعات فراہم کرتے ہیں ، جس کے بعد اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں ۔

    انل گور نے کہا کہ پولیس افسران اور دیگر اہلکاروں کو مزید چوکسی برتنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ ایسا اکثر دیکھا گیا ہے کہ پولیس اہلکار ایس او پیز کو نظر انداز کرکے اکیلے ہی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں اور ملی ٹینٹ اس موقع کا فائدہ اٹھاکر انہیں نشانہ بناتے ہیں ۔ موجودہ صورتحال کے مد نظر اب یہ دیکھنا ہوگا کہ ملی ٹینٹوں کی طرف سے اپنائی جارہی اس حکمت عملی کو ناکام بنانے کیلئے پولیس انتظامیہ اس طرح کے اقدامات کرتی ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: